بن لادن اور جولانی: میڈیا کے بل پر بدلتے مکھوٹوں کا تجزیہ

جولانی اور بن لادن دو ایسی شخصیات ہیں جنہیں مغربی میڈیا نے مختلف زاویوں سے پیش کیا ہے۔ ان میں سے ایک کو کبھی صلح پسند مجاہد کے طور پر پیش کیا گیا، جو بعد میں خطرناک ترین دہشت گرد بن گیا، جبکہ دوسرے کو ایک دہشت گرد کے طور پر دکھایا گیا، لیکن اب اسے ایک رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: جولانی اور بن لادن دو ایسی شخصیات ہیں جنہیں مغربی میڈیا نے مختلف زاویوں سے پیش کیا ہے۔ ان میں سے ایک کو کبھی صلح پسند مجاہد کے طور پر پیش کیا گیا، جو بعد میں خطرناک ترین دہشت گرد بن گیا، جبکہ دوسرے کو ایک دہشت گرد کے طور پر دکھایا گیا، لیکن اب اسے ایک رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس برانڈنگ کے معیار کیا ہیں؟

مجاہد سے دہشت گرد تک

اسامہ بن لادن، القاعدہ کے سابق رہنما، ان نمایاں شخصیات میں سے ہیں جنہیں مغربی میڈیا نے دہائیوں کے دوران مختلف شکلوں میں پیش کیا۔ اگرچہ بن لادن کو زیادہ تر لوگ خطرناک دہشت گرد کے طور پر جانتے ہیں، لیکن ایک وقت تھا جب مغربی میڈیا لادن کو ایک صلح پسند مجاہد کے طور پر پیش کرتا تھا۔

جب تک بن لادن امریکہ کے ساتھ اور اس کے مفادات کے حق میں کام کر رہا تھا، اسے ایک صلح پسند مجاہد کے طور پر دکھایا گیا۔ لیکن جلد ہی میڈیا میں اس کا کردار تبدیل ہو گیا، اور اسے دنیا کے خطرناک ترین دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔

سال 1993 میں برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا: “سوویت مخالف جنگجو، اپنی فوج کو امن کے راستے پر ڈال رہا ہے”۔ اس مضمون میں بن لادن اور اس کی سرگرمیوں کی تعریف کی گئی۔ بن لادن کو ایک نرم دل ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا جو امن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مضمون کے مندرجات میں تھا:
“سعودی تاجر، جو مجاہدین کی حمایت کرتا تھا، اب انہیں سوڈان میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی منصوبوں کے لیے استعمال کر رہا ہے۔”

اس مضمون میں بن لادن کو ایک خیر خواہ شخصیت کے طور پر دکھایا گیا، اور اس کے انٹرویو میں یہ بات نمایاں کی گئی کہ سوویت یونین کے خلاف لڑائی، مسلمانوں کو بدحالی سے نجات دلانے کے لیے کی گئی۔
چند سال بعد، خاص طور پر 11 ستمبر کے واقعے کے بعد، یہی نیکی کرنے والا اسامہ بن لادن ایک ایسے دہشت گرد میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے امریکہ ہر دوسرے دہشت گرد سے زیادہ پکڑنا چاہتا تھا۔ اس میڈیا کے زور پر تبدیلی کا راز کیا ہے؟

 

جب تک امریکہ کے ساتھ ہو؛ ہیرو ہو!

اسامہ بن لادن اور اس کا گروہ سوویت یونین اور افغانستان کی جنگ کے دوران ابھرتے ہیں، جہاں وہ سوویت افواج کو نکالنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ سوویت یونین کا مقابلہ ایک مشترکہ مقصد تھا جس نے امریکہ اور بن لادن کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔

ایسی رپورٹس موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) نے بن لادن اور اس کے گروپ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے۔ اس کے علاوہ، ایسی رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ امریکہ نے بن لادن اور اس کے گروہ کو مالی مدد فراہم کی۔

اس جنگ کے خاتمے کے بعد، بن لادن سوڈان چلا گیا اور وہاں کے مختلف علاقوں میں تعمیراتی منصوبوں میں مصروف ہو گیا۔ جب تک بن لادن امریکی مفادات کے مطابق کام کرتا رہا، میڈیا کی حمایت جاری رہی۔ لیکن جب اس نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا اور امریکہ کے خلاف کھڑا ہو گیا، تو میڈیا کا رویہ بھی بدل گیا۔

اب وہ ایک دہشت گرد تھا

امریکہ نے بن لادن اور اس کے گروہ پر متعدد واقعات کا الزام عائد کیا، جن میں سب سے اہم 11 ستمبر کا واقعہ ہے۔

 

اس واقعے میں ایک طیارے کا نیویارک کے جڑواں ٹاورز سے ٹکرانا تقریباً 3000 افراد کی ہلاکت کا سبب بنا۔ یہ واقعہ امریکہ کے لیے ایک موقع بن گیا کہ وہ القاعدہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے مغربی ایشیا میں اپنا کردار اور موجودگی مضبوط کرے۔ یہ موجودگی آج تک برقرار ہے۔

11 ستمبر کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی گئی ہیں۔ کچھ لوگ اسے ایک منصوبہ بند سازش قرار دیتے ہیں جسے خود امریکیوں نے مغربی ایشیا میں لشکرکشیوں کے آغاز کے لیے ترتیب دیا۔

جب دہشت گرد نے سوٹ پہن لیا

ابومحمد الجولانی، جو کچھ عرصہ پہلے تک ایک ایسا دہشت گرد تھا جس کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر انعام مقرر تھا، اب میڈیا کی تشکیل کردہ تصویر میں ایک رہنما اور حاکم کے طور پر ظاہر ہو رہا ہے۔

مغربی میڈیا ان دنوں جولانی کے ساتھ مختلف انٹرویوز کے ذریعے اس کی “تبدیلی” کو نمایاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے ایک سفارتکار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

خود جولانی بھی اس ری برانڈنگ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ سابق دہشت گرد، جو اپنی زندگی کا بڑا حصہ “بھتہ خوری، اغوا یا تیل کی اسمگلنگ” میں گزار چکا ہے، اب ایک سفارتکار اور سوٹ بوٹ پہننے والے سیاستدان کے طور پر سامنے آ رہا ہے
جولانی اب یہاں تک کوشش کر رہا ہے کہ اپنے نام کو بھی بدل کر ماضی سے خود کو مختلف ظاہر کرے۔ وہ اپنے اصل نام “احمد الشرع” پر زور دیتا ہے تاکہ ہر لحاظ سے اپنے ماضی سے فاصلہ پیدا کرے۔

بی بی سی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں جولانی کو ایک جمہوریت پسند اور عوامی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس انٹرویو میں، جس کے سوالات یقیناً پہلے سے طے شدہ تھے، جولانی سے شام میں جمہوریت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس نے ایک سفارتکارانہ انداز میں مختصر جواب دیتے ہوئے کہا، “جی ہاں! ووٹ دینا عوام کا حق ہے۔”

میڈیا کا جولانی کے حوالے سے رویہ اتنا بدل گیا ہے کہ حتیٰ کہ حجاب کے بارے میں اس کی بات کو بھی “شیریں” اور “باپ جیسی نصیحت” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ اس وقت ہے جب مغربی میڈیا، خاص طور پر ایران میں “خاتون زندگی، آزادی” تحریک کے دوران، حجاب کی مخالفت کو بار بار اجاگر کرتا رہا ہے اور اسے تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے اسی سے میڈیا کے بل پر مکھوٹوں کی تبدیلی اور اس کے دوغلے پن کا اندازہ ہو جاتا ہے۔