جہاد اسلامی: بعض عرب صہیونیوں کی خوشامد کے لئے فلسطین کا نام بھی نہیں سننا چاہتے/ جہاد اور حماس متحد ہیں

سیکریٹری جنرل اسلامی جہاد تحریک نے کہا: عرب حکمرانوں کے افسوسناک رویے کے باوجود فلسطین سے صہیونی غاصبوں کو نکال باہر کرنے تک جہاد اور حماس کی متحدہ جدوجہد جاری رہے گی؛ گوکہ بعض عرب حکمران فلسطین اور فلسطینی قوم کا نام تک سننے کے روادار نہیں ہیں!

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: لبنانی نیوز چینل “المیادین” کے مطابق زیاد النَخالہ نے جمعرات کو “میدانوں کا معرکہ (معركۃُ وحدۃِ السَّاحات)، کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا: جہاد اسلامی اور حماس پرچم مقاومت تلے متحد و متفق ہیں، ہم سرتسلیم خم نہيں کرتے، سازباز نہیں کرتے، ہمارے پرچم لہراتے رہیں گے۔
معلوم نہیں کہ ہمیں کتنے نوجوانوں کے خون کا نذرانہ پیش کرنا پڑے گا کہ دشمن ہم سے راضی ہوجائے، افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے عرب برادران ممالک مسجد الاقصی، قدس شریف اور مغربی کنارے میں صہیونی دشمن کی جارحیتوں، ظلم و ستم اور قتل و غارت کو نظرانداز کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا: ہم جب فلسطینی قوم کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں، تو بعض اخباری چینل جہاد اسلامی سمیت محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، وہ اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ جس طرح کہ مغرب کے حمایت یافتہ صہیونی غاصبوں نے غزہ کو ایک وسیع اور کھلے قیدخانے میں بدل دیا ہے، اسی طرح انھوں نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کو بھی ایک بڑی یہودی نوآبادی میں تبدیل کیا ہے، جہاں وہ ہر روز قتل اور دہشت گردی میں مصروف رہتے ہیں، اور عرب حکمران جعلی اسرائیلی ریاست کی خوشامد کی خاطر غزہ اور مغربی پٹی کی صورت حال سے چشم پوشی کررہے ہیں تاہم، ہم حماس، جہاد اسلامی اور متحدہ فلسطینی مقاومت کی حیثیت سے اپنی سرزمین، اور اس سرزمین میں اپنے حقوق اور مقدسات کا دفاع کررہے ہیں، چنانچہ ان لوگوں کی بات نہیں سنتے اور نہیں مانتے جو ہمارے عوام کے غلام اور اجرتی بن کر زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم ایک بڑی جیل میں بند ہیں جہاں قاتل اور کوتوال ایک ہی ہے، چنانچہ مقاومت بھی ایک ہی اور ہمارے عوام بھی ایک ہی ہیں کیونکہ ہمارا دشمن بھی ایک ہی ہے۔ اور جہاد اسلامی اور حماس پرچم اسلام کے سائے میں متحد ہیں۔
انھوں نے کہا: دشمن ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے لیکن حالیہ معرکے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ مقاومت فلسطین کے میدانوں میں متحد ہے، اور ہم بزدل غاصبوں کو مقاومتی تنظیموں کے درمیان جماعتی اور علاقائی فتنہ انگیزی کی اجازت نہيں دیں گے۔
النَخالہ نے زور دے کر کہا: فلسطینیوں کا جہاد فلسطین سے صہیونیوں کے انخلاء تک جاری رہے گا، چنانچہ میں غاصب دشمنوں کو مشورہ دیتا ہوں: کہ اے دشمنو! جہاں سے آئے ہو وہیں چلے جاؤ، کیونکہ تم تاریخ کا کوڑا کرکٹ ہو، ہمارے عظیم لوگ تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گے۔ ہمارے کام میں پسپائی اور سازباز کی کوئی گنجائش نہيں ہے۔ ہم اپنا مقاومتی سفر عظیم ترین فتح تک جاری رکھیں گے
انھوں نے کہا: بعض عرب حکمران فلسطینی سرزمین اور فلسطینی قوم کا نام تک سننے کے لئے تیار نہیں ہیں، وہ یہ برداشت نہیں کر پا رہے ہیں کہ فلسطین اور فلسطین ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار نہيں ہے۔ لیکن ان کے افسوسناک رویوں کے باوجود فلسطینی ملت اور فلسطینی سرزمین کا نام عظیم سے عظیم تر ہو جائے گا اور فلسطینی جدوجہد کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔
انھوں نے کہا: جو بھی ہمیں نشانہ بنانا چاہے، اسے اپنے حساب و کتاب پر نظر ثانی کرنا پڑے گی؛ کیونکہ ہمارا انتقام بہت بڑا ہے اور ہماری ذمہ داری میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے؛ مکمل فتح و کامیابی تک نہ پسپائی ہوگی نہ ہی کسی قسمت کا تذبذب آڑے آئے گا۔ جہاد اور مقاومت کے متحدہ محاذ میں اپنا راستہ اور اپنا مقصد غزہ اور مغربی کنارے میں اپنا راستہ اور اپنا مقصد واضح کرکے دکھایا ہے۔
انھوں نے کہا: ہمارا اتحاد جاری رہے گا، مشترکہ آپریشن روم اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا، میں قدس بریگیڈز کے بہادر مجاہدوں کو سلام و درود کا ہدیہ پیش کرتا ہوں، اور اعلان کرتا ہوں کہ مقاومت کے مجاہدین غاصب دشمن اور جعلی یہودی ریاست کے مقابلے میں متحد ہیں۔
اسلامی جہاد کے قائد نے زور دے کر کہا: ہماری قوم اقوام ملت کی سردار ہے، کیونکہ ہم دنیا کے بے شرم ظالموں اور مجرموں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور اسرائیلی ریاست ظالم قوتوں کی لے پالک ہے۔
انھوں نے کہا: وحدت میادین کا معرکہ اس سے کہیں زیادہ اہم تھا؛ ہم غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں مسجدالاقصی کی بےحرمتی کی مذمت کرتے ہیں؛ غاصب صہیونی دشمن نے جنگ بندی کی بھیک مانگتے ہوئے جو وعدے مصر کو دیئے تھے، ان پر عملدر آمد میں لیت و لعل سے کام رہا ہے، ہم دشمن کی طرف سے مجاہدین کے تعاقب اور ان پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں، ہم وحدت میادین کے معرکے میں ممالک ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہنے والے والے ممالک – یعنی اسلامی جمہوریہ ایران، عربی جمہوریہ شام، قطر، جمہوریہ عراق، جمہوریہ یمن اور جمہوریہ لبنان – کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کو ہدیۂ درود و سلام پیش کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا: ہم اپنے بزدل دشمن اور اس کے بے تشخص حامیوں اور بہی خواہوں سے کہتے ہیں: اس سرزمین سے تمہیں بہرحال نکلنا پڑے گا۔
…………………