فرعون صفت صہیونیوں نے رواں سال کے دوران36 فلسطینی بچے شہید کیے

یہ اعدادوشمار 9 سالہ بچی لیان الشاعر کی شہادت کے اعلان سے قبل شائع کیے گئے جو جمعرات کی صبح مقبوضہ بیت المقدس کے المقاصد ہسپتال میں حالیہ جارحیت کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے شہید ہو گئی تھی۔ الشاعر حال ہی میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت کے دوران زخمی ہوئی تھی۔

فاران: ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل کی طرف سے جمعرات کو شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 2022 کے آغاز سے اب تک صہیونی قابض فوج کی فائرنگ سے 36 فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں۔ ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل کی فلسطینی شاخ نے جمعرات کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ شہید ہونے والوں میں 20 فلسطینی بچے بھی شامل ہیں، جنہیں مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض فوج نے گولی مار دی تھی۔

یہ اعدادوشمار 9 سالہ بچی لیان الشاعر کی شہادت کے اعلان سے قبل شائع کیے گئے جو جمعرات کی صبح مقبوضہ بیت المقدس کے المقاصد ہسپتال میں حالیہ جارحیت کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے شہید ہو گئی تھی۔ الشاعر حال ہی میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت کے دوران زخمی ہوئی تھی۔

تنظیم نے اشارہ کیا کہ “5 اور 7 اگست کے درمیان اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 16 فلسطینی بچے مارے گئے۔انسانی حقوق گروپ نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت جان بوجھ کر مہلک طاقت کو صرف ان حالات میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے جس میں جان کا خطرہ ہو۔

تنظیم نے زور دے کر کہا کہ “ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل کی طرف سے جمع کی جانے والی تحقیقات اور شواہد باقاعدگی سے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیلی فورسز ایسے حالات میں فلسطینی بچوں کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال کرتی ہیں جو ماورائے عدالت یا پہلے سے سوچے سمجھے قتل کے مترادف ہو سکتی ہیں۔”غزہ پر صیہونی جارحیت تین روز تک جاری رہی جس کے دوران درجنوں مکانات تباہ اور 17 بچوں سمیت 48 فلسطینی شہید اور 360 زخمی ہوئے۔