سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد ویٹو کرنے اور غزہ کی حمایت کرنے سے پشیمان نہیں ہیں۔ صدر پیوٹن
فاران: اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، ماسکو پر دہشت گردانہ حملے کے بعد ایک روسی سیکورٹی اہلکار نے کہا: کم از کم تین افراد دہشت گرد ملیشیا کی وردی میں کروکس شہر کے ہال میں داخل ہوئے اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کردی، اور پھر گرینیڈ بم اور آتشگیر مادہ پھینکا جس کی وجہ سے ہال میں آگ لگ گئی۔
رپورٹ کے مطابق کئی افراد 15 سے 20 منٹ تک زمین پر لیٹے رہنے کے بعد حال سے باہر آگئے۔
اس رپورٹ کے مطابق اس حملے میں کم از کم 40 افراد جان سے گئے اور 100 کے قریب زخمی ہیں جبکہ کورکس سٹی ہال میں 100 کے قریب افراد محبوس ہو گئے ہیں جبکہ آگ لگنے سے حال کی چھت کا ایک حصہ گر گیا ہے۔
ایک سیکورٹی اہلکار نے تکمیلی رپورٹ دیتے ہوئے کہا: پانچ مسلح افراد نے ہال میں موجود افراد پر فائرنڈ کھول دی، جس کے نتیجے میں 40 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
روسی ذرائع نے کہا کہ دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے پوری قوت بروئے کار لائی جا رہی ہے، سیکورٹی اداروں کے لئے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، ماسکو اور روبیوف کا گورنر موقع پر موجود ہیں اور سیکورٹی اسٹاف کی قیادت کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن ماسکو نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے مغرب اور یوکرین کو اس حملے میں ملوث قرار دیا ہے اور صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے: ہم غزہ کے سلسلے میں امریکہ کی منافقانہ قرارداد کو ویٹو کرنے اور غزہ کے عوام کی حمایت جاری رکھنے سے پشیمان نہیں ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن کا مختصر موقف بہت پرمعنی ہے اور انھوں نے ـ درحقیقت ـ نہ صرف مغرب کو اس حملے میں ملوث قرار دیا ہے بلکہ اسرائیل پر بھی اس واقعے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔













تبصرہ کریں