امریکہ کے خلاف سہ فریقی اتحاد/ امریکی زوال نمایاں
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: معاشی لحاظ سے چین کی مسلّمہ طاقت، فوجی لحاظ سے روس کی عظیم طاقت اور علاقائی لحاظ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی ناقابل انکار طاقت، ان تین ممالک کے درمیان قربت اور طاقت کا نیا مثلث بننے کا باعث ہے، اور یہ نیا مثلث مغرب کے دوبار ابھر آنے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہؤا ہے۔
کثیر جہتی سفارتکاری اور قومی مفادات کے زیادہ سے زیادہ حصول کی غرض سے دوسرے ممالک کے ساتھ رابطے میں توازن جیسے مفاہیم وہی مسئلہ ہے جس پر اسلامی جمہوریہ ایران ابتداء ہی سے زور دیتا رہا ہے۔
آیت اللہ ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کی سربراہی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی تیرہویں حکومت کے نقشۂ راہ میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ یہ حکومت دنیا بھر میں اپنے قومی مفادات اور قومی سلامتی کے حصول اور تحفظ کے لئے، اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے چنانچہ اس نے کثیر جہتیت کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔ چونکہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکی یَک رُخے نِظام (Unilateralism) کا شدید مخالف ہے، چنانچہ اس نے محاذ مزاحمت کو تقویت پہنچا کر ایسے حالات پیدا کئے کہ امریکہ مغربی ایشیا میں اپنے عزائم حاصل کرنے اور مغربی ایشیائی ممالک کے حصے بخرے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے مختلف جغرافیائی خطوں کے ساتھ تعلقات استوار کرکے اور دوسرے ممالک کے ساتھ مثبت تعامل بحال کرکے امریکہ اور مغرب کے یک رخے نظام پر ضرب لگانے کی کوشش کی ہے تاکہ کثیر جہتی عالمی نظام کے لئے راستہ ہموار ہو سکے۔ چنانچہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور برکس (BRICS) جیسی تنظیموں میں تعاون کا آغاز کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل میں اپنی پوزیشن کی رو سے، چند جہتی عالمی نظام کے لئے ضروری کوششیں عمل میں لاتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ فی الحال امریکی یک قطبیت کے مقابلے میں طاقت کے دو اہم محور، چین اور روس ہیں۔
امریکی قومی سلامتی کی دستاویز کی رو سے یہ دو ممالک امریکی حرص اور ہوسناکیوں کے دو اصلی دشمن ہیں۔ چنانچہ ان دو ملکوں سے ایران کی قربت بالکل ایک فطری عمل ہے۔ لائق توجہ ہے کہ دنیا کے ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات نے حالیہ دو برسوں کے دوران نئی شکل اختیار کی ہے؛ اس نے چین اور روس کے ساتھ مختلف ممالک میں فوجی تعاون بڑھایا ہے، اور یہ تعاون کامیابی بحری فوجی مشقوں کے انعقاد پر منتج ہؤا ہے اور یوں ایران نے روس اور چین کے ساتھ مل کر امریکہ کو یک قطبی عالمی نظام کے خاتمے اور چند قطبی نظام کے آغاز کا پیغام دیا ہے۔ یہ سلسلہ مختلف شعبوں میں جاری ہے اور کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام کی راہ میں ایران کے سیاسی حکام کی کوششیں نمایاں ہیں۔
امریکیوں کو قبول کرنا پڑے گا کہ – بالخصوص مغربی ایشیا [یا مشرق وسطیٰ] میں – یک قطبی نظام کے عنوان سے، کوئی بھی بات بے معنی ہے اور امریکہ سمیت مغربی ممالک اگر اس علاقے میں سرگرم عمل ہونا چاہتے ہیں تو وہ یک قطبی عالمی نظام کا تصور ہمیشہ کے لئے بھول جائیں اور کثیر قطبی نظام کو تسلیم کریں۔ مغرب – خواہ امریکہ ہو خواہ یورپ – اس زوال و انحطاط کے دور سے گذر رہا ہے اور یہ مسئلہ یوکرین کے بحران کے بعد پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔ چنانچہ انہیں اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونا چاہئے کہ یک قطبی اور یک رخے نظام کا قصہ، پارینہ ہو چکا ہے۔ معاشی لحاظ سے چین کی مسلّمہ طاقت، فوجی لحاظ سے روس کی عظیم طاقت اور علاقائی لحاظ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی ناقابل انکار طاقت، ان تین ممالک کے درمیان قربت اور طاقت کا نیا مثلث بننے کا باعث ہوئی ہے، اور یہ نیا مثلث مغرب کے دوبار ابھر آنے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہؤا ہے۔
علاوہ ازیں دنیا کے زیادہ تر ممالک امریکہ کے ڈسے ہوئے ہیں اور وہ امریکہ کے یک رخے عالمی نظام کے خلاف ہیں اور وہ یکے بعد دیگرے عالمی نظام کے اس نئے مثلث سے آ ملیں گے۔ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم عالمی سیاست اور سلامتی کا ایک نیا قطب متعارف کرانے کی صلاحیت رکھتی ہے، چنانچہ امریکی بہت زیادہ پریشان ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ خود ہی اس نئے قطب کے معرض وجود میں آنے کا سبب ہیں کیونکہ وہ یک رخے عالمی نظام پر اصرار کر رہے ہیں اور اب بھی غلطی سے، سمجھتے ہیں کہ دنیا کا انتظام ان ہی کی مرضی کے مطابق ہونا چاہئے۔ جس کی نہ وہ حال حاضر میں صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی دنیا ان کا تسلط ماننے کی روادار ہے۔
امریکی یک رخے نظام کو پیچھے چھوڑنے کے لئے طے ہونے والے راستے کے آغاز پر لاطینی امریکہ اور ایشیا کے ممالک کے ساتھ اپنے رشتوں کو تقویت دینا، دنیا کے موجودہ نظام کے نظم و نسق کے لئے ضروری ہے۔ یہ مسئلہ اس قدر سنجیدہ ہے کہ حتیٰ کہ بعض یورپی ممالک نے، یوکرین کی جنگ کے حوالے سے، امریکہ کی یکطرفہ [مسلط کردہ] پالیسیوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار اور کیا ہے اور امریکیوں کی رویوں پر تنقید کی ہے۔ اور مغربی ایشیا میں امریکہ کے عرب اتحادیوں نے بھی چینی صدر کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کرکے اسی مثلث اور کثیر قطبی نظام کی طرف قدم اٹھایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: ڈاکٹر سید رضا صدر الحسینی













تبصرہ کریں