کویت اور اردن میں غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے مہمات کا آغاز

کویت میں سرگرم سماجی کارکنوں نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑنے کے لیے اتوارکے روز ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد 17 سال سے مسلط محاصرہ توڑنے کے لیے صہیونی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔

فاران: کویت میں سرگرم سماجی کارکنوں نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑنے کے لیے اتوارکے روز ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد 17 سال سے مسلط محاصرہ توڑنے کے لیے صہیونی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔

اسی طرح کی ایک مہم اردن میں بھی شروع کی گئی ہے۔ دونوں مہمات کا مقصد غزہ کی پٹی کے عوام کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھانا اور صہیونی ریاست پر دباؤ ڈالنا ہے۔

سماجی کارکنوں نے “غزہ کا محاصرہ توڑنے کی عالمی مہم” کی سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر ایک پریس کانفرنس کے دوران “کویت سے غزہ کی بندرگاہیں کھولیں” کے نعرے کے تحت اپنی مہم کا اعلان کیا۔

مہم کے سربراہ کویتی کارکن سعد النشوان نے کہا کہ “یہ مہم ہماری ذمہ داری ہے اور غزہ میں فلسطینی عوام کی حمایت اور ان پر مسلط کردہ شدید محاصرے کو ختم کرنے کے لیے انسانی اور اسلامی فریضہ کی انجام دہی کا حصہ ہے۔

النشوان نے وضاحت کی کہ یہ مہم بائیس ستمبرسے تیس  تک جاری رہے گی، جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینی عوام کے مصائب کو کئی واقعات کے ذریعے اجاگر کرنا ہے۔

مہم کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “صہیونی قابض ریاست نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کا 17 سال سے ایک گھناؤنا محاصرہ کر رکھا ہے، جس سے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں اور تمام شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے سنہ 2007ء میں اس وقت ٓغزہ کا محاصرہ کرلیا تھا جب فلسطین میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں غزہ اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے بھاری اکثریت سےکامیابی حاصل کی تھی۔