فاران تجزیاتی ویب سائٹ: اور ملئیشیا کی فٹبال ٹیم بھی مہم میں شامل ہو گئی، دنیا بھر کی فٹبال ٹیموں نے “اسرائیل کو سرخ کارڈ دکھاؤ” مہم میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کی حمایت میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
صہیونی قابض ریاست – اس وقت جب آپ یہ رپورٹ پڑھ رہے ہیں، اسرائیل دنیا کی سب سے زیادہ ناپسندیدہ ریاست بن چکی ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے: یہ واحد ایسی ریاست ہے جو کھلے عام نسل کشی کر رہی ہے اور چونکہ اس کا اثر و رسوخ معیشت، میڈیا اور سیاست میں گہرا ہے، اس لیے یہ کسی بھی قانونی کارروائی سے بچ نکلتی ہے۔ اگر کوئی عدالت اس نسل پرست حکومت کے خلاف ثبوتوں کے ساتھ نسل کشی کا فیصلہ کر بھی دیتی ہے، تو وہی اثر و رسوخ وائٹ ہاؤس کے ذریعے حرکت میں آتا ہے تاکہ اس عدالت اور اس کے ججوں پر پابندیاں اور دباؤ ڈالا جائے۔
لیکن عوام میں اس اثر و رسوخ کا زیادہ اثر نہیں پڑا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے 16 ماہ اور 50,000 فلسطینیوں کے قتلِ عام کے بعد – جن میں سے 30,000 بچے، شیر خوار اور خواتین ہیں – دنیا بھر کے عوام نے مختلف طریقوں سے اسرائیل کو بے نقاب کیا ے اور مسلسل اسے دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔ کھیلوں کے میدان بھی اس سے مستثنی نہیں اور باضمیر کھلاڑی بھی ان مظالم پر خاموش نہیں رہے امریکہ، یورپ اور ایشیائی یونیورسٹیوں کے طلبہ و اساتذہ کی طرح ان کھلاڑیوں نے بھی اسرائیل کے خلاف مؤقف اختیار کیا ہے۔
“اسرائیل کو ریڈ کارڈ دکھاؤ” مہم
دنیا بھر کے فٹبال کلب اور کھلاڑیوں نے صہیونی ریاست کے خلاف “ریڈ کارڈ” مہم شروع کی، جس میں اب تک متعدد کھیلوں کی ٹیمیں شامل ہو چکی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ملائیشیا کی فٹبال ٹیم بھی اس عالمی مہم میں شامل ہو گئی ہے۔
ٹیلیگرام چینل “العالم” نے اپنی رپورٹ میں لکھا:
“ملئیشیا کے فٹبال شائقین نے بھی ‘اسرائیل کو ریڈ کارڈ دکھاؤ’ مہم میں شامل ہو کر فلسطین کی حمایت کا اظہار کیا۔ یہ مہم اب تک 30 مختلف ممالک میں پہنچ چکی ہے اور 72 کلبوں کے شائقین نے اسرائیل کے خلاف ریڈ کارڈ دکھایا ہے۔ سب سے پہلے یہ مہم پچھلے مہینے اسکاٹ لینڈ کے کلب ‘سلٹک’ کے شائقین نے یورپین چیمپئنز لیگ کے ایک میچ میں شروع کی تھی، جو اب عالمی سطح پر پھیل چکی ہے۔ اوساسونا، پیرس سینٹ جرمین، الاویس، آئندھوون، گالاتاسرائے اور ناروے کے کلب بودو کے شائقین پہلے ہی اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔”
غزہ میں مزید 6 بچے شدید سردی میں جاں بحق
موسم سرما کی شدت کے ساتھ، غزہ کے لوگ بدترین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
المانیٹر کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی سول ڈیفنس تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ پچھلے ہفتے شدید سردی کی لہر کے نتیجے میں چھ نومولود بچوں جان کی بازی ہار گئے۔
تنظیم کے ترجمان محمود بسال نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا:
“شدید سردی اور حرارتی آلات کی عدم دستیابی کی وجہ سے اب تک چھ نومولود بچوں کی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔”
موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے، اور مشرقی بحیرہ روم کا خطہ سرد ہواؤں کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔
اگرچہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں انسانی امداد کا داخلہ بڑھا ہے، لیکن لاکھوں فلسطینی اب بھی خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں لوگ اپنے تباہ شدہ گھروں کے کھنڈرات میں زندگی گزار رہے ہیں اور سخت سردی میں زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
حماس نے اسرائیل پر امداد روکنے کا الزام لگایا
حماس نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ضروری امداد، سر چھپانے کے سامان اور حرارتی آلات کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔
حماس کے بیان میں کہا گیا:
“ہم ثالثوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوراً اسرائیلی قابض حکومت کو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی سے روکیں اور فوری طور پر پناہ گاہیں، حرارتی آلات اور طبی امداد غزہ میں پہنچائیں۔ یہ غزہ کے بچوں کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔”
بائیڈن کے خلاف مقدمہ درج
خبر رساں ادارہ “مہر” نے روسی نیوز چینل “رشیا ٹوڈے” کے حوالے سے بتایا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم “ابھی، عرب دنیا کے لیے جمہوریت” نے امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی حکومت کے دو اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں مقدمہ درج کروا دیا ہے۔
مقدمے میں الزامات:
بائیڈن، سابق وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور سابق وزیر دفاع لوئیڈ آسٹن پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیل کو فوجی، سیاسی اور سفارتی مدد فراہم کرکے غزہ میں ہونے والے جنگی جرائم میں معاونت کی۔
تنظیم نے 172 صفحات پر مشتمل شواہد اور قانونی دستاویزات بین الاقوامی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو فراہم کر دی ہیں۔
تنظیم کے وکیل ریڈ براؤڈی نے کہا: “ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو بائیڈن، بلنکن اور آسٹن کے خلاف جنگی جرائم میں شراکت کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کافی ہیں۔ جو بم فلسطینی ہسپتالوں، اسکولوں اور گھروں پر گرے، وہ امریکی ساختہ تھے۔ یہ قتل و غارت امریکی حمایت سے انجام پائی۔”
یہ مقدمہ اس وقت درج کیا گیا جب بین الاقوامی عدالت نے گزشتہ سال اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر جنگ یوآو گالانت کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
مصنف : ترجمہ زیدی ماخذ : فاران خصوصی
تبصرہ کریں