اسرائیل 75سال سے فلسطینیوں پر وحشیانہ مظالم ڈھا رہا ہے: ملکہ رانیا

اردن کی ملکہ رانیہ العبداللہ نے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جنگ کے تناظر میں دنیا پر "کھلم کھلا دہرے معیار" اور "بہری خاموشی" پر عرب دنیا کے صدمے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

فاران: اردن کی ملکہ رانیہ العبداللہ نے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جنگ کے تناظر میں دنیا پر “کھلم کھلا دہرے معیار” اور “بہری خاموشی” پر عرب دنیا کے صدمے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ فلسطینی پچھلے 75 برسوں میں اسرائیلی ریاست کے وحشیانہ مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں۔

 

انہوں نے منگل کی شام CNN پر صحافی کرسٹیئن امان پور کے ساتھ ایک براہ راست انٹرویو میں کہا کہ مغربی میڈیا میں مروجہ بیانیہ کے باوجود حقیقت اس کے برعکس کیونکہ فلسطینیوں کے قتل عام کا سلسلہ سات اکتوبر سے نہیں بلکہ پچھہتر سال سے جاری ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر نیٹ ورک اس کہانی کو “اسرائیل جنگ میں ہے” کے عنوان سے کور کرتے ہیں، لیکن دیوار فاصل کی دوسری طرف اور خاردار تاروں کے دوسری طرف فلسطینیوں کے لیے جنگ کبھی کیں نہیں بتائی جاتی۔  یہ 75 سال پرانی کہانی ہے، فلسطینی عوام کی موت اور بے گھر ہونے کی کہانی آج کی نہیں بہت پرانی ہے۔

 

انہوں نے نشاندہی کی کہ  اسرائیلی بیانیے میں جوہری ہتھیاروں سے لیس علاقائی سپر پاور (اسرائیل) کو اجاگر کرنے کو نظر انداز کیا گیا ہے جو فلسطینیوں کے خلاف روزانہ کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے۔

 

انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینی ماؤں کو اپنے بچوں کے نام اپنے ہاتھوں پر لکھنے پر مجبور کیا گیا ہے کیونکہ ان پر بمباری سے موت کے گھاٹ اتر جانے اور ان کی لاشوں کے چھیتڑے اڑا دیے جاتے ہیں۔

 

انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ کے قوانین کا اطلاق ہر ایک پر ہونا چاہیے۔ اسرائیل اپنے دفاع کی آڑ میں وحشیانہ کارروائیاں کرتا ہے اور مغرب اس کے جرائم پر خاموش ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ’’اب تک 6 ہزار شہری شہید ہوچکے ہیں ان میں 2400 بچے ہیں۔ اس قتل عام کو اپنا دفاع کیسے سمجھا جاسکتا ہے؟‘‘ ہم بڑے پیمانے پر قتل عام کو گائیڈد میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران ہم نے غزہ پر اندھا دھند بمباری دیکھی ہے۔ پورے خاندانوں کو تباہ کر دیا گیا، رہائشی محلوں کو نیست ونابود کر دیا گیا، اور ہسپتالوں، سکولوں، گرجا گھروں، مساجد، طبی عملے، صحافیوں اور اقوام متحدہ کے امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کو اپنا دفاع کیسے سمجھا جاتا ہے؟!”

 

انہوں نے کہا کہ جدید تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ہم اس طرح کے انسانی مصائب کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور دنیا جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کر رہی ہے۔