صہیونی دھشتگردی میں زخمی ہونے والی فلسطینی لڑکی شہید ہو گئی
فاران: ارنا کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے جنین علاقے میں قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کے دہشتگردوں کی براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے زخمی ہونے والی 18 سالہ فلسطینی لڑکی «حنان خضور» زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئی۔
ماہ مبارک رمضان شروع ہوتے ہی غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے غرب اردن کے مختلف علاقوں منجملہ جنین، نابلس، طولکرم اور اریحا کو اپنی دہشتگردی کا نشانہ بنایا اور فلسطینیوں پر فائرنگ کی جس میں چار فلسطینی شہید ہوئے جن میں بیت اللحم کے اکیس سالہ محمد علی غنیم، الخلیل کے چوبیس سالہ مہا کاظم عوض الزعتری اور چھے بچوں کی سینتالیس سالہ ماں غادہ ابراہیم سباتین شامل ہیں۔
دریں اثنا فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ غرب اردن کے تمام علاقوں میں غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں کے مقابلے میں انتقامی کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحریک حماس نے جنین کے جیالوں کو مدد پہنچانے کا تہیہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ ماہ رمضان شروع ہوتے ہی خودساختہ صیہونی حکومت نے فلسطینیوں پر اپنے ظلم و جبر سے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے اور اس میں شدت بھی آگئی ہے جس کی بنا پر فلسطینیوں کی دفاعی و استقامتی کارروائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور ساتھ ہی فلسطینیوں میں شہادت پسندانہ کارروائیوں کے رجحان میں بھی خاصا اضافہ ہوا ہے۔













تبصرہ کریں