جنگ بندی صہیونی دراندازی کو روکنے کے لئے تھی مزاحمت کی نابودی کے لئیے نہیں

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ کے آئندہ منصوبے دریائے لیتانی کے جنوب میں معاہدے پر عمل درآمد، لبنان کی تعمیر نو، اور صدر کے انتخاب پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے مثبت بات چیت کا ذکر کیا جس میں صیہونی حکومت کے خلاف موقف اور لبنانی فوج کو مضبوط بنانے جیسے امور شامل ہیں۔

فاران تجزیاتی خبرنامہ: حزب اللہ لبنان کے جنرل سیکریٹری شیخ نعیم قاسم نے صیہونی حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت ایک سرطانی پھوڑے کی مانند ہے جسے ختم کرنا ضروری ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارہ فارس کے مطابق، نعیم قاسم نے ہفتے کی شام خطے کی تازہ ترین صورتحال پر خطاب کیا اور کہا کہ غزہ کی حمایت کرنا حزب اللہ کا ایک شرافتمندانہ اقدام تھا اور اس کی ذمہ داری بھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی حمایت تمام مسلمانوں کا فرض ہے اور صیہونی دشمن ہر اس مزاحمت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے سامنے کھڑی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت کی بقا ہی فتح کی علامت ہے۔ حزب اللہ اپنی جدوجہد جاری رکھے گا اور اپنی بقا کو یقینی بنائے گا۔

شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا:
“ہم اسرائیل کی لبنان پر جارحیت کا ہر لمحہ انتظار کر رہے تھے، لیکن اس کے وقت کے بارے میں علم نہیں تھا۔ تاہم، دشمن اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔” انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے دشمن کی مزاحمت کو ناکام بنایا، اسرائیلی شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا، اور کسی بھی صورت میں حزب اللہ ہتھیار ڈالنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صیہونی حکومت کی جارحیت ایک مسئلہ ہے، نہ کہ مزاحمت۔ دشمن اس نتیجے پر پہنچا کہ حزب اللہ کے خلاف مزاحمت بے سود ہے، اسی لیے اس نے جنگ بندی اور جارحیت روکنے پر اتفاق کیا۔

سرطانی پھوڑے اسرائیل کے خلاف جدوجہد ضروری ہے

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ مزاحمتی قوتوں کی استقامت اور شہدا کے خون نے لبنان میں جنگ بندی کو ممکن بنایا۔ انہوں نے کہا:
“حزب اللہ جیت گیا کیونکہ دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ مزاحمتی قوتیں ابھی بھی جہاد کر رہی ہیں۔” انہوں نے وضاحت کی کہ جنگ بندی کا مقصد جارحیت روکنا تھا، نہ کہ مزاحمت کا خاتمہ۔ حزب اللہ نے دشمن کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کیا ہے اور صبر کا مظاہرہ کیا تاکہ معاہدے کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم مصلحت کے تحت عمل کرتے ہیں اور اجتماعی طور پر دشمن کا مقابلہ کرنا ضروری ہے تاکہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکا جا سکے۔

حزب اللہ نہ ہوتا تو اسرائیل بیروت تک پہنچ چکا ہوتا

نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ نے لبنان پر صیہونی جارحیت کو روک دیا اور اسرائیل کو سرحدوں پر محدود کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا:
“اگر حزب اللہ کی مزاحمت نہ ہوتی، تو اسرائیل بیروت تک پہنچ چکا ہوتا اور اس کے بعد یہودی بستیوں کی تعمیر کا آغاز کر دیتا۔” انہوں نے شام کی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ صیہونی حکومت نے امریکی حمایت کے ساتھ شامی فوج کی تمام صلاحیتوں کو تباہ کر دیا تاکہ پورے خطے کو کمزور کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حزب اللہ اور لبنانی عوام نے اسرائیل کے توسیعی عزائم کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ مضبوط ہے اور اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ مزاحمت جاری رہے گی اور جو بھی اسرائیل پر انحصار کرے گا، وہ یقیناً ناکام ہوگا۔

مستقبل کی منصوبہ بندی:

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ کے آئندہ منصوبے دریائے لیتانی کے جنوب میں معاہدے پر عمل درآمد، لبنان کی تعمیر نو، اور صدر کے انتخاب پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے مثبت بات چیت کا ذکر کیا جس میں صیہونی حکومت کے خلاف موقف اور لبنانی فوج کو مضبوط بنانے جیسے امور شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام میں حکومت کے زوال سے حزب اللہ کو اپنی سپلائی لائنز اور شامی امداد تک رسائی میں رکاوٹ پیش آئی، لیکن اہم بات یہ ہے کہ مزاحمت جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شام جلد مستحکم ہوگا اور حزب اللہ نے شام کی حمایت اس لیے کی کیونکہ وہ اسرائیل کے خلاف تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ شام کی نئی حکومت کو بھی اسرائیل کے خلاف موقف اپنانا چاہیے اور اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے گریز کرنا چاہیے۔