اقوام متحدہ میں رکنیت کی درخواست واپس لینے کے لیے اتھارٹی پر دباؤ
فاران: منگل کے روزعبرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل میں ووٹنگ کے لیے قرارداد کا مسودہ پیش نہ کرے، جس میں فلسطین کو اقوام متحدہ کا رُکن ریاست تسلیم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
امریکی انتظامیہ نے فلسطینیوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر درخواست جمع کرائی گئی تو وہ ویٹو کا حق استعمال کرے گی۔ یہ بات امریکی اور فلسطینی فریقوں کے سینیر حکام نے عبرانی ویب سائٹ واللا کو بتائی۔
ویب سائٹ نے اشارہ کیا کہ فلسطینی اتھارٹی نے چند ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اسے اقوام متحدہ کی مکمل رُکن ریاست کے طور پر قبول کرنے کے لیے اپنی کوششوں کی تجدید کرے گی اور سالانہ اجلاس کے دوران اس مسئلے کو سلامتی کونسل میں ووٹ کے لیے اٹھائے گی۔ اگلے ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس میں اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔
ویب سائٹ نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اس اقدام کو فلسطینی مسئلے کو بین الاقوامی ایجنڈے پر واپس لانے کی کوشش کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح امن عمل میں تعطل کو توڑنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔
فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کے مبصر رُکن کا درجہ حاصل ہے اور ان کی مکمل رکنیت انہیں اپنی ریاست کی بین الاقوامی شناخت دیتی ہے۔
فلسطینیوں نے 2011 میں اقوام متحدہ میں رکنیت کے لیے درخواست دی تھی، لیکن یہ ووٹنگ کے لیے سلامتی کونسل تک نہیں پہنچ سکی تھی۔
سنہ 2012 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 138 ممالک کی اکثریت سے فلسطین کو ویٹیکن جیسی غیر رکن ریاست کا درجہ دینے کی منظوری دی۔اس اقدام سے فلسطینی اتھارٹی کو جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے کچھ عمل میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔













تبصرہ کریں