ایران کی “وعدہ صادق” آپریشن کے زلزے کے بعد کے جھٹکے اور ٹرمپ انتظامیہ پر اسکے اثرات

اسٹریٹیجک امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے "وعدہ صادق" آپریشن نے امریکہ کو ایک بڑا سبق دیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوا کہ جدید دفاعی نظاموں پر زیادہ اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ یہ وہ معاملہ تھا جس نے ٹرمپ کو "امریکہ کا آئرن ڈوم" بنانے کا حکم دینے پر مجبور کیا۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: اسٹریٹیجک امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے “وعدہ صادق” آپریشن نے امریکہ کو ایک بڑا سبق دیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوا کہ جدید دفاعی نظاموں پر زیادہ اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ یہ وہ معاملہ تھا جس نے ٹرمپ کو “امریکہ کا آئرن ڈوم” بنانے کا حکم دینے پر مجبور کیا۔
فارس پلس گروپ: “ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اسرائیل کے خلاف بیلسٹک میزائل حملے نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے میزائل دفاعی نظاموں کی کمزوری کو بے نقاب کیا، جو کہ ممکنہ طور پر بھارت اور بحر الکاہل کے علاقے میں چین کے ساتھ کسی تنازعے کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔ ایران نے اسرائیل پر 400 مختلف میزائل داغے تھے۔ اسکے نتیجہ میں امریکہ اور چین کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کون سی چیزیں مؤثر ہیں اور کون سی نہیں۔” یہ جملے، رائٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ ہیں جو ایران کے اسرائیل پر “وعدہ صادق 2” آپریشن کے بعد سامنے آئی تھی۔


ڈاکٹر «کالین کہ»، جو دفاعی اور اسٹریٹیجک مطالعات کے محقق اور بین الاقوامی مطالعات کے استاد کہتے ہیں: «واشنگٹن کے لیے ایران کے حملے کا اصل نکتہ – جو جدید دفاعی نظام کے خلاف سب سے بڑا بیلسٹک میزائل حملہ تھا – یہ ہے کہ بیجنگ کے میزائلوں کو ٹریک کرنا ایران کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے۔ اگر ہم صرف حملوں سے دور رہنے کے زاویے سے دیکھیں، تو اب حملوں کو روکے رکھنے پر امید نہیں رکھی جا سکتی؛ یہ امید کہ دفاعی نظام میزائل حملوں کے اثرات کو کم کر سکے گا، اب باقی نہیں رہی۔»
ان دنوں، ڈونلڈ ٹرمپ، امریکہ کے نئے صدر نے ایک ایگزیکٹو آرڈر (Executive order) کے ذریعے «امریکہ کا آئرن ڈوم» بنانے کا حکم دیا۔


اسرائیل نے پچھلے کئی دہائیوں میں اپنے دفاعی نظاموں پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔ یہ کثیر سطحی نظام، امریکیوں کی موجودگی اور سینکڑوں ملین ڈالر کی لاگت کے ساتھ، اسرائیل کو فضائی خطرات سے بچانے کے لیے نصب کیے گئے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ اس نے مقبوضہ علاقوں کو ایک ناقابل تسخیر جگہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ نظام کی پہلی سطح «ختص» یا « پیکان (تیر 2 اور 3)» ہے، جو 2400 کلومیٹر تک کے بیلسٹک میزائلوں کو ٹریک کرنے کے لیے ہے۔ دوسری سطح «فلاخن داوود» ہے جو زمین سے زمین تک کے درمیانے فاصلے کے میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور تیسری سطح یعنی «آئرن ڈوم» کو قریبی فاصلے پر داغے جانے والے راکٹوں کو ٹریک کرنے کے لیے نصب کیا گیا ہے۔ ان سطحوں کے ساتھ، امریکی پیٹریاٹ سسٹم، امریکی بحری جہاز اور اسرائیلی فضائیہ بھی دفاعی کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، «وعدہ صادق 2» آپریشن میں، 200 میزائلوں میں سے تقریباً 90 فیصد کامیابی سے اپنے اہداف پر پہنچے۔


اس آپریشن کے بعد، امریکہ نے اسرائیل کے فضائی دفاع کو دوبارہ تعمیر اور تقویت دینے کے لیے مقبوضہ اراضی میں «تھاد» دفاعی نظام نصب کرنے کی کوشش کی۔ پینٹاگون کے ترجمان جنرل پیٹرک رائڈر نے اعلان کیا تھا: «صدر کے حکم پر، وزیر دفاع کو اجازت ہے کہ وہ اسرائیل کی فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ایران کے غیر معمولی حملے کے بعد ایک “تھاد” دفاعی نظام اور اس سے متعلقہ امریکی فوجی عملے کو تعینات کرے۔ یہ اقدام امریکہ کی اسرائیل کے دفاع کے بارے میں ضمانت کو مزید مستحکم کرتا ہے، خاص طور پر ایران کے مزید میزائل حملوں کے خلاف۔»
لیکن اس نظام کے باوجود، یمن اور حزب اللہ کے سادہ میزائلوں، راکٹوں، اور حتیٰ کہ خودکش ڈرونز نے کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایران کے «وعدہ صادق» آپریشن نے نہ صرف اسرائیل کی ناقابل تسخیر ہونے کے فریب کو توڑا، بلکہ دنیا بھر میں دفاعی حکمت عملیوں کو بھی بدل کر رکھ دیا۔ ان دنوں، ٹرمپ امریکی آئرن ڈوم بنانے کے لیے حکم دے چکے ہیں تاکہ ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو دوبارہ تعمیر کیا جا سکے۔ لیکن مختلف تجربات کے بعد، ایسا لگتا نہیں کہ امریکہ اسرائیل کی طرح ناقابل تسخیر ہو سکے گا۔ جیسے اسرائیل نہیں ہو سکا ہے۔