ایران کے خلاف مغرب کی ہائبرڈ وار

اسلامی جمہوریہ ایران نے اب تک ان تمام جارحانہ اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور بہت سے مقامات پر دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایران نے شدید اقتصادی پابندیوں کے باوجود میزائل ٹیکنالوجی اور جوہری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بہت تیزی سے ترقی کی ہے اور چند عشروں میں ان شعبوں میں خطے کا ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: اسلامی جمہوریہ ایران مشرق وسطی خطے اور بین الاقوامی سطح پر ایک موثر ملک ہونے کے ناطے ہمیشہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے مختلف قسم کے جارحانہ اقدامات سے روبرو رہا ہے۔ یہ اقدامات مختلف شعبوں میں انجام پاتے ہیں جو ہائبرڈ وار کے زمرے میں آتے ہیں۔ ہائبرڈ وار انتہائی پیچیدہ نوعیت کی جنگ ہے جو جدید دور میں عالمی سطح پر حکومتی اور غیر حکومتی کھلاڑیوں کی جانب سے ایکدوسرے کے خلاف بروئے کار لائی جاتی ہے۔ ایران کے دشمن ممالک بھی گذشتہ ایک عرصے سے اس کے خلاف ہائبرڈ وار کے ہتھکنڈے استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای بھی بارہا اس جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھکنڈوں کو پہچاننے اور ان سے مقابلے کیلئے موثر اقدامات انجام دینے پر زور دے چکے ہیں۔

ہائبرڈ وار کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ محض فوجی میدان تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس میں اقتصادی، سیاسی، سکیورٹی، میڈیا اور سفارتی شعبے میں شامل ہوتے ہیں۔ لہذا ان تمام شعبوں میں دشمن ملک کے خلاف اقدامات انجام دیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں رہبر معظم انقلاب نے فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے اس بارے میں فرمایا: “ہم ہمیشہ ہائبرڈ وار پر مشتمل ہتھکنڈوں کے مقابلے میں دفاعی پوزیشن میں باقی نہیں رہ سکتے اور ہمیں بھی اس میدان میں جارحانہ اقدامات انجام دینے چاہئیں۔ ہمیں بھی مختلف شعبوں جیسے میڈیا، سکیورٹی اور اقتصادی شعبوں میں دشمن کے خلاف جارحانہ اقدامات انجام دینے کی ضرورت ہے۔” آج کسی بھی ملک کی قومی سلامتی کا ایک اہم حصہ ہائبرڈ وار پر مشتمل ہتھکنڈوں کی پہچان اور ان سے مقابلے کیلئے دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے پر استوار ہے۔

ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی امریکہ نے ایران کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کر لی تھی۔ طبس میں فوجی کاروائی، نوژے کی بغاوت، ایران کے خلاف 8 سالہ جنگ تھونپنا، ایران کا مسافر بردار ہوائی جہاز تباہ کرنا، انقلاب مخالف قوتوں کو منظم کر کے انہیں ہر قسم کی مدد اور حمایت فراہم کرنا، ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی الزامات عائد کرنا، دہشت گردی اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنا، ایران پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کرنا، ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنا، ایران فوبیا پھیلانا، ایران کو شرارت کا مرکز قرار دینا، عالمی اداروں میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنا، ایران کے اثاثے منجمد کر دینا، ایران کے سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ، ایران کے خلاف وسیع جاسوسی اقدامات وغیرہ چند مثالیں ہیں۔

مذکورہ بالا ان اقدامات کا بنیادی مقصد ایران کے اسلامی نظام کو کمزور کرنا، ایرانی عوام کو حکومتی نظام سے بدبین کرنا، حکمفرما نظام سے ایران عوام کا اعتماد ختم کرنا اور ایرانی عوام کی سوچ کو مغربی طاقتوں کی پالیسیوں اور اقدامات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ گذشتہ چالیس برس کے دوران امریکہ نے ایران کے خلاف ایسی ہائبرڈ وار شروع کر رکھی ہے جو سیاسی، اقتصادی، میڈیا اور سفارتی شعبوں میں جاری ہے۔ ایران کے اندر بدامنی پھیلانے کی کوشش اور ایران کے خلاف اقتصادی، نفسیاتی، سائبر اور انٹیلی جنس جنگ کا آغاز اس کی چند مثالیں ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے سیاسی اور سفارتی میدان میں بھی بھرپور اقدامات انجام دیے ہیں جن کی ایک مثال ایران کے ہمسایہ ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی تعمیر ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے ایران کے خلاف فوجی اقدامات بھی انجام دیے ہیں۔ ان میں ایران کی حدود میں جاسوسی طیاروں کی پروازیں، 21 ستمبر 1987ء کے دن ایران کی فوجی کشتی “ارج” کو نشانہ بنا کر تین ایرانی نیوی افسروں کو شہید کرنا، ایران کے مسافر بردار ہوائی جہاز کو نشانہ بنا کر 290 ایرانی شہریوں کو شہید کر دینا وغیرہ شامل ہیں۔ حالیہ چند برس میں امریکہ کا پورا زور ایران کے خلاف اقتصادی جنگ پر مرکوز رہا ہے۔ ویسے تو گذشتہ چالیس برس سے امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں لیکن جرج بش کے دور حکومت میں “مفلوج کر دینے والی پابندیاں” عائد کی گئیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں ایران کے خلاف “زیادہ سے زیادہ دباو” پر مبنی حکمت عملی بروئے کار لائی گئی۔ ایران کے خلاف ہائبرڈ وار کا ایک پہلو ایران کے جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ پر مشتمل ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے اب تک ان تمام جارحانہ اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور بہت سے مقامات پر دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایران نے شدید اقتصادی پابندیوں کے باوجود میزائل ٹیکنالوجی اور جوہری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بہت تیزی سے ترقی کی ہے اور چند عشروں میں ان شعبوں میں خطے کا ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔ ایران میں انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد امریکہ اور مغربی طاقتوں کی ایماء پر عراق نے ایران پر فوجی چڑھائی کر دی۔ یہ جنگ آٹھ برس تک جاری رہی جس دوران دنیا کی تمام طاقتیں عراق کی حمایت کرتی رہیں جبکہ ایران کے خلاف شدید ترین اقتصادی اور فوجی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ لیکن ایران نے ان تمام مشکلات کے باوجود اس جنگ میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کو بری طرح شکست سے دوچار کر دیا۔ دشمنوں کے خلاف ایران کی کامیابیوں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔