غزہ میں امریکہ اور برطانیہ کی شکست کے چار ثبوت
فاران: حال ہی میں غاصب صیہونی رژیم کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے بارے میں کہا ہے کہ جب تک وہ وزیراعظم ہے محمود عباس کو غزہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان دنوں نیتن یاہو کچھ زیادہ ہی ہذیان بک رہا ہے اور غزہ جنگ کے باعث صیہونی فوجیوں کے وسیع جانی نقصان نیز فوجی توازن نہ ہونے کے باوجود گذشتہ دو ماہ کی جنگ کے دوران غزہ میں فلسطینی مجاہدین کی زبردست مزاحمت اور شجاعت کی وجہ سے نیتن یاہو کا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے اور اسے ماہر نفسیات کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔ فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے بارے میں صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے حالیہ بیان کے مقابلے میں چند بنیادی حقائق کی جانب توجہ ضروری ہے۔
امریکہ اور برطانیہ چار دلیلوں کی بنیاد پر غزہ میں شکست کا شکار ہوں گے:
1)۔ غزہ میں حماس کی سربراہی میں اسلامی مزاحمتی گروہ شکست کا شکار نہیں ہوئے اور انتہائی جرات اور بہادری سے صیہونی فوج پر کاری ضربیں لگانے میں مصروف ہیں۔ اس بات کا ثبوت انتہائی مختصر مدت میں غاصب صیہونی فوج کے 135 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر فوجی گاڑیاں تباہ ہو جانا ہے جبکہ صیہونی وزیر جنگ یوآف گالانت نے بنی گانتز اور نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ صیہونی فوج کو پہنچنے والا جانی نقصان بہت سنگین ہے۔
2)۔ فلسطینی قوم کی اکثریت محمود عباس سے متنفر ہے کیونکہ وہ غاصب صیہونی رژیم کا ہم فکر اور غزہ میں جاری جنگ، قتل عام اور نسل کشی پر خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ اسی طرح اس نے مغربی کنارے کے شہروں، قصبوں، دیہاتوں اور مہاجرین کیمپوں خاص طور پر جنین، نابلس، طول کرم اور الخلیل پر صیہونی فوج کی جارحیت میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ اس کے زیر فرمان 60 ہزار فلسطینی سکیورٹی فورسز ہیں جنہوں نے اب تک مغربی کنارے میں صیہونی بربریت کے خلاف ایک گولی بھی نہیں چلائی اور فلسطینی قوم کا دفاع نہیں کیا۔
3)۔ محمود عباس مغربی کنارے پر حکومت کرنے میں بھی ناکامی کا شکار ہوا ہے اور اس کی حکومت آمرانہ رویوں اور کرپشن میں مشہور ہے۔ لہذا غزہ کی عوام ہر گز اس کا خیرمقدم نہیں کریں گے۔
4)۔ سات اکتوبر کے دن طوفان الاقصی فوجی آپریشن کے بعد والی غزہ کی پٹی اس سے پہلے والی غزہ کی پٹی سے یکسر مختلف ہے۔ اسی طرح وہ ملت فلسطین جو اب تک 20 ہزار شہید اور 50 ہزار زخمی پیش کر چکی ہے ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی کہ امریکی اور اسرائیلی ٹینکوں کی آڑ میں محمود عباس اور فلسطین اتھارٹی غزہ میں اقتدار میں واپس لوٹ آئے۔ فلسطینی قوم اسلامی مزاحمتی گروہوں کو اپنا واحد جائز نمائندہ تصور کرتی ہے۔ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ امریکی صدر جو بائیڈن غزہ پر محمود عباس کا اقتدار واپس لانے کی ٹھان لے اور برطانوی فوج کی ٹیم فلسطین اتھارٹی کو غزہ پر تسلط برقرار کرنے کیلئے مناسب ٹریننگ دے دے۔
محمود عباس اور اس کی حکومت ہر گز ان مزاحمتی گروہوں کا متبادل قرار نہیں پا سکتے جنہوں نے مقبوضہ فلسطین پر صیہونی رژیم کے 75 سالہ ناجائز قبضے کے دوران پہلی بار عظیم اور تاریخی فتح حاصل کی ہے۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ یہ اسلامی مزاحمت حتمی فتح حاصل ہونے اور غاصب صیہونی رژیم کی مکمل نابودی کے بعد مغربی کنارے میں فلسطین اتھارٹی کا متبادل قرار پائے گی۔ امریکہ غزہ میں جاری وحشیانہ قتل عام اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں غاصب صیہونی رژیم کا برابر کا شریک ہے اور اسے اس کا بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا۔ یحیی السنوار کی سربراہی میں اسلامی مزاحمت غزہ پر حکومت کرے گی اور جو بھی اس کے علاوہ رائے رکھتا ہے وہ خطے کے حالات سے ناواقف ہے۔ امریکہ غاصب صیہونی رژیم کو مسلسل اسلحہ اور مہلک ہتھیار فراہم کرنے میں مصروف ہے جبکہ اس کے 2 ہزار فوجی بھی مقبوضہ فلسطین میں موجود ہیں۔
امریکہ غزہ اور مغربی کنارے اور حتی عرب دنیا کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے اہل نہیں ہے اور عنقریب افغانستان جیسی شکست ایک بار پھر دہرائی جائے گی۔ عراق اور شام میں امریکی فوجی اڈے مسلسل اسلامی مزاحمتی گروہوں کے راکٹ اور ڈرون حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں جبکہ یمن کی مسلح افواج بھی اپنے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی مدد سے غزہ کا ساتھ دینے میں مصروف ہیں۔ ہم انصاراللہ یمن کی فوجی طاقت اور کامیابیوں کے بارے میں مبالغہ آرائی نہیں کر رہے۔ اس کے پاس اس وقت ہزاروں مجاہدین کے علاوہ بڑی مقدار میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون طیارے ہیں۔ اس کی فوجی طاقت افغانستان میں طالبان کی فوجی طاقت سے کئی گنا زیادہ ہے جو ماضی میں امریکہ کو شکست دے کر اسے وہاں سے بھاگ نکلنے پر مجبور کر چکے ہیں۔













تبصرہ کریں