اسرائیل کا مجوزہ پلان بی

آج نہ صرف فلسطینی غزہ اور ممکنہ طور پر مغربی کنارے سے اپنے بڑے پیمانے پر بے دخلی کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں بلکہ وہ پڑوسی ممالک جن پر اسرائیل ان کی میزبانی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، وہ بھی سخت مزاحمت کر رہے ہیں۔

فاران: 1950ء میں اقوام متحدہ نے ہزاروں فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے نکال کر جزیرہ نمائے سینا میں آباد کرنے کی تجویز دی تھی۔ اس تجویز کو فلسطینی مہاجرین کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر اسے ترک کر دیا گیا۔ جزیرہ نمائے سینا مصر کا وہ واحد علاقہ ہے، جو ایشیاء میں موجود ہے۔ یہ شمال میں بحیرہ روم اور جنوب میں بحیرہ احمر کے درمیان ہے اور ایشیاء اور افریقہ کے درمیان ایک زمینی پل ہے۔ جزیرہ نمائے سینا کا رقبہ تقریباً 60,000 مربع کلومیٹر ہے۔ اس جزیرے کی کل آبادی تقریباً چھے لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

اسرائیلی انٹیلی جنس کی طرف سے تیار کردہ ایک دستاویز اکتوبر کے آخر میں اسرائیلی پریس کو لیک ہوئی تھی یا جان بوجھ کر کی گئی تھی، جس میں غزہ کے 2.3 ملین فلسطینی باشندوں کی مصر کے جزیرہ نمائے سینا میں زبردستی اور مستقل منتقلی کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔ یہ دستاویز مبینہ طور پر دی یونٹ فار سیٹلمنٹ – غزہ سٹرپ کے نام سے ایک تنظیم کے لیے بنائی گئی تھی، جو اسرائیلی فوجیوں اور آباد کاروں کے انخلاء کے 18 سال بعد غزہ کی پٹی کو دوبارہ آباد کرنا چاہتی ہے۔ تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ 1948ء نہیں ہے۔ آج شہروں اور دیہاتوں کا صفایا کرنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے، جتنا 75 سال قبل اسرائیلی ملیشیا کے ہاتھوں فلسطینی آبادی کے ایک بڑے حصے کو اس کے وطن سے بے دخل کرنا تھا۔ آج میڈیا کی پہنچ بہت وسیع ہے، جو اس وقت نہ تھی۔

اس لیے اسرائیلی حکام نے پلان بی تیار کر رکھا ہے اور وہ ہے: “ہزاروں ٹن بم گرا کر غزہ کی پٹی کو ناقابلِ رہائش بنانا۔” پلان بی کو غزہ میں بنیادی شہری ڈھانچے، جو شہری زندگی کو تحفظ فراہم کرتا ہے، اس کو نشانہ بنا کر قابل عمل بنایا جا رہا ہے، جس میں اسکول، یونیورسٹیاں، اسپتال، بیکریاں، دکانیں، کھیتی، گرین ہاؤسز، واٹر اسٹیشن، سیوریج سسٹم، پاور اسٹیشن، سولر پینلز اور جنریٹرز شامل ہیں۔ طلبہ سے خالی الاقصیٰ یونیورسٹی، الازہر یونیورسٹی تباہ و برباد کی جاچکی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں بنیادی ڈھانچے ختم ہوچکے ہیں۔ اب شمالی غزہ میں رہنا کسی ایسے دیہات میں رہنے کے مترادف ہے، جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں۔ یہ غزہ کے مکمل محاصرے کے متوازی کیا گیا ہے، جس کے تحت خوراک، پانی، بجلی اور ادویات منقطع کر دی گئی ہیں۔

اسرائیلی فوج غزہ میں ایک دن میں چند ٹرکوں کو جانے دیتی ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ امداد فلسطینی آبادی کی تمام ضروریات کو پورا نہیں کر رہی، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت 1.8 ملین شہری اندرونی طور پر بے گھر ہوچکے ہیں۔ غزہ کے باسیوں کو بقا کے دہانے پر دھکیل دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر وبائی امراض کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے۔ اسرائیلی اس قدر گر چکے ہیں کہ وباء کے پھیلنے کو اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔ اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کی سابق سربراہ جیورا آئلینڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ: “غزہ کی پٹی کے جنوب میں شدید وبائی امراض فتح کو قریب لائیں گی۔”

اسرائیلیوں کے خیال میں ایک بار جب غزہ کی پٹی ناقابل رہائش ہو جائے گی اور آبادی کے پاس رضاکارانہ طور پر نکل جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا تو، اگلا قدم اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ پڑوسی ممالک، سب سے پہلے مصر، انھیں قبول کریں۔ یہ بات اسرائیل کی کئی اہم شخصیات نے واضح کی ہے، جن میں خفیہ ایجنسی موساد کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر رام بن بارک بھی شامل ہیں۔ عبرانی میں ایک ٹویٹ میں، بین باراک نے کہا کہ “دنیا کے ممالک کو بین الاقوامی اتحاد اور فنڈ بنانا چاہیئے، جو غزہ چھوڑ کر جانے والوں کو شہریت کے حصول کے ذریعے دیگر ممالک میں ضم ہونے کی اجازت دے۔”

آج نہ صرف فلسطینی غزہ اور ممکنہ طور پر مغربی کنارے سے اپنے بڑے پیمانے پر بے دخلی کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں بلکہ وہ پڑوسی ممالک جن پر اسرائیل ان کی میزبانی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، وہ بھی سخت مزاحمت کر رہے ہیں۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے “فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کرنے” کو بارہا اور واضح طور پر مسترد کیا ہے۔ وہ اپنے پیش رووں کی طرح فلسطینیوں کو ایک سکیورٹی رسک کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر فلسطینیوں کو سینا کی جانب دھکیل دیا گیا تو ممکن ہے کہ یہ جزیرہ نمائے سینا فلسطینی جنگجوؤں کے لیے کارروائیوں کا اڈہ بن جائے گا، جو مصر کو ایک اور جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔

اردن بھی مغربی کنارے سے فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے نکالے جانے سے پریشان ہے اور شاہ عبداللہ اور ان کی حکومت نے اپنی مخالفت واضح کر دی ہے۔ اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے ایک بیان میں کہا: “جو کچھ آپ (اسرائیلی حکام) چاہتے ہیں کریں۔ جائیں، غزہ کو تباہ کر دیں۔ آپ کو کوئی نہیں روک رہا، جب آپ اپنا کام کر لیں گے تو ہم آپ کی گندگی کو صاف نہیں کریں گے۔” یہی وجہ ہے کہ آج، مزاحمت پہلے سے زیادہ شدید ہے۔ فلسطینی اپنی سرزمین پر رہنا چاہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ “عارضی” کا کیا مطلب ہے، وہ جانتے ہیں کہ ایک مرتبہ انخلاء کے بعد ان کے پاس “واپسی کا کوئی حق” نہیں ہوگا۔