مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کئے جانے کی برسی اور ایک ہزار شہداء کی داستان

مسجد اقصیٰ کو نذرآتش کرنے کی 53ویں برسی کے موقع پر اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے تمام فلسطینی گروہوں کی شرکت کے ساتھ "ایک ہزار شہداء کی کہانی" کے عنوان سے ایک قومی آرٹ فیسٹیول کا انعقاد کیا۔

فاران: شہداء کا لہو ایک شمع ہے جو فلسطین کی آزادی کا راستہ روشن کرتا ہے۔ غزہ کے عوام نے حماس تحریک کی جانب سے تمام فلسطینی گروپوں اور فورسز کی شمولیت کے ساتھ منعقد کئے گئے” ایک ہزار شہداء” کے قومی فیسٹیول میں شرکت کی۔ یہ فیسٹیول مسجد الاقصیٰ کو جلانے کی 53ویں برسی کے موقع پر منایا گیا ہے۔
تحریک حماس کے رہنما اسماعیل رضوان نے العالم نیوز چینل کے ساتھ گفتگو میں کہا: مسجد الاقصی کو نذر آتش کرنے کی برسی کے موقع پر ہم ایک ہزار شہدا کی یاد کو تازہ کرتے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ہم شہداء، جہاد اور مقاومت کے راستے کو قدس اور مسجد الاقصیٰ کی آزادی تک جاری رکھیں گے۔
اسلامی جہاد تحریک کے رہنما “خضر حبیب” نے بھی العالم کے رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا: ہمیں یقین ہے کہ مزاحمتی فلسطینی قوم صہیونی دشمن کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دے گی اور آخر کار فلسطینی قوم ہی ہے جو اس سرزمین پر باقی رہ گی اور یہ غاصب دشمن ہے جو باذن الہی زوال اور نابودی سے دوچار ہو گا۔
مغربی غزہ میں حماس تحریک کے سکریٹری، ایہاب الغصین نے العالم کے ساتھ بات چیت میں کہا: ” ایک ہزار شہداء کی کہانی ” ایک قومی اور فنکارانہ فیسٹیول ہے جسے بالکل نئے اور اختراعی انداز میں ڈیزائن اور ترتیب دیا گیا ہے۔ . ہم نے اس فیسٹیول میں شہداء کے خاندانوں سے اپنی وفاداری کا اعلان کرنے اور سب کو بتانے کے لیے شرکت کی کہ ہم فلسطین کی آزادی یا شہادت کا رتبہ حاصل کرنے تک شہداء کے راستے پر گامزن رہیں گے۔ ہمارا پیغام واضح ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم روز بروز مسجد اقصیٰ اور فلسطین کی آزادی کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔
شہداء کے اہل خانہ نے اس فیسٹیول میں اس بات پر زور دیا کہ وہ فلسطین کی آزادی کے لیے مزید قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔