ایک تہائی صہیونیوں کا فوج پر جنگی تیاریوں پر عدم اطمینان کا اظہار

"سکیورٹی" صہیونی تحریک کی طرف سے کرائے گئے ایک سروے میں صیہونی آمادگی کی حد میں فرق ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ ایک یا تمام محاذوں پر ایک ساتھ جنگ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔

فاران: صہیونی رائے عامہ کے ایک نئے جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ ایک تہائی صہیونیوں کو یقین ہے کہ اسرائیلی فوج کئی محاذوں پر ہمہ گیر جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

“سکیورٹی” صہیونی تحریک کی طرف سے کرائے گئے ایک سروے میں صیہونی آمادگی کی حد میں فرق ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ ایک یا تمام محاذوں پر ایک ساتھ جنگ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔

سروے کے نتائج کے مطابق 32 فیصد صہیونیوں کا خیال ہے کہ ان کی فوج متعدد محاذوں پر جامع جنگ کے لیے مناسب طور پر تیار نہیں ہے، جب کہ اس کے برعکس 50 فیصد کا خیال ہے کہ فوج کی تیاری بہت زیادہ ہے۔

مغربی کنارے میں فائر کھولنے کے اقدامات کے حوالے سے 72 فیصد اسرائیلیوں کا خیال تھا کہ فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر فوج کو زیادہ تیزی سے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے طریقہ کار کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔

یہ “جلمہ” آپریشن کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو گذشتہ بدھ کی صبح سویرے جنین کے قریب ہوا تھا، جس میں ایک اسرائیلی افسر مارا گیا تھا، جس نے فلسطینیوں پر گولی چلانے کے اقدامات کے خلاف اسرائیلی رائے عامہ کو مشتعل کیا تھا۔