غزہ کی جنگ اور بے نقاب تکفیریت
فاران: غزہ کی حالیہ جنگ جو حماس کے سات اکتوبر کے آپریشن کے بعد شروع ہوئی تھی، میں کچھ توقف آیا ہوا ہے، اگر ہم اس وقت تک نتیجہ کے طور پر دیکھنا چاہیں تو مزاحمت اسلامی، مقاومت اسلامی فلسطین، غزہ، لبنان، عراق، شام اور یمن کو سرخرو کر دیا ہے۔ اس جنگ نے جہاں اہل غزہ کی مظلومیت، ان پر ہونے والے پچھتر برس سے مظالم، سفاکیت اور دہشت گردی کو دنیا کے سامنے آشکار کیا ہے، دنیا کی آنکھوں پر پڑے پردوں کو ہٹایا ہے، وہیں یر یہ بھی ثابت و آشکار کیا ہے کہ کون حقیقی معنوں میں اہل غزہ کا دوست، ہمدرد، معاون، مددگار اور پشتبان ہے اور کون ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والا ہے۔ اہل مغرب کے سامنے تکفیری دہشت گردوں نے جہاد کا جو چہرہ داغدار کیا ہوا تھا، وہ اہل غزہ کے جہاد، مزاحمت کے انداز اور صورت کو دیکھ کر کافی حد تک دھلتا ہوا دیکھا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ان ممالک میں مسلمان ممالک اور ریاستوں سے بڑھ کر اسرائیلی مظالم اور سفاکیت کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور مارچ ہوئے۔
ان احتجاجی مظاہروں میں اہل مغرب، جو سیکولر خیالات رکھتے ہیں، انہوں نے فلسطینی رومال، فلسطینی پرچم، فلسطینی و لبنانی جہادی رہنماؤں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور حماسی نعرے بھی لگا رہے تھے۔ صیہونی مظالم پر سراپا احتجاج ان لوگوں کو آخر القاعدہ و حماس کے جہادی ویژن میں کچھ فرق تو دکھائی دیا ہے کہ یہ لوگ اپنی حکومتوں کو اپنے ضمیر کی آواز پہنچانے کیلئے میدان میں نکلے اور اس سے بڑھ کر بہت سی مغربی حکومتوں کے اعلیٰ عہدیداروں کو کئی ایک پروگراموں میں عوامی مزاحمت، سوالات اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کچھ کو تو عوام نے ہوٹلز میں بھی شدید انداز سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ میرے خیال میں یہ اہل فلسطین کی فتح ہے، یہ مزاحمت کی فتح ہے، یہ حقیقی جہادی قوتوں کی فتح ہے۔
اس کیساتھ ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ عمومی تاثر یہی بنایا گیا تھا کہ دنیا میں اگر کوئی جہادی گروہ ہے تو وہ القاعدہ ہے، داعش ہے، حزب التحریر ہے، بوکو حرام ہے۔ طالبان اور اسی مائنڈ سیٹ سے متعلق دیگر بہت سے گروہ ہیں، جو عالمی سطح پر اسلامی خلافت و نظام قائم کرنے کیلئے جہاد کر رہے ہیں۔ فلسطین، لبنان، عراق، شام، یمن، پاکستان، افغانستان، افریقہ، لیبیا، الجزائر، تیونس، مصر اور دیگر عربی و عجمی ممالک میں سرگرم عمل ہیں۔ ان کا جہاد اولین درجہ رکھتا ہے اور یہ لوگ دنیا بھر میں جہاد کی قیادت کرتے ہیں، جبکہ ان کے مقابل حزب اللہ شیعہ ملیشیا، یمنی حوثی باغی، عراقی حشد الشعبی شیعہ گروہ، شام میں برسر پیکار جہادی ایرانی سپاہ کے ایجنٹ یا کرائے کے بھرتی شدہ گروہ اور یہ سارے کے سارے ایرانی پراکسیز ہیں، جنہیں ایران اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتا ہے، یہ ایک تصویر کا خاکہ ہے، جو دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔
غزہ کی حالیہ جنگ میں جو اس وقت عالمی ریڈ کراس، قطری سفارت کاری کے ذریعے جنگ بندی و قیدیوں کے تبادلے کے مراحل سے گزر رہی ہے، میں تکفیری قوتوں نے پورا زور لگایا کہ اس جنگ میں ایران اور اس کے حمایت یافتہ مزاحمتی مراکز و گروہوں کو غزہ و حماس کی پشت میں خنجر گھونپنے والا ثابت کر دیں، مگر ان کی سازشیں مکمل ناکام ہوئیں اور دنیا کے سامنے یہی قوتیں سرخرو ہوئیں۔ جیسے حماس سرخرو ہوئی، ایسے ہی جمہوری اسلامی ایران اور اس کے حمایت یافتہ مزاحمتی گروہ سرخرو ہوئے، دنیا نے دیکھا کہ جن کے جہاد کا ہوا کھڑا کیا گیا تھا، ان میں سے کسی ایک کا کوئی مجاہد اس جنگ میں شہید نہیں ہوا، نہ ہی کسی ایک میں جرات ہے کہ اہل غزہ کو ایک کلاشنکوف کی گولی دینے کا دعویٰ کرسکے، جبکہ جمہوری اسلامی ایران نے برملا کہا کہ ہم نے حماس کو تربیت دی، ہم نے میزائل ٹیکنالوجی دی، ہم نے غزہ میں تیس فٹ گہری سرنگیں بنانے میں مدد کی۔ ان باتوں کو حماس، جہاد اسلامی جیسے مزاحمتی گروہوں نے بھی تسلیم کیا اور برملا اعتراف کیا کہ ایران نے ان کی مدد کی۔
اسی طرح ہم نے جنگ میں دیکھا کہ لبنان کے بارڈر سے حزب اللہ نے اسرائیل کو سکون سے نہیں رہنے دیا، یہ فرنٹ اور محاذ کھول کر اس کو سخت اذیت دی اور شدید ترین نقصان بھی پہنچایا۔ اس راہ میں اپنے بیسیوں خوبصورت جوان کمانڈرز بھی شہید کروائے، جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ لبنانی حزب اللہ جسے شیعہ ملیشیا لکھا جاتا تھا، دراصل فرقہ بندی سے بہت دور ہے۔ ان کا ہدف و مقصد صیہونی مقاصد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور ان کی ناجائز ریاست کا خاتمہ ہی ہے، اسی طرح یمنی مجاہدین جنہیں خود آٹھ برس سے شدید جارحیت کا سامنا ہے، انہوں نے سب کو حیرت زدہ کر دیا کہ یمن جو غزہ سے دو ہزار کلومیٹر دور ہے، وہاں سے اسرائیل پر میزائل حملے کیے اور کھلی دھمکی دی کہ بحیرہ احمر کو اسرائیلی افواج کا قبرستان بنا دیا جائے گا، جبکہ ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے، ادھر بحیرہ احمر میں اسرائیلی کارگو بحری جہاز پر قبضہ کیا، ایک کو جلا دیا، یمنی مجاہدین کے اس کردار کی بدولت دنیا مجبور ہوگئی کہ انہیں فلسطینیوں و اہل غزہ کا حقیقی پشتبان سمجھیں، حماس کے عسکری ترجمان ابو عبیدہ نے یمنی مزاحمت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
عراقی مزاحمتی قوتوں نے بھی اس جنگ میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور اسرائیل کے سرپرست امریکہ کو للکارا اور عراق و شام میں امریکی فوجی بیسز کو اپنے میزائل حملوں کا نشانہ بنایا، یاد رہے کہ امریکہ عراق و شام میں کئی مقامات پر قابض ہے اور اس نے وہاں اپنی فوجی چھائونیاں قائم کر رکھی ہیں۔ ان فوجی مراکز کے ذریعے ایران کے خلاف سازشوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ غزہ جنگ میں عراقی مزاحمت نے بھرپور طریقہ سے امریکہ جو اسرائیل کو تمام تر اسلحہ و دیگر سہولیات دے رہا ہے، اس کو سبق سکھاتے ہوئے اپنے غضب کا نشانہ بنایا۔ سب جانتے ہیں کہ اسرائیل بذات خود کچھ بھی نہیں، اصل امریکہ ہے، جو اس کی مکمل سرپرستی کرتا ہے، اگر امریکہ اسرائیل کی سرپرستی چھوڑ دے تو اسرائیل کا وجود چند گھنٹوں میں ہی نابود ہوسکتا ہے، لہذا اہل غزہ کے خون میں آلودہ امریکی ہاتھوں کو کاٹنے کیلئے عراقی و شامی مزاحمت نے امریکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے اپنا حصہ ڈالا ہے، جو سب پر آشکار ہے۔
جو لوگ ایران کو ڈائریکٹ حملہ کرنے کی ترغیب دیتے تھے یا جن کا زور اس پر تھا کہ غزہ تباہ ہوگیا ہے ایران حملہ کیوں نہیں کرتا، انہیں اسرائیل پر ہونے والے کئی اطراف کے حملوں کے پیچھے آج ایران کیوں نظر نہیں آیا، یہ باعث حیرت ہے۔ اس لیے کہ اس سے قبل ایسی تمام کارروائیوں کا اصل ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا جاتا تھا۔ ہم تو پہلے دن سے یہی کہہ رہے تھے کہ جب جنگ میں توقف ہوگا تو اہل غزہ خود اعلان کریں گے کہ کون ان کا مددگار ہے اور کون حماس کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والا ہے اور کون حماس کو اپنا جہاد جاری رکھنے کیلئے اسلحہ دینے والا ہے اور کون مشورہ دے رہا ہے کہ حماس اسلحہ رکھ دے۔ یعنی غیر مسلح ہو جائے، یعنی ہاتھ پائوں باندھ کر ظالم، سفاک درندوں کے سامنے ڈال دیا جائے۔۔۔۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ جنگ پہچان کروا گئی ہے دوست و دشمن میں، اپنوں و پرایوں میں، مددگاروں و چھرا گھونپنے والوں میں، وقت گزرنے کیساتھ ساتھ مزید لوگ، ریاستیں، اسلامی حکمران، بے نقاب ہونگے، مظلوم اور ان کے پشتبان سرخرو ہونگے۔ تکفیریت اور اس کے پروردہ عناصر و گروہوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا، یہ اپنی موت آپ مر رہے ہیں۔ لعنت اللہ علی الکاذبین والظالمین۔













تبصرہ کریں