یہ جنگ ابھی منطقی انجام کی تلاش میں ہے

وزیراعظم نے فلسطینی صدر محمود عباس سے فون پر رابطہ قائم کرتے ہوئے فلسطین کو دی جانے والی انسانی مدد جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ہندوستان کے ساتھ پوری دنیا نے غزہ میں اسپتال پر ہونے والے حملے کی مذمت کی، مگر کسی نے اس حملے کو دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا۔ اگر حماس کا اسرائیل پر حملہ دہشت گردی سے تعبیر کیا گیا تو غزہ کے اسپتال، مسجدوں اور چرچ میں موجود بے گناہ زخمیوں پر ہونے والے حملوں کو کن بنیادوں پر دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا گیا؟

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: غزہ کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ اسرائیل مسلسل فضائی حملے کر رہا ہے، جس میں بے شمار انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ فلسطینیوں نے کلیسا اور مسجدوں میں یہ سوچ کر پناہ لی تھی کہ شاید اسرائیلی فوجیں مذہبی عمارتوں پر حملے نہیں کریں گی، مگر جن کا مذہب جنگ اور خوں ریزی ہو، انہیں مندر، مسجد اور کلیسا سے مطلب نہیں ہوتا۔ اسرائیلی فوج کھلے عام درندگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور نام نہاد حقوق انسانی کی تنظیمیں فقط ہمدردی کا اظہار کر رہی ہیں۔ غزہ کے لوگوں پر بجلی اور پانی کی سپلائی بند ہے، رسد گاہوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ غزہ تک انسانی امداد پہنچانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔ سینکڑوں امدادی ٹرک مصر کی “رفح کراسنگ” پر داخلے کے منتظر ہیں، مگر اسرائیل مشروط اور محدود اجازت دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل “رفح کراسنگ” پر موجود ہیں، مگر ان کی موجودگی بے معنی نظر آرہی ہے۔

اگر اقوام متحدہ جیسی حقوق انسانی کی تنظیمیں جنگ بندی اور جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا نہیں کرسکتیں تو ان تنظیموں کے ہونے کا فائدہ کیا ہے۔؟ اس وقت غزہ میں طبی صورت حال بدتر شکل اختیار کرچکی ہے۔ زخمیوں کے علاج کے لئے دوائیاں اور ضروری سامان موجود نہیں ہے۔ اسپتال فضائی حملے میں منہدم ہوچکے ہیں۔ محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غزہ کی پچاس ہزار سے زائد حاملہ خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ لاشوں کے انبار لگے ہوئے ہیں، جنہیں دفنانے کی جگہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود امریکی صدر جو بائیڈن فلسطین کی امداد کے بجائے اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کے شانہ بہ شانہ کھڑے نظر آئے۔ کیونکہ اسرائیل امریکہ کی پیداوار ہے اور اس کی پشت پناہی کے بغیر اسرائیل دم تک نہیں مار سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو بائیڈن نے حماس اور پوتین کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو پامال کرنے میں دونوں کے عزائم مشترکہ ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب جنگ لبنان کی سرحدوں کی طرف جا رہی ہے۔ حزب اللہ لبنان نے اسرائیلی سرحدوں اور فوجوں پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔اس جنگ کا منطقی انجام ابھی طے نہیں ہے، کیونکہ کئی ملکوں کی مزاحمتی فورسز اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لئے آمادہ نظر آرہی ہیں۔ ایک طرف حزب اللہ لبنان کی سرزمین سے اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کرچکا ہے، تو دوسری طرف انصاراللہ یمن نے بھی اسرائیل کے ساتھ جنگ کا عندیہ دیا ہے۔ حزب اللہ عراق کی طرف سے عراق میں موجود امریکی ائیربیس “عین الاسد” پر بھی حملہ کیا گیا۔ عراق میں حشد الشعبی اور کتائب حزب اللہ جیسے مزاحمتی گروپ بھی موجود ہیں، جنہوں نے داعش کے خلاف اپنی طاقت کا لوہا منوایا تھا۔ابھی ان گروپوں کی طرف سے مزاحمت اور مقاومت کی خبریں موصول نہیں ہوئی ہیں، لیکن اگر یہ جنگ لبنان، یمن اور شام کی سرحدوں کی طرف منتقل ہوتی ہے تو پھر عراقی مزاحمتی گروپ بھی اس جنگ میں داخل ہوں گے۔

اس حقیقت کو اسرائیل اور اس کے حلیف ملک بخوبی جانتے ہیں کہ ان تمام مزاحمتی گروہوں کے پس پشت ایران کھڑا ہے۔ ایران بھی خطے میں تنہاء نہیں ہے بلکہ وہ اس ورلڈ آڈر کا حصہ ہے، جو امریکہ کے خلاف وجود میں آیا ہے، اس لئے اس جنگ کے منطقی انجام کے بارے میں ابھی بات کرنا جلد بازی ہوگی۔ اسرائیل حزب اللہ کی طاقت اور فوجی توانائی سے بخوبی واقف ہے۔ اس سے پہلے بھی ان کے درمیان 33 دنوں تک پنجہ آزمائی ہوچکی ہے۔ اس کے بعد بھی گاہے بہ گاہے سرحدوں پر دونوں کی طرف سے حملے ہوتے رہتے ہیں۔ 33 روزہ جنگ کے وقت حزب اللہ بہت مضبوط نہیں تھا، لیکن اس کے جوانوں کے جذبۂ شہادت اور عسکری مقاومت نے اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ آج کا حزب اللہ کل کے حزب اللہ سے بہت مختلف ہے۔

عالمی طاقتیں بخوبی جانتی ہیں کہ شام اور عراق میں داعش کو شکست دینا حزب اللہ کے جنگجوئوں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ آج بھی شام میں حزب اللہ اپنی پوری توانائی کے ساتھ موجود ہے۔ حزب اللہ نے وقت کے ساتھ اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے پاس دنیا کے بہترین جنگجو اور جدید ترین ہتھیار موجود ہیں۔ آج کا حزب اللہ جنگی ساز و سامان میں خود کفیل ہے، جس کی طاقت سے امریکہ اور اس کے حلیف ملک اچھی طرح باخبر ہیں۔ اس لئے اس جنگ کو کسی ایک سرحد پر نہیں لڑا جائے گا، بلکہ مختلف سرحدوں پر لڑے جانے کا امکان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں کے لئے الرٹ جاری کیا ہے۔ وہیں برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ اگر اس جنگ میں امریکہ کے حلیف ملک اسرائیل کے ساتھ آتے ہیں تو انہیں بھی دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں کے لئے الرٹ جاری کرنا پڑے گا۔

دنیا کے بیشتر ممالک اس جنگی منظرے نامے پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر وہ ملک جو امریکہ اور اس کے مخالف ورلڈ آڈر کا حصہ ہیں۔ عرب ملک اظہار ہمدردی اور یکجہتی سے آگے نہیں بڑھے۔ مصر نے تو فلسطینی شہریوں کو اپنی سرحدوں میں داخلے کی اجازت تک نہیں دی۔ اگر تمام عرب ملک اتفاق رائے کے ساتھ اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے تو حالات مختلف ہوتے۔ او آئی سی کے اجلاس میں بھی عرب ملکوں نے کسی بنیادی نکتہ پر بات نہیں کی، جبکہ ایران نے انہیں متوجہ کرتے ہوئے اسرائیل کے بائیکاٹ کا مشور ہ دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی ملکوں کو غزہ کے مظلوم عوام تک ادویات، خوراک اور انسانی امداد پہنچانے کے لئے راستے کھولنے کے لئے ضروری اقدام کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کے جرائم کا جائزہ لینے کے لئے انسانی حقوق کونسل کا اجلاس بھی فوری طور پر منعقد ہونا چاہیئے، نیز غزہ پر اسرائیلی وحشیانہ حملوں کا سلسلہ فوری طور پر رکوایا جائے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام اسلامی ملک صیہونی حکومت سے اپنے سفارتی روابط منقطع کریں اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عرب ملکوں کو چاہیئے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تیل اور گیس کی تجارت بند کر دیں۔ لیکن ایران کے اس مشورے پر عرب ملکوں نے کان نہیں دھرا۔ ظاہر ہے کہ عربوں کی تجارت کا انحصار یورپی ملکوں پر ہے۔ اسرائیل اور امریکہ جیسے ملک ان کے تیل کے بڑے خریدار ہیں، اس لئے وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کی تیل کی تجارت متاثر ہو۔ جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا تھا، جو بے نتیجہ رہا۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں برازیل نے جنگ بندی کی قرارداد پیش کی، جسے امریکہ نے ویٹو کر دیا۔

روس چین اور ایران سمیت کئی ملکوں نے امریکی اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کے دورے پر فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تک نہیں کیا بلکہ غزہ کے اسپتال پر حملے کی ذمہ داری بھی حماس کے سر عائد کر دی۔ ان کا رویہ جنگ بندی میں پیش قدمی کے بجائے جنگ کے شعلے بھڑکانے والا تھا، جس کے بعد صورت حال مزید سنگین ہوگئی۔ بائیڈن کی پشت پناہی کے بعد اسرائیل نے ہر اس عمارت کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جہاں بے گھر مظلوم فلسطینی پناہ گزیں ہیں۔ اسرائیلی فوجوں نے تاریخی مسجد “العمری الکبیر” اور “کلیسا” پر بھی بم برسائے، جس میں سینکڑوں افراد زخمی اور شہید ہوئے۔

ہندوستان بھی خطے کے ناگفتہ بہ حالات سے بے خبر نہیں ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا تھا، لیکن اگلے کچھ ہی دنوں میں وزارت خارجہ نے فلسطین کے تئیں اپنی سابقہ پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعہ ایک آزاد اور خود مختار فلسطین کے قیام کی وکالت کی۔ اس کے باوجود اسلامو فوبیا کے شکار بعض لوگ مسلسل حکومت ہند سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کی کھلی حمایت کا اعلان کرے۔ اس کے برعکس وزیراعظم نریندر مودی نے فلسطین پر ہندوستان کے موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے غزہ کے اسپتال پر ہونے والے حملے میں مرنے والے سینکڑوں لوگوں کی موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی وضاحت کی۔

وزیراعظم نے فلسطینی صدر محمود عباس سے فون پر رابطہ قائم کرتے ہوئے فلسطین کو دی جانے والی انسانی مدد جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ہندوستان کے ساتھ پوری دنیا نے غزہ میں اسپتال پر ہونے والے حملے کی مذمت کی، مگر کسی نے اس حملے کو دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا۔ اگر حماس کا اسرائیل پر حملہ دہشت گردی سے تعبیر کیا گیا تو غزہ کے اسپتال، مسجدوں اور چرچ میں موجود بے گناہ زخمیوں پر ہونے والے حملوں کو کن بنیادوں پر دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا گیا؟ ظاہر ہے کہ نام نہاد امن پسند اور مہذب دنیا اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی، کیونکہ دہشت گردی اسی منافقانہ رویئے کی پیدوار ہے۔