عالمی رائے عامہ اور غزہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل نواز ممالک کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ رائے عامہ کے اثرات سیاسی، بین الاقوامی مساوات اور دنیا میں طاقت کے توازن کو متاثر کرسکتے ہیں۔ بلاشبہ صہیونی جرائم کے نئے دور کے آغاز کے بعد سے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ان کا دنیا میں امن قائم کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے اور وہ صرف بڑی طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔

فاران: غاصب صیہونی حکومت کے جرائم کو چالیس دن سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ امریکہ کی حمایت کی بدولت اس نسل پرستانہ نظام کی حامل ریاست نے انسانی حقوق کے خلاف بے شمار اقدامات کیے ہیں۔ ان جرائم کا حجم اتنا بڑا ہے کہ غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کی جنگ کے آغاز سے ہی عالمی رائے عامہ نے صیہونیوں کے ان اقدامات کی کھل کر مذمت کی اور پانچ براعظموں اور مختلف ممالک میں بڑے بڑے مظاہرے اور احتجاجی اجتماعات ہوئے۔ غزہ کے عوام کی حمایت اور صیہونی حکومت سے نفرت کے اظہار کے لئے جو عوامی اجتماعات ہوئے، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

احتجاجی اجتماعات کی لہر اس قدر شدید ہے کہ صیہونی حامیوں کا غصہ ناقابل کنٹرول ہو رہا ہے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ صیہونی حکومت کے بعض اتحادی ممالک جیسے امریکہ، انگلینڈ، فرانس اور جرمنی میں بہت سی پابندیوں کے باوجود صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔ عوام کی طرف سے اٹھائے گئے ان اقدامات کے علاوہ کئی حکومتوں نے بھی صیہونیوں کے رویئے کی مذمت کی ہے اور اس سلسلے میں اسلامی ممالک کی موجودگی میں متعدد اجلاس منعقد کیے گئے، لیکن بدقسمتی سے ان اجلاسوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور بدقسمتی سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے ضروری اقدامات نہ ہوسکے۔

دوسری جانب ہم نے دیکھا ہے کہ رائے عامہ کے دباؤ نے صیہونی حکومت کی حمایت کرنے والے بعض ممالک کو ابہام کا شکار کر دیا ہے اور وہ متضاد اقدامات کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ گذشتہ ہفتوں میں امریکیوں نے ایسے تبصرے کیے، جو ان کے ڈرامائی طرز عمل کو ظاہر کرتے ہیں اور اس کی ایک مثال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد سے پرہیز کرنا ہے۔ رائے عامہ کے دباؤ نے امریکہ اور انگلینڈ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اس اقدام سے گریز کریں، حالانکہ اس سے قبل یہی ممالک سلامتی کونسل میں صیہونی حکومت کے خلاف قرارداد کی مخالفت اور اسے ویٹو کرچکے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ تل ابیب کے جنگی جرائم کے خلاف مظاہروں میں اضافہ ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل نواز ممالک کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ رائے عامہ کے اثرات سیاسی، بین الاقوامی مساوات اور دنیا میں طاقت کے توازن کو متاثر کرسکتے ہیں۔ بلاشبہ صہیونی جرائم کے نئے دور کے آغاز کے بعد سے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ان کا دنیا میں امن قائم کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے اور وہ صرف بڑی طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صیہونی حکومت غزہ کے جرائم کی مذمت کرنے والے بین الاقوامی اجتماعات کی وسیع لہر کے باوجود اقوام عالم کی خواہشات کی پرواہ کیے بغیر نیز اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ذرا سی بھی اہمیت نہ دیتے ہوئے اپنے جرائم کو جاری رکھنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

البتہ یہ کہنا ضروری ہے کہ اگر جنگ بندی کے بارے میں سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد کو بھی صیہونی حکومت کی طرف سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور جنگ بندی قائم نہیں ہوتی ہے تو اس جنگ کے پورے خطے میں پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور یہ وہ مسئلہ ہے، جس پر اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام اور مزاحمتی گروہوں نے کئی بار تاکید کی ہے۔ امریکیوں کو ان تنبیہات کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے اور اگر وہ واقعی بین الاقوامی امن اور سلامتی چاہتے ہیں، جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں غزہ کے لوگوں کے خلاف جنگ کو جلد از جلد جلد روکنا چاہیئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی ایشیائی خطے میں ہونے والی پیش رفت کا دنیا کے مختلف حصوں پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے اور اگر جنگ اس خطے کے مزید حصوں میں پھیلتی ہے تو اس خطے اور دنیا کے لیے انسانی اور توانائی کے شعبوں میں بہت سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔