غزہ پر اسرائیلی جارحیت واضح جرم ہے جس پر خاموشی جائز نہیں، حزب اللہ لبنان

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے غزہ کی پٹی پر غاصب صہیونی رژیم کی فوجی جارحیت کو واضح جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مقابلے میں خاموشی کسی صورت جائز نہیں ہے۔

فاران: سید حسن نصراللہ نے 6 اگست 8 محرم الحرام کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی فوجی جارحیت کے بارے میں کہا: “غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسرائیل کی جانب سے واضح اور کھلم کھلی جارحیت اور براہ راست جرم ہے۔ ہر شریف انسان کو چاہئے کہ وہ اس جرم کی مذمت کرے اور اس کے مقابلے میں خاموشی جائز نہیں ہے۔ جو بھی غزہ پر ہونے والے ظلم پر خاموش رہتا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ اسلامی مزاحمت مناسب ہتھیاروں کے ذریعے اس جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتی ہے۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمت اور اسلامک جہاد مناسب وقت اور جگہ پر مناسب انداز میں اس جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔ اس جرم پر خاموشی کا نتیجہ اسلامی مزاحمت کے کمانڈرز کی مزید ٹارگٹ کلنگ کا راستہ کھل جانے کا باعث بنے گی۔”

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ امریکہ ایک طرف خود کو دنیا میں امن کا خواہاں ظاہر کرتا ہے جبکہ دوسری طرف حقائق کو غلط انداز میں پیش کر کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: “ایسے اعداد و شمار پائے جاتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ 300 سال کے دوران دوسرے ممالک کے خلاف سب سے زیادہ جنگیں شروع کرنے والا ملک امریکہ ہے۔ امریکہ نے ایسے ممالک کے خلاف جنگیں انجام دی ہیں جو اس سے ہزاروں کلومیٹر دور ہیں۔” سید حسن نصراللہ نے امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: “امریکہ وہ ملک ہے جس نے ہیروشیما میں ایٹم بم گرایا اور ایک منٹ میں 2 لاکھ انسانوں کو قتل کر ڈالا۔ امریکہ گذشتہ چند عشروں کے دوران ویتنام، ایران، عراق، شام، لبنان، افغانستان، یمن اور صومالیہ میں شدید ناکامیوں کا شکار ہوا ہے۔”