شمعون پیریز کی کتاب ‘جدید مشرقی وسطیٰ’ کا مختصر جائزہ

یہ کتاب یہودی ریاست کے لئے پیریز کے خیالات اور اقدامات کی پیروی کرتی ہے اور اس کے مستقبل کے اقدامات کی پیشین گوئی کے لیے مفید ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: صہیونی ریاست کے سابق سربراہ شمعون پیریز کی کتاب “جدید مشرق وسطی” (The New Middle East) سنہ 1996ع‍ میں شائع ہوئی۔ ایک سادی سی کتاب جو افکار اور تجاویز کا ایک مجموعہ نہیں سمجھی جاتی، اور اس کی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ یہ صہیونی ریاست کے اہداف کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک عملی اور مرحلہ وار منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ کتاب یہودی ریاست کے لئے پیریز کے خیالات اور اقدامات کی پیروی کرتی ہے اور اس کے مستقبل کے اقدامات کی پیشین گوئی کے لیے مفید ہے۔
یہودی ریاست کی جانب سے پیریز پروجیکٹ کے نفاذ کی بنیاد یہ ہے کہ یہ منصوبہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر، خیالات اور تجزیے پر مشتمل ہے۔ یہ منصوبوں کی طرح تین عناصر یعنی “وقت، خلا اور مقدار” (time, vacuum and quantity) پر مبنی نہیں ہے؛ کیونکہ یہ عناصر ٹیکنالوجی کی ترقی اور بیلسٹک میزائلوں کی ترقی کے ساتھ نہیں ہیں اور اپنی تاثیر کھو چکے ہیں۔
میزائلوں کی تیز رفتاری اور بہت کم وقت میں طویل فاصلے طے کرنے کی وجہ سے ٹائم فیکٹر نے اپنی غیر عدم کفایت (Inefficiency) ثابت کر کے دکھائی ہے۔ اور خلاء سازی (Vacuum making factor) کے عنصر کی افادیت بھی اس وقت ختم ہوئی جب میزائلوں نے قدرتی رکاوٹوں کی افادیت کا خاتمہ کیا۔
میزائل اور کمیت کے لحاظ سے بھی، مذکورہ میزائل بھاری مقدار میں ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان سے سبقت لے چکے ہیں۔ اور یوں یہودی ریاست کی تزویراتی گہرائی سے متعلق نظریات باطل ہو چکے ہیں۔
صہیونی ریاست کی استعماری پالیسیوں میں اصلاح کی ضرورت نے شمعون پیریز کے منصوبے کی ساکھ میں اضافہ کیا ہے۔ اسی منصوبے نے اس خیال کو ہمارے نزدیک دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ صہیونی ریاست عرب عظیم تر مشرق وسطیٰ کے نئے منصوبے کے نفاذ کی خواہاں ہے۔

اقتصادیات، صہیونی ریاست کا متبادل طریقہ کار
جو لوگ شمعون پیریز کی کتاب اور اس کے افکار کا بغور مطالعہ کرتے ہیں، اس کے نقطہ ہائے کار اور افکار کی سمت بندی کا ادراک کر سکتے ہیں، جو کہ اس کے قومی، مذہبی اور حتی کہ قوم پرستانہ نقطہ ہائے نظر کا ایک مجموعہ ہے۔ البتہ یہ اعتقادات و نظریات اقتصادی مفادات اور خوشحالی اور غربت کی بیخ کنی کی فضا میں ہضم ہوکر رہ جاتے ہیں، اور اقتصادی عنصر صرف عرب-اسرائیل مصالحت کی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے۔
عرب ممالک کے ساتھ صہیونی ریاست کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے چلنے والی موجودہ تشہیری اور سرکاری توجیہات کی پیروی اسی وجہ سے کی جارہی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ صہیونی ریاست وسیع کوششیں کر رہی ہے کہ معاشرے میں مصلحت پسندانہ نظریات کو مذہبی نقطہ نظر کے متبادل کے طور پر متعارف کرا دے۔
شمعون پیریز غاصب صہیونی ریاست کے بانیوں کے حلقے کا آخری فرد تھا جو 67 تک اس ریاست کی سیاست میں سرگرم عمل رہا اور بہت سے صہیونی جرائم کا باعث و بانی رہا۔