لبنان میں صہیونی ریاست سے وابستہ کئی جاسوس گرفتار
فاران: لبنان کی انٹرنل سیکیورٹی سروس نے ملک میں اسرائیل کے نئے جاسوسی نیٹ ورکس کو دریافت کرنے کے بعد متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
لبنان کی انٹرنل سیکیورٹی سروس کی انٹیلی جنس برانچ نے بھی اس علاقے میں اپنی سرگرمیاں بڑھاتے ہوئے مزید افراد کو گرفتار کیا جس کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ یہ افراد انفرادی نیٹ ورکس پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے تھے۔
لبنان کے ایک سینیئر سیکیورٹی ذریعے نے الاخبار کو بتایا کہ صیہونی حکومت کی انٹیلی جنس نے لبنان میں بے روزگاروں کے لیے روزگار پیدا کرنے کی خدمات کے تحت سوشل میڈیا سائٹس پر درجنوں پلیٹ فارم مہیا کیے ہیں۔
درحقیقت اسرائیلی اور لبنانی شہری سوشل میڈیا پر عام طور پر بات چیت کرتے ہیں اور صہیونی بعض اوقات ان سے ویڈیو کال پر رابطہ کرتے ہیں۔
اس ذریعے نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت کی انٹیلی جنس سروس نے لبنان میں اس منصوبے کے لیے جو بجٹ مختص کیا ہے وہ بڑے پیمانے پر حفاظتی سرگرمیوں کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہے اور وہ رقم جو لبنان کے اندر اپنے کرائے کے مزدوروں کو دیتی ہے وہ 100 سے 200 ڈالر ہے۔
اسی ذریعے کے مطابق تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت کے لیے جاسوسی کے مقدمے میں گرفتار ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد جن اداروں سے منسلک تھی وہ ان کے بارے میں صحیح شناخت نہیں رکھتے تھے، اور ان کا خیال تھا کہ بعض حکومتی انجمنوں اور پروگراموں کے ذریعے لوگوں کی حمایت حاصل کر کے لبنان کے اقتصادی بحران سے نمٹ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں صیہونی حکومت نے لبنان کے اقتصادی، مالی اور سیاسی بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، لبنان کے جوانوں کا استحصال کرنے اور انہیں جاسوس کے طور پر ملازمت دے کر لبنان کے گھریلو معاشرے میں گھسنے کی کوشش کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ جو دشمن کے لیے جاسوسی کے جال میں پھنستے ہیں، ان کی سرگرمیوں کی نوعیت نہیں جانتے اور یہ نہیں جانتے کہ وہ اسرائیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔













تبصرہ کریں