اسرائیلی بربریت، مدد کے لیے فریاد کرتی چھ سالہ بچی خاندان سمیت شہید

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی طرف سے نہتے فلسطینیوں کے خلاف وحشت اور بربریت کے مظاہر جاری ہیں۔

فاران: غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی طرف سے نہتے فلسطینیوں کے خلاف وحشت اور بربریت کے مظاہر جاری ہیں۔

 

چند روز قبل مدد کے لیے فریاد کرتی چھ سالہ بچی اور اس کے خاندان کو اسرائیلی قابض فوج نے بے دردی کے ساتھ شہید کردیا۔

 

چھ سالہ ہند اور اس کے خاندان کی لاشیں جنوبی غزہ میں تل الھویٰ سے ملیں جہاں ان کی گاڑی کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ شہیدہ ہند کے ساتھ ہلال احمر کے دو امدادی کارکنوں کو بھی شہید کردیا گیا تھا۔

 

ہند اور اس کے شہید خاندان کی لاشیں بارہ دن بعد ملیں۔ ان کے ساتھ ہلال احمرکے دو کارکنوں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔ جب کہ ہند رجب کے ساتھ اس کے خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں شامل ہیں۔

 

مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شہید ہند کے اہل خانہ کو اس کی لاش اور ان کے رشتہ داروں کی لاشیں ملی ہیں جو ان کے ساتھ نشانہ بنی گاڑی میں موجود تھے۔ ان میں اس کے ماموں بشر حمادہ، ممانی اور ان کے تین بچے شامل ہیں۔

 

یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب قابض فوج کے ٹینکوں نے غزہ شہر کے جنوب مغرب میں تل الھوا محلے میں “مالی چوک” کے آس پاس گھستے ہوئے شہری بشر حمادہ کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے ساتھ اس کی بیوی اور بچے گیارہ سالہ محمد ،14 سالہ لایان،13 سالہ رغد اور چھ سالہ بھانجی، ہند سوار تھی۔

 

گاڑی میں موجود ہر شخص کو فوری طور پر شہید کر دیا گیا۔ سوائے ہند اور اس کے کزن لایان کے جو بعد میں اس وقت شہید ہو گئے جب وہ ریڈ کریسنٹ کے عملے سے فون پر بات کر رہی تھی۔ ہند قابض ٹینکوں اور فوجیوں میں گھری ہوئی گاڑی کے اندر پھنسی رہی۔

 

ہلال احمرنے آج اعلان کیا کہ اس کی ایمبولینس کو تل الھویٰ کے علاقے میں بم حملے میں تباہ حالت میں پایا۔ اس کے عملے میں یوسف زینو اور احمد المدعون چھوٹی بچی ہند کو بچانے کے مشن کے دوران دانستہ طورپر اسرائیلی فوج کی طرف سے کی گئی بمباری میں شہید ہوگئے تھے۔

 

ہلال احمر سوسائٹی نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ایمبولینس کو جائے وقوعہ پر پہنچنے پر قابض فوج نے جان بوجھ کر نشانہ بنایا، کیونکہ ایمبولینس اس گاڑی سے چند میٹر کے فاصلے پر پائی گئی تھی۔

 

دو ہفتے پہلے ہند رجب نام کی یہ چھ سالہ بچی اس وقت لاپتہ ہوگئی تھی جب اس کے گھر والوں کو اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا اور وہ اپنے اردگرد لاشیں پڑی دیکھ رہی تھی۔ چھ سالہ بچی کے ساتھ اس کے گھر والے غزہ میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے غزہ کو چھوڑ کر جا رہے تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا اور اسرائیلی فوج نے گاڑی پر فائرنگ کر کے بچی کے گھر والوں کو قتل کر دیا۔ جبکہ بچی کو لاپتہ کر دیا گیا۔

 

بچی کے دادا باہا حمادہ نے ‘ای ایف پی’ کو بتایا ہے کہ بچی سمیت خاندان کے دوسرے لوگوں کو اسرائیلی فوج نے قتل کر دیا ہے۔

 

خاندان کے بعض دیگر افراد بعد ازاں ایک پیٹرول سٹیشن کے قریب پہنچے تو وہاں تباہ شدہ گاڑی موجود تھی۔ بچی کے دادا نے کہا خاندان کے لوگ ہفتہ کے روز اس علاقے میں پہنچے جہاں تباہ شدہ گاڑی موجود تھی کہ ہفتہ کے روز ہی اسرائیلی فوج اس علاقے سے پیچھے ہٹی ہے۔

 

غزہ میں وزارت صحت نے بھی بچی کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ وزارت صحت نے بچی کے خاندان کے حوالے سے کہا ہے کہ اس چھ سالہ رجب کو بھی اسرائیلی فوج نے قتل کیا ہے۔