طوفان الاقصیٰ نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی

فلسطینی مزاحمت بھی مسلسل استقامت کے ساتھ غاصب صیہونی حکومت کا مقابلہ کرنے میں مصروف عمل ہے۔ اس مرتبہ فلسطینی مزاحمت نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ پیچھے ہٹنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے بلکہ اب صرف آگے ہی بڑھنا ہے اور اس آگے بڑھنے کے عمل میں اسرائیل مسلسل کمزور ہو رہا ہے کیونکہ کئی ایسے فلسطینی مقبوضہ علاقے جن پر غاصب صیہونیوں کا تسلط قائم تھا۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: غزہ کی سرزمین سے غاصب صیہونی حکومت کے خلاف فلسطینی مزاحمت نے چھ اور سات اکتوبر کی شب کو طوفان الاقصیٰ آپریشن شروع کیا جو ویسے تو چار گھنٹوں پر محیط تھا لیکن آج سترہ دن گزر جانے کے بعد بھی آپریشن طوفان الاقصیٰ کی گونج نہ صرف صیہونی ایوانوں میں موجود ہے بلکہ عالمی سیاست کا منظر نامہ بھی مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ ویسے تو پوری دنیا اس بات سے آشنا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کی پشت پناہی میں امریکہ ہمیشہ صف اول میں رہا ہے لیکن اس مرتبہ امریکہ کھل کر مسلسل صیہونی حکومت کو یقین دہانی کروانے میں مصروف ہے کہ اسرائیل کے لئے ہر قسم کی جنگ امریکہ خود لڑے گا۔ دوسری طرف مغربی حکومتیں جن میں برطانیہ، اٹلی، کینیڈا اور دیگر بھی شامل ہیں سب نے اسرائیل کے لئے اپنی اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

آپریشن طوفان الاقصیٰ کے کئی ایک پہلو ہیں جن پر گفتگو کی جاسکتی ہے جن میں سے اک پہلو یہ بھی ہے کہ فلسطینی مزاحمت کے اس کارنامہ نے دنیا کی تمام انسان دوست اور انسان دشمن قوتوں کو فلسطین کی لکیر کے دونوں اطراف جمع کردیا ہے۔ آج انسان دوستی کا نام نہاد نعرہ لگانے والی مغربی حکومتیں عملی طور پر انسان دشمنی کا عملی مظاہرہ کر رہی ہیں اور سترہ روز سے غزہ میں ہونے والی صیہونی دہشت گردی اور بربریت کی کھلم کھلا حمایت کر کے عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو اپنے جوتوں کی نوک پر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح دوسری جانب حقیقی سطح پر انسان دوست قوتیں موجو دہیں جو باقاعدہ طور پر طاقت اور دیگر عوام میں مغربی حکومتوں سے کم ہیں بلکہ یو کہہ لیجئے کہ یہ ساری قوتیں مغربی استعماری نظام کی سازشوں کا نشانہ ہیں لیکن فلسطین کے معاملہ پر حق پر ڈٹ کر مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کر رہی ہیں۔

عالمی سطح پر بنتے ہوئے سیاسی بلاک کی آپریشن طوفان الاقصیٰ کے اثر سے دور نہیں رہ پا رہے ہیں۔ امریکہ اور استعماری نظام کے مقابلہ میں سوشلسٹ نظام بھی فلسطین کے مرکز اور محور پر جمع ہو رہا ہے۔ ایک طرف امریکی حکومت ہے کہ جو غاصب اسرائیل کی مدد کر رہی ہے تو دوسری جانب اس مدد کے مقابلہ میں سوشلسٹ بلاک ہے جس میں چین اور روس سرفہرست ہیں کہ جو ہرگز امریکہ کو یہ اجازت نہیں دینا چاہتے کہ وہ اسرائیل کی مدد کے بہانے خطے میں نئی جنگ کا آغاز کرے اور نئے ممالک کی تقسیم کے ادھورے ایجنڈے کو مکمل کرے جسے ماضی قریب میں امریکہ داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مدد سے مکمل کرنے میں ناکام ہوا ہے۔ امریکی حکومت نے اسرائیل کی مدد کے لئے بحری بیڑہ میڈیٹیرین بھینجے کا اعلان کیا اور روانہ بھی کر دیا ہے لیکن دوسری جانب چین نے بھی اپنی بحریہ کو حرکت کرنے کا حکم دیا ہے۔ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے چین نے اپنی بحری افواج کو عمان کی طرف نقل و حرکت کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے تاکہ امریکی اجارہ داری کا راستہ روکا جائے۔ امریکہ اسرائیل کی مدد کرنے کی آڑ میں خطے میں سمندری اور زمینی اجارہ داری قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

یہ ایک زاویہ ہے جو اس وقت سامنے ہے۔ اسی طرح دوسرا زاویہ جو عرب ممالک سے منسوب ہے۔ عرب ممالک جو بہت تیزی کے ساتھ اسرائیل سے تعلقا قائم کرتے ہوئے امریکی منصوبہ کو تکمیل کی طرف لے جا رہے تھے آپریشن طوفان الاقصیٰ نے اس منصوبہ کی راہ میں بڑ ی رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت مجبور ہوئی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو منقطع کرنے کا اعلان کرے۔ اسی طرح دوسری عرب حکومتوں پر بھی ان کے عوام کا دباؤ جاری ہے کہ عرب ممالک کی حکومتیں اور خاص طورپر ترکی کے عوام ترک صدر طیب اردگان کے خلاف سرگرم ہیں کہ وہ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خاتمہ کا اعلان کرے۔

تیسرا زاویہ کچھ عوام کی جانب سے ہے۔ عوام مسلسل فلسطین کی حمایت مین سڑکوں پر موجود ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں جو بات مشاہدے میں آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ عوام غاصب صیہونیوں کی بربریت اور ظلم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور ایک قدم بھی پیچھے ہٹانے کو تیار نہیں ہیں، حتٰی بڑھ چڑھ کر مالی مدد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ چوتھا زاویہ لبنان سے ہے، جنوبی لبنان کی مقبوضہ فلسطین کے ساتھ سرحد پر لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ مسلسل شعبا فارمز اور ملحقہ علاقوں پر قابض صیہونی فوج کے خلاف کاروائیوں میں مصروف عمل ہے اور گذشتہ دو ہفتوں میں اسرائیل کو بڑے پیمانہ پر فوجی اور جانی نقصان پہنچا چکے ہیں۔ آئے روز دنیا کی سیاست میں ایک نیا بھونچال پیدا ہو رہا ہے جس کا مرکز و محور آپریشن طوفان الاقصیٰ قرار ہے۔

فلسطینی مزاحمت بھی مسلسل استقامت کے ساتھ غاصب صیہونی حکومت کا مقابلہ کرنے میں مصروف عمل ہے۔ اس مرتبہ فلسطینی مزاحمت نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ پیچھے ہٹنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے بلکہ اب صرف آگے ہی بڑھنا ہے اور اس آگے بڑھنے کے عمل میں اسرائیل مسلسل کمزور ہو رہا ہے کیونکہ کئی ایسے فلسطینی مقبوضہ علاقے جن پر غاصب صیہونیوں کا تسلط قائم تھا اور یہاں صیہونی آبادکاری کی گئی تھی آپریشن طوفان الاقصیٰ کے بعد سے خالی ہو چکے ہیں اور فلسطینی مزاحمت نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے جو تاحال برقرار ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہر لحاظ سے آپریشن طوفان الاقصیٰ ایک کامیاب آپریشن ثابت ہو رہا ہے اور فلسطین کی آزادی کے اٹھنے والے اقدامات میں تیزی کا باعث بن رہا ہے۔ اسی طرح عالمی سیاسی منظر نامہ بھی اسی آپریشن کا مرہون منت ہے۔ مغربی حکومتوں کی بے چینی، غاصب صیہونی حکومت کا اضطراب اور اسی طرح اسرائیل کے نمک خواروں کی دنیا بھر میں ذلت اور رسوائی سب وہ تبدیلیاں ہیں جو آپریشن طوفان الاقصیٰ کی مرہون منت ہیں۔