عرب دنیا کے اسرائیل کیساتھ تعلقات فلسطین اور مسلم امہ کیساتھ خیانت ہیں، قدس کانفرنس

فلسطین فاونڈیشن پاکستان لاہور چیپٹر کے زیراہتمام منعقدہ القدس مرکز و محور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ رمضان المباک کے آخری جمہ کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یوم القدس منایا جائے گا اور عوام یوم القدس کے اجتماعات میں بھرپور شرکت کریں۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: فلسطین فاونڈیشن پاکستان لاہور چیپٹر کے زیراہتمام منعقدہ القدس مرکز و محور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ رمضان المباک کے آخری جمہ کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یوم القدس منایا جائے گا اور عوام یوم القدس کے اجتماعات میں بھرپور شرکت کریں۔ مسئلہ فلسطین عالم اسلام کا سب سے اہم مسئلہ ہے، اور اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں خنجر کی مانند ہے، سیاسی و مذہبی رہنماوں نے مسجد اقصیٰ کی صہیونی فورسز کی جانب سے مسلسل توہین اور فلسطینیوں پر جاری بہیمانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ قبلہ اول کے دفاع کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، فلسطین اور القدس پر صہیونی غاصبانہ تسلط کیخلاف سراپا احتجاج رہیں گے اور القدس کی بازیابی تک جدوجہد جاری رہے گی، کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی کو امریکی سرپرستی حاصل ہے اور ہم کشمیری عوام کیساتھ بھرپور یکجہتی کرتے ہیں۔

کانفرنس سے خطاب کرنیوالے مقررین میں آغا علی حیدر مسلم لیگ ن، لیاقت بلوچ جماعت اسلامی ، خانم سیدہ زہراء نقوی سربراہ مجلس وحدت مسلمین، علامہ احمد اقبال رضوی رہنما مجلس وحدت مسلمین، بیرسٹر عامر حسن رہنما پیپلز پارٹی، مسلم لیگی رہنماء حنا پرویز بٹ، ڈاکٹر صابر ابو مریم، ڈاکٹر محمد حسین آزاد سربراہ منہاج القرآن، جاوید قصوری جماعت اسلامی، صحافی مرتضیٰ ڈار، عظیم بھٹ، سید شہزاد روشن گیلانی سمیت دیگر شامل تھے۔ انہوں ںے کہا کہ عرب دنیا کے حکمرانوں کو چاہئیے کہ فلسطینی عوام کی پشت پناہی کریں اور اسرائیل کیساتھ دوستانہ تعلقات کے معاملہ پر نظرثانی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب حکمرانوں کی جانب سے پاکستان کو اسرائیل کیساتھ تعلقات قائم کرنے کے دباو کی شدید مذمت کرتے ہیں اور پاکستان کے عوام کسی بھی ایسے اقدام کو تسلیم نہیں کریں گے۔ مسئلہ فلسطین سمیت عالم اسلام کے تمام تر مسائل کی جڑ شیطان بزرگ امریکہ ہے۔ وہ اسرائیل جو گریٹر اسرائیل کی باتیں کرتا تھا اج اس نے اپنے چاروں طرف بڑی بڑی دیواریں کھڑی کر دی، کچھ عرب خائین ریاستیں مسلسل کوشش کر رہی ہیں کہ اور اسلامی ممالک پر مختلف طریقوں سے اسرئیل کو تسلیم کروانے کیلئے کو کوششیں کر رہی ہیں، اگر ہم نے فلسطین کوئی سمجھوتہ کیا تو یہ کشمیر کاز کو تباہ کرنے کے مترداف ہوگا۔ اس کانفرنس کا مقصد فلسطین کیلئے انصاف کی بات کرنا ہے اگر اپ کسی مظلوم کے حق میں بات نہیں کر سکتے تو اس کیخلاف غلط پروپیگنڈہ نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے قائداعظم محمد علی جناح نے کہا اسرائیل قابض ریاست ہے فلسطین پر سمجھوتہ کرنے کا مقصد کشمیر پر سمجھوتہ کرنا ہم پاکستان میں جس سیاسی کشمکش میں گرفتار ہیں اس کے ساتھ ہم کیسے مسلم امہ کیلئے مضبوط آواز اٹھا سکتے ہیں، اس وقت اسرائیل کے مسئلے کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے چند عرب ریاستیں اس سازش میں ملوث ہیں، فلسطین کا مسئلہ عالمگیر انسانیت کا مسئلہ ہے پاکستان پر بھی دباﺅ ڈالا جا رہا ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے انہوں نے مذید کہا کہ کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اصولی فیصلہ قائداعظم نے دیا اگر ہم نے اسرائیل کو قبول کیا تو ہم دو قومی نظریے سے قائد کے افکار سے ہٹ جائیں گے۔ تحقیقی ادارہ برائے مشرق وسطیٰ کے ڈائرکٹر ناصر شیرازی نے کہا کہ اگر ہم مظلوم فلسطینی مسلمانوں کا درد محسوس نہیں کر سکتے تو ہم رسولِ خدا کی حدیث سے رو سے ہم مسلمان بھی نہیں ہیں۔ مسلمان ایک جسد واحد کی طرح ہیں ہم فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے، قائداعظم محمد علی جناح نے فلسطین کی حمایت میں فلسطین ڈے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم فلسطین کی مقاومت کیساتھ مسلسل رابطے میں تھے قائد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد پہلے انٹرویو میں کہا تھا ہم کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے مذید کہا کہ وہ اسرائیل جو کہ ناقابل شکست ہونے غرور سجائے دنیا پر رعب ڈالتا تھا جس کے پیچھے دنیا کی تمام طاقتیں موجود تھی اسی اسرائیل کو حزب اللہ نے 33 دن میں ایسی شکست دی کہ اسرائیل نے اعتراف کیا اسرائیل کا کوئی شہر ایسا نہیں چھوڑا جہاں حملہ نا ہوا ہو۔ فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے کہا کہ جمعة الوداع کو ملک بھر میں یوم القدس منایا جائے گا اور میری پاکستانی عوام سے اپیل ہے کہ یوم القدس اجتماعات میں بھرپور شرکت کریں۔ عرب دنیا کے اسرائیل کیساتھ تعلقات فلسطین اور مسلم امہ کیساتھ خیانت ہے۔ فلسطین پر صہیونی غاصبانہ تسلط کے خاتمہ تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ امریکہ فلسطین اور کشمیر میں جاری ظلم و بربریت کا ذمہ دار ہے، کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی اور فلسطین میں صہیونی مظالم امریکی سرپرستی کا شاخسانہ ہیں۔ ہماری اس کانفرنس کا مقصد فلسطین کیلئے انصاف کی بات کرنا ہے اور القدس کی بازیابی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جس سطح پر بھی ہو مظلوم فلسطینوں کی حمایت میں آواز اٹھانا ہے اور ناجائز ریاست اسرئیل کی بربریت کو دنیا کے سامنے آشکار کرتے رہنا ہے۔