امریکہ غزہ کے بچوں کا قاتل

اسرائیل کے ناجائز قیام کے آغاز سے ہی امریکہ اس کا سب سے بڑا سیاسی حامی اور اسلحہ فراہم کرنے والا ملک تصور کیا جاتا ہے۔ امریکہ ساختہ اسلحہ اسرائیل کی فوجی طاقت کا اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف بین الاقوامی قوانین کی رو سے غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے یہ اسلحہ عام شہریوں کے خلاف استعمال ہونے کی صورت میں اس کی براہ راست ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔

فاران: اگرچہ غاصب صیہونی رژیم نے طوفان الاقصی کے بعد دو ہفتے گزر جانے کے باوجود ابھی تک غزہ پر زمینی حملہ شروع نہیں کیا لیکن فضائی بمباری میں چار ہزار سے زیادہ فلسطینی شہریوں کو شہید کر ڈالا ہے جن میں 1700 بچے بھی شامل ہیں۔ اس سے امریکہ سمیت اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک کا کردار عیاں ہوتا ہے۔ جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ پر 6 ہزار سے زیادہ بم برسا ڈالے تھے۔ ہالینڈ کے فوجی امور کے ماہر مارک گارلاسکو نے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر ایک ہفتے کے دوران برسائے گئے بموں کی تعداد افغانستان میں امریکہ کی ایک سال کی بمباری سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف غزہ کی پٹی انتہائی گنجان آباد اور چھوٹا سا علاقہ ہے جس کا کل رقبہ صرف 360 مربع کلومیٹر ہے۔ درج ذیل وجوہات کی بنا پر ہم امریکہ کو غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کا قاتل قرار دے سکتے ہیں۔

1)۔ غاصب صیہونی رژیم کا سب سے بڑا سیاسی حامی
1948ء میں اسرائیل نامی ناجائز ریاست کے قیام سے لے کر آج تک امریکہ اس کا سب سے بڑا سیاسی حامی رہا ہے۔ 1981ء سے 1989ء کے دوران امریکی صدر رونلڈ ریگن نے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی مالی اور فوجی امداد میں بڑا اضافہ کر دیا۔ ریگن پہلا امریکی صدر تھا جس نے غاصب صیہونی رژیم کو امریکہ کا اسٹریٹجک اثاثہ قرار دیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ نے ہمیشہ فلسطینی اور صیہونی حکمرانوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے وقت صیہونی رژیم کے حق میں جانبداری کا ثبوت دیا ہے۔ جارج بش اسرائیل کا شدید حامی تھا اور اس نے 2002ء میں مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے روڈمیپ پیش کیا۔ اوباما نے بھی ہمیشہ اسرائیل سے گہری دوستی کا اظہار کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدی کی ڈیل نامی اہم منصوبہ پیش کیا۔

2)۔ غاصب صیہونی رژیم کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک
صیہونی رژیم مغربی ایشیا میں فوجی اخراجات کرنے والی سب سے بڑی رژیم ہے۔ اسٹاک ہوم مرکز تحقیقات برائے امن نے اپریل 2023ء میں اپنی رپورٹ میں بیان کیا کہ صیہونی رژیم نے 2022ء میں اپنی فوجی سرگرمیوں پر 23.4 ارب ڈالر خرچ کئے ہیں۔ 2018ء سے 2022ء کے دوران اسرائیل نے بیرونی ممالک سے جو اسلحہ حاصل کیا اس کا 79 فیصد امریکہ، 20 فیصد جرمنی اور 0.2 فیصد اٹلی سے حاصل ہوا۔ اسرائیل امریکہ کا سب سے قریبی نان نیٹو اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔ اسرائیل نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوجی تجارت اور سکیورٹی تعاون میں بہت زیادہ مراعات حاصل کی ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد کا مقصد خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ ہے۔

1948ء میں اسرائیل نامی ناجائز ریاست کے قیام پر امریکہ نے اسے 130 ارب ڈالر امداد فراہم کی۔ 1983ء میں امریکہ اور اسرائیل نے JPMG نامی سیاسی فوجی گروہ تشکیل دیا جس کا مقصد مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے اور سکیورٹی تعاون کے جدید مواقع تلاش کرنے کیلئے مشترکہ پالیسیاں اختیار کرنا تھا۔ اس گروپ نے مغربی ایشیا خطے میں امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم کے درمیان تعاون آگے بڑھانے میں انتہائی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح اس گروپ نے ابراہیم معاہدے کے تحت اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام اور امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو فولادی گنبد نامی فضائی دفاعی نظام فراہم کئے جانے میں بھی مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ 1992ء سے امریکہ نے اسرائیل کو 6.6 ارب ڈالر مالیت کی فوجی امداد کا نیا سلسلہ شروع کیا جو Excess Defense Articles Programme کے تحت انجام پاتی ہے۔

3)۔ اکتوبر 2023ء کے بعد امریکی امداد میں خاطرخواہ اضافہ
امریکہ نے اس سال اکتوبر کے مہینے سے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی فوجی امداد میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ اب تک اسرائیل امریکہ سے 23.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد حاصل کر چکا ہے۔ ان میں ایف 35 جنگی طیارے، کے 53 سی ایچ جنگی ہیلی کاپٹرز، فضا میں ایندھن بھرنے والے اے 46 کے سی جہاز اور ٹارگٹڈ بم اور میزائل شامل ہیں۔ تل ابیب اب تک غزہ پر بمباری میں امریکہ ساختہ 39 GBU بم بھی بروئے کار لا چکا ہے جن کا اصل مقصد کنکریٹ والے مورچے تباہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ بم امریکہ کی بوئنگ کمپنی نے تیار کر کے اسرائیل کو فراہم کئے ہیں۔ یاد رہے غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کی بڑی تعداد اسی نوعیت کے بم حملوں میں شہید ہوئی ہے۔ امریکی کانگریس نے اس سال 39 جی بی یو بموں سمیت اسرائیل کو 3.8 ارب مالیت کا اسلحہ دینے کی اجازت دی تھی۔

نتیجہ گیری
اسرائیل کے ناجائز قیام کے آغاز سے ہی امریکہ اس کا سب سے بڑا سیاسی حامی اور اسلحہ فراہم کرنے والا ملک تصور کیا جاتا ہے۔ امریکہ ساختہ اسلحہ اسرائیل کی فوجی طاقت کا اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف بین الاقوامی قوانین کی رو سے غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے یہ اسلحہ عام شہریوں کے خلاف استعمال ہونے کی صورت میں اس کی براہ راست ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ 2001ء میں ہیومن رائٹس کمیشن کی منظور ہونے والی قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک کسی دوسرے ملک کو اسلحہ فراہم کرتا ہے اور وہ یہ اسلحہ جنگی جرائم کے ارتکاب میں استعمال کرتا ہے تو یہ ملک بھی قصور وار ٹھہرے گا۔ اس بات کا اشارہ آرٹیکلز 8، 16، 17 اور 18 میں ملتا ہے۔ آرٹیکل 16 میں ایسے ملک کو بھی قصور وار ٹھہرایا گیا ہے جو دوسرے ملک کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے۔