صہیونی ریاست کی دھشتگردی جاری، مزید تین فلسطینی شہید

مقامی ذرائع نے بیت لحم کے جنوب میں الخضر قصبے میں قابض فوج کی گولیوں سے شدید زخمی ہونے کے نتیجے میں 21 سالہ نوجوان محمد علی غنیم کی موت کی تصدیق کی ہے۔

فاران: بیت المقدس میں قابض صیہونی فوج نے کل اتوار کو مختلف مقامات پر ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران مزید تین فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں قابض فوج کی طرف سے دو خواتین کو شہید کئے جانے کے بعد بیت لحم میں 21 سالہ محمد علی غنیم کو شہید کر دیا گیا۔

مقامی ذرائع نے بیت لحم کے جنوب میں الخضر قصبے میں قابض فوج کی گولیوں سے شدید زخمی ہونے کے نتیجے میں 21 سالہ نوجوان محمد علی غنیم کی موت کی تصدیق کی ہے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ غنیم نامی نوجوان کی کمر میں گولی لگی جو اس کے سینے سے نکلی۔ اسے الخضر کے الیمامہ اسپتال لے جایا گیا۔ اسے ضروری امداد فراہم کی گئی لیکن وہ دم توڑ گیا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے خونی دن میں ہوئی جب قابض فوج نے بیت لحم کے گاؤں حوسان میں چھ بچوں کی ماں غادا ابراہیم سبطین جس کی عمر 45 سال ہے کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا۔

مسجد ابراہیمی کے قریب مہا الزعتری جس کی عمر چوبیس سال تھی چاقو حملے کے الزام میں گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔