فلسطینی بچوں کے عالمی دن کے حوالے سے ہولناک حقائق
فاران: کل 5 اپریل فلسطینی بچوں کا دن تھا جس کی منظوری 1995 میں فلسطینی اتھارٹی کے سابق صدر یاسر عرفات نے دی تھی۔
جہاں دنیا کے ممالک میں یوم اطفال کی تقریبات ان کے حالات کو بہتر بنانے اور ان کے تحفظ کے لیے قوانین وضع کرنے اور حقوق کو منظم کرنے کا ایک موقع ہوتی ہیں، وہیں غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کے بعد رواں سال منایا جانے والا فلسطینی بچوں کا دن لاکھوں فلسطینی بچوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے جو صدی کے سب سے ہولناک انسانی واقعات کا سامنا کر رہے ہیں ایسے واقعات جو روئے زمین پر بہت کم نظر آئے ہوں گے ان واقعات میں خاص طور پر وہ بچے جنہوں نے ایک یا دونوں والدین کو کھو دیا یا وہ جو غزہ کی پٹی پر تباہ کن بمباری کے بعد معذوری کا شکار ہوئے اور اپنے بدن کے کچھ حصوں کو کھو چکے۔
غیر سرکاری اندازوں کے مطابق فلسطینیوں کی تعداد کا تخمینہ 55 لاکھ لگایا گیا ہے جن میں سے 34 لاکھ مغربی کنارے اور 21 لاکھ غزہ کی پٹی میں ہیں۔
حملوں کا نشانہ بننے والوں میں 60 فیصد بچے اور خواتین ہیں
18 سال سے کم عمر کے بچے کل آبادی کا 43 فیصد ہیں، یعنی تقریبا 2.38 ملین بچے، مغربی کنارے میں 1.39 ملین اور غزہ کی پٹی میں 0.98 ملین جبکہ 18 سال سے کم عمر گروپ غزہ کی آبادی کا تقریبا 47 فیصد اور مغربی کنارے میں 41 فیصد ہیں۔
فلسطین کے مرکزی ادارہ برائے شماریات (پی سی بی ایس) کی ایک حالیہ رپورٹ میں حالیہ اسرائیلی حملوں (7 اکتوبر 2023ء تا 19 جنوری 2025ء) کے دوران غزہ کی پٹی میں رہنے والے بچوں کو ہونے والے شدید اور ہولناک نقصانات کو دکھایا گیا ہے اور یہ کہ متاثرین میں بچوں اور عورتوں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 60 فیصد سے زیادہ ہے۔
17 ہزار سے زائد بچے شہید ہوئے
قابض حکومت کے حملوں میں 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے اور فلسطینی مرکزی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق شہید بچوں کی تعداد 17 ہزار 954 ہے۔
ادارہ شماریات کے اعداد و شمار میں بچوں کی شہادت کے بارے میں خوفناک حقائق سامنے آئے ہیں جن میں پیدا ہونے والے اور شہید ہونے والے تقریبا 274 بچے، ایک سال کی عمر سے پہلے شہید ہونے والے 876 بچے، پناہ گزین خیموں میں سردی سے مرنے والے 17 بچے اور یہودیوں کی منصوبہ بند بھوک اور غذائی قلت کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دیگر 52 بچے شامل ہیں۔
فلسطین کے مرکزی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد ہے جبکہ زخمی ہونے والوں میں 69 فیصد سے زائد بچے اور خواتین شامل ہیں۔
جدید تاریخ کا سب سے بڑا بحران
فلسطین کے مرکزی ادارہ شماریات کے مطابق غزہ کی پٹی کو جدید تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے جہاں حملوں کے دوران تقریبا 39 ہزار 384 بچے اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں سے محروم ہو گئے اور تقریبا 17 ہزار بچے والدین دونوں کی نعمتوں سے محروم رہے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بچے مشکل حالات میں رہ رہے ہیں کیونکہ ان میں سے بہت سے بے گھر ہونے اور ٹوٹے ہوئے خیموں یا تباہ شدہ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
ان لوگوں کے مسائل نہ صرف خاندان اور پناہ گاہ کا ضیاع ہیں بلکہ وہ شدید نفسیاتی اور سماجی بحرانوں کا بھی شکار ہوتے ہیں کیونکہ انہیں ڈپریشن، تنہائی اور دائمی خوف جیسے گہرے ذہنی امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق والدین کے نقصان کے علاوہ بمباری اور بین الاقوامی طور پر ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے روزانہ 15 بچے مستقل طور پر معذور ہو جاتے ہیں اور زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد 7 ہزار 65 ہے جن میں سے سیکڑوں اپنے اعضاء، بینائی یا سماعت سے محروم ہو چکے ہیں۔
اعضاء کی کٹائی اور جسمانی اور ذہنی معذوری
اس کے علاوہ 4,700 افراد کے اعضاء کٹ چکے ہیں، جن میں سے 18 فیصد (846 کیسز) بچے تھے، جس نے اس سانحے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
فلسطینی مرکز برائے شماریات نے اعلان کیا ہے کہ ان افراد کو جسمانی معذوری اور نفسیاتی مسائل کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کی تباہی اور طبی سامان اور مصنوعی اعضاء کے داخلے کی روک تھام کے نتیجے میں صحت کے نظام کی تباہی کی وجہ سے مزید آفات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
غذائی قلت کی وجہ سے ہڈیوں کی خرابی اور زخموں کو بھرنے میں ناکامی بھی ہوئی، جبکہ ابتدائی طبی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے تقریبا 7،700 نوزائیدہ بچوں کی موت کا خطرہ ہے۔
فلسطین کے مرکزی ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2024 میں غزہ کی پٹی میں 25 سال میں پہلی بار پولیو وائرس کی وبا پھیلی جس کی وجہ اسرائیلی حملوں کے دوران صفائی ستھرائی کے سخت حالات کے نتیجے میں ویکسینیشن کی شرح 99 فیصد سے کم ہو کر 86 فیصد رہ گئی۔













تبصرہ کریں