اسرائیل کا نابلس میں فیلڈ اور انٹیلی جنس ناکامی کا اعتراف
فاران: قابض صہیونی فوج نے اعتراف کیا کہ اس کی افواج گذشتہ روز نابلس کے مشرق میں واقع مزار یوسف کے علاقے میں آباد کار گروپوں کے حملے کو محفوظ بنانے کے دوران انٹیلی جنس اور فیلڈ رہ نمائی میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔
قابض فوج نے اعلان کیا ہے کہ مزار پر دھاوا بولنے کے واقعے کے بعد نابلس کے علاقے کے کمانڈر اور مزاحمت کاروں کے ہاتھوں دو آباد کاروں کے زخمی ہونے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
قابض فوج کی جانب سے کی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق مزاحمتی گروپوں نے مزار کے قریب پہنچ کر آباد کاروں اور قابض فوجیوں پر براہ راست فائرنگ کی۔
عبرانی ویب سائٹس کی طرف سے شائع کردہ ویڈیو کلپس میں آباد کاروں کے گروہوں کو مزار کے اندر براہ راست گولیوں سے نشانہ بنانے کے بعد فرار ہوتے دکھایا گیا ہے۔
ابتدائی اسرائیلی تحقیقات نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض فوجی شوٹنگ کے مقامات کا پتہ لگانے میں ناکام رہے کیونکہ انٹیلی جنس سروسز دھاوے سے پہلے میدان کے بارے میں مناسب معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔
نابلس بریگیڈ نے اعلان کیا کہ فوج اور مزاحمت کارون کے درمیان پُرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں انہیں براہ راست جانی نقصان پہنچا ہے۔













تبصرہ کریں