اسرائیل کے سابق وزیراعظم کا انتباہ
فاران: اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے جمعہ کے روز اسرائیلی اخبار Haaretz میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا ہے، جس لمحے سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ اس جنگ کا اصل ہدف حماس کی تباہی ہے، اس وقت سے حماس کی مکمل تباہی کے حصول کے امکانات معدوم ہوگئے۔ اولمرٹ نے لکھا ہے کہ حتیٰ اس وقت بھی اس مسئلے کے بارے میں سوچنے والے ہر شخص پر یہ بات واضح تھی کہ غزہ پٹی کے علاوہ دیگر حالات میں بھی حماس کی مکمل تباہی صرف ایک ناقابل عمل عسکری خواہش ہی ہوسکتی ہے۔
اولمرٹ نے نشاندہی کی کہ 7 اکتوبر سے پہلے جو انٹیلی جنس رپورٹس ہمارے پاس تھیں، وہ یہ سمجھنے کے لیے کافی تھیں کہ غزہ پٹی میں سرنگوں کا ایک جدید نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے۔ اولمرٹ نے مزید کہا کہ “2014ء کی جنگ میں ہمیں جارحانہ سرنگوں سے جو تکلیف اٹھانی پڑی، وہ ہمارے لیے یہ جاننے کے لیے کافی تھی کہ سرنگوں کا نیٹ ورک ایک تیز اور فیصلہ کن فوجی کارروائی کو روک سکتا ہے۔ زیادہ سازگار حالات میں بھی حماس کو تباہ کرنا مشکل ہے، کجا سرنگوں کے پیچیدہ نیٹ ورک کی موجودگی میں۔”
اسرائیل کے سابق وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔ اولمرٹ کا یہ بھی ماننا ہے کہ نیتن یاہو کو قدرتی طور پر شروع سے ہی احساس ہوگیا تھا کہ اس کی باتیں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں اور بالآخر فوجی اور انسانی حقیقت کے سامنے منہدم ہو جائیں گی اور یہ اقدام اسرائیل کو موجودہ حملے میں آخری مقام تک پہنچنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ اولمرٹ نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس کو قبول کرلینا چاہیئے کہ حماس کی شکست ابھی تک پہنچ سے دور ہے اور ہم اس مقام تک بھی نہیں پہنچے، جہاں 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے موقع پر تھے۔ اس وقت ٹائم لائن پر ہمارا کنٹرول تھا لیکن اب نہیں ہے۔
اولمرٹ نے مارے جانے والے فوجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں تباہی کے دردناک مناظر کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم عالمی حمایت کھو رہے ہیں۔ غزہ کے حالات نے اسرائیل پر اپنا سایہ ڈالا ہوا ہے۔ ہم اس حمایت کو کھو رہے ہیں، جس کا مشاہدہ زیادہ تر دوست ممالک میں کیا جاسکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اور مشکل حالات ہمارے منتظر ہیں۔ اولمرٹ نے یہ سوال اٹھایا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟ مجھے یقین ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کرے۔ ہاں، جنگ ختم ہونی چاہیئے اور اس وقت اسرائیل کو اپنے قیدیوں کو مردہ یا زندہ واپس لوٹانا چاہیئے۔
اولمرٹ نے مزید کہا کہ اگر ہم انتظار کریں تو زیادہ وقت نہیں لگے گا کہ ہم صرف مردہ لوگوں (اسیروں) کو ہی واپس لے سکیں گے اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔ دوسری جانب اسرائیل کے پاس حماس کے ان تمام قیدیوں کو رہا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا جو اسرائیل میں نظربند ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر اسیروں کی واپسی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تو تبادلے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
اولمرٹ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو بغیر کسی شک و شبہ اور کسی بھی طرح کے سیاسی حساب کتاب کو خاطر میں لائے بغیر Knesset (صیہونی حکومت کی پارلیمنٹ) کے آئندہ کے اجلاسوں میں اس بارے میں ٹھوس موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ تنازع کا اگلا مرحلہ فوری طور پر دشمنی کو روکنا اور اسیران (مردہ یا زندہ) کی واپسی نیز غزہ کے مستقبل کے بارے میں مصری ثالثی کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا ہے.













تبصرہ کریں