تل ابیب پر معاشی بحران کے دبیز سائے
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: گزشتہ سے پیوستہ
ادھر عبرانی ذرائع نے مقبوضہ سرزمین میں ناگفتہ بہ معاشی حالت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نیتن یاہو حکومت کی موجودہ پالیسیوں کے ہوتے ہوئے، صہیونی ریاست کو اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
المیادین اخباری چینل کی ویب گاہ نے صہیونی ٹی وی چینل آئی-12 کف حوالے سے لکھا ہے کہ غاصب اسرائیل کے معاشی حالات خراب ہونے کے بعد نوآبادیوں کے صہیونی مکینوں کی اوسط آمدنی میں مسلسل کمی آ رہی ہے، تعمیراتی شعبے اور ہاؤسنگ مارکیٹ کو گذشتہ دو عشروں سے کساد بازاری کا سامنا ہے، چنانچہ تل ابیب مفلوج کر دینے والی کساد بازاری کے دہانے پر ہے۔
المیادین نے مزید لکھا ہے کہ عبرانی ذرائع نے اس سے پہلے ـ اپریل 2023ع ـ میں معاشی صورت حال بگڑنے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ: اسرائیل نیتن یاہو کی پالیسیوں کی وجہ سے اقصادی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اسی حوالے سے موڈیز کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی (Moody’s credit rating agency) نے رپورٹ دی تھی کہ صہیونی ریاست کی اعتباری شرح بندی (Credit rate) مثبت سطح سے ایک درجہ گر گئی ہے۔ ادھر عبرانی ذرائع نے گذشتہ مہینوں میں اقتصادی افراط زر کی شرح میں اضافے کے بارے میں بھی خبردار کیا تھا، جس کی وجہ سے، مقبوضہ علاقوں میں مالیاتی اور بینکاری اداروں نے شرح سود میں اضافہ کیا۔
فلسطینی شہداء کے چونکانے والے اعداد و شمار
مقبوضہ فلسطین میں صہیونیوں کے انسانیت سوز جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، یہان ک کہ ایک عبرانی ذریعے نے ایک دل دہلا دینے والی رپورٹ میں، فلسطینی عوام اور صہیونی افواج کے درمیان جھڑپوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینی بچوں اور کم عمر لڑکوں کے اعداد و شمار سے پردہ اٹھایا۔
صہیونی اخبار ہا آرتص نے فاش کیا ہے کہ سنہ 2023ع کے آغاز سے اب کے چھ مہینوں میں ہونے والے فلسطینی عوام اور صہیونی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 28 بچے اور کم عمر لڑکے اور لڑکیوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔
قبلۂ اول “مسجد الاقصیٰ” کی تقسیم کی سازش
ادھر بیت المقدس کے علماء اور مبلغین کی جمعیت اور المجلس الإسلامي الأعلىٰ نے کنیسٹ (صہیونی پارلیمان) میں مسجد الاقصیٰ کی یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کے حوالے سے لیکوڈ پارٹی کے رکن عمیت ہالیوی (Amit Halevi) کے مطالبے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا۔ ان دو جمعیتوں نے اس خطرناک صہیونی منصوبے ـ بشمول مسجد الاقصیٰ کی دو حصوں میں تقسیم، اس مسجد کو مسجد قِبلی کا عنوان دینے، اور اس کے دوسرے حصوں کے تقدس کا خاتمہ کرنے، اس مقدس مقام پر سے اردن کے ہاشمی خاندانی کی تحویل داری اور تولیت کا خاتمہ کرنے، اسلامی اوقاف کے کردار اور سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے، مسجد الاقصیٰ کے تمام دروازوں سے یہودیوں کے داخلے کی اجازت دینے اور اس مقام مقدس کی بے حرمیت کرنے ـ یہودی ریاست کو خبردار کیا جو مسلمانان عالم کے لئے یقینی طور پر لمحۂ فکریہ ہے۔ اس لئے کہ:
خدائے متعال نے قرآن کریم میں دو مسجدوں کا تذکرہ کیا ہے: مسجد الجرام، جو مکہ مکرمہ میں واقع ہے اور مسلمانان عالم کا قبلہ ہے اور دوسری مسجد الاقصیٰ ہے جو قدس شریف میں واقع ہے اور مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے۔
شب معراج حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تشریف فرما ہوئے اور مسجد الاقصیٰ وہی مقام ہے جہاں سے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) معراج کے لئے روانہ ہوئے تھے۔
قدس شریف پر یہودیوں کا قبضہ ہے جنہیں سورہ مائدہ کی آیت 82 میں اہل ایمان کا بدترین دشمن قرار دیا ہے، وہی جو اس وقت، ہر روز مسجد الاقصیٰ کی توہین کرتے ہیں اور اب اس کی یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کی سازش کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔













تبصرہ کریں