معاریو: غزہ میں اسرائیل کے اسٹریٹجک اہداف حاصل نہیں ہوسکے
فاران: عبرانی اخبار معاریو نے اعتراف کیا کہ غزہ میں 453 دن کی جنگ کے باوجود اسرائیل کا کوئی بھی اسٹریٹجک اہداف حاصل نہیں ہو سکا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی انٹرنیشنل گروپ کے مطابق، معاریو اخبار، تل ابیب ایڈیشن نے ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ “غزہ کی پٹی میں جارحانہ کارروائیوں سے اسرائیل کے طے کردہ اسٹریٹجک اہداف میں سے کوئی بھی حاصل نہیں ہوا اور یہ جنگ حماس کے خاتمے یا اس کے ہتھیار ڈالنے کا باعث نہیں بن سکی۔ ”
معاریو نے زور دے کر کہا: “یہ جارحانہ آپریشن جنگ کے تزویراتی اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔”
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے: “اس آپریشن نے قیدیوں کے معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں کی ہے اور اس سلسلے میں حماس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا ہے۔ یہ آپریشن نہ حماس کے خاتمے کا باعث بنا، نہ اس کے ہتھیار ڈالنے اور نہ ہی حماس کے خلاف عوامی بغاوت کا سبب بنا۔
معاریو نے مزید کہا: “شمالی غزہ کی پٹی کے تمام حصوں میں جھڑپیں جاری ہیں، جس سے زمین پر ایک نئی حقیقت پیدا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔”
اس دوران المیادین نے لکھا کہ اسرائیلی میڈیا نے نئے سال کے آغاز پر اسرائیلی فوج کو درپیش بہت سے چیلنجز کے بارے میں بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ “طویل جنگ نے فوج، خاص طور پر ریزرو فورسز کو تھکا دیا ہے”۔
انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ “2024 کے دوران قیدیوں کی رہائی پر کوئی سیاسی پیش رفت نہیں ہوئی” اور مزید کہا: “اس بات کا امکان نہیں ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد دنیا کی کوئی فوج اس طرح کی آزمائش سے گزری ہو۔”
اس سے قبل “معاریو” اخبار کے شمالی حصے اور عسکری امور کے نامہ نگار، ایوی اشکنازی نے اعتراف کیا کہ “اسرائیل خود کو غزہ کی دلدل میں پھنسا ہوا محسوس کر رہا ہے اور اسے جنگ کے مستقبل کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے۔”













تبصرہ کریں