ریاض میں منعقدہ اسلامی-عربی سربراہی کانفرنس کو اسلامی جمہوریہ ایران کی تجاویز

اسلامی جمہوریہ ایران کے ماہرین کی ٹیم نے سعودی عرب میں ہونے والے اسلامی-عربی سربراہی اجلاس سے قبل فلسطین کے جائز حقوق کے دفاع اور اسلامی ممالک کی طرف سے صہیونی ریاست پر پابندیاں لگانے کے دو نکات کی بنیاد پر اپنی تجاویز پیش کی ہیں۔

فاران: آج (سینیچر 11 نومبر 2023ع‍) کو فلسطین کے دفاع اور فلسطینیوں پر ـ خاص طور پر غزہ میں ـ غاصب صہیونی ریاست کے جرائم کی مذمت کے لئے اسلامی ممالک اور عرب لیگ کے سربراہوں کے مشترکہ ہنگامی اجلاس ریاض میں منعقد ہو رہا ہے۔
اس اجلاس سے قبل، گذشتہ جمعرات (9 نومبر) کو اسلامی جمہوریہ ایران کے ماہرین کی ایک ٹیم ریاض پہنچی اور اجلاس میں شریک ممالک کے ماہرین کا اجلاس منعقد ہؤا۔
اسی سلسلے میں ایک باخبر ذریعے نے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان مذاکرات کے دوران دو اہم مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں ہے: 1۔ فلسطینیوں کے جائز حقوق کا دفاع و تحفظ جس کا ایک نمونہ بوسنیا کے حوالے سے سنہ 1992ع‍ میں نافذ کیا گیا، اور یوں اسلامی ممالک عملی اور اقدامات عمل میں لائیں، فلسطینی عوام کو فوجی امداد اور اسلحہ فراہم کریں۔
سنہ 1992ع‍ میں جب بوسنیا کے مسلمانوں کو سربوں کے مظالم کا سامنا تھا، اسلامی جمہوریہ ایران نے بوسنیا کے عوام کو “اپنے دفاع کا حق” (Right of self-defense) دینے کی تجویز پیش کی گئی اور بوسنیا کو فوجی کمک پہنجائی گئی اور یوں سربوں کو پیچھے دھکیلا گیا اور ان کے مظالم اور جرائم میں کمی آئی۔
2۔ اس تمہیدی اجلاس میں ایران نے دوسرا نکتہ یہ پیش کیا کہ اسلامی اور عرب ممالک اسرائیل کا بائیکاٹ کیا جائے، بالخصوص وہ ممالک جو صہیونی ریاست کو تیل فراہم کر رہے ہیں۔
نیز ان ابتدائی اجلاسو میں دوسرے نکات پر زور دیا گیا ہے جیسے: خطے کے ممالک، بالخصوص مسلم ممالک اپنی فضاؤں کو صہیونی ریاست کے لئے ہتھیار لینے والے طیاروں کے لئے بند کردیں، اور امریکہ کو خطے میں اپنے اڈوں سے مقبوضہ فلسطین، ہتھیار لے جانے سے منع کریں۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ ترکی اور آذربائی جان سمیت بعض ممالک جو صہیونیوں کو تیل فراہم کرتے ہیں، بعض پیش کردہ نکات سے اتفاق نہیں کر رہے ہیں اور انہوں نے صرف صہیونیوں کے اقدامات کی زبانی کلامی مذمت پر اکتفا کیا ہے۔
بہرصورت، خطے کے عوام اور امت اسلامیہ کے عوام کو توقع ہے کہ اسلامی ممالک کا سربراہ روایتی بیانات جاری کرنے کے بجائے، غزہ میں صہیونی ریاست کے جرائم سے نمٹنے کے لئے عملی اقدامات عمل میں لائیں۔
واضح رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم واحد اہم تنظیم ہے جو تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کر سکتا ہے لیکن افسوس ہے کہ یہ تنظیم آج تک اہم واقعات رونما ہونے پر مذمتی پیغامات جاری کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکی ہے، اور امت مسلمہ کو توقع ہے کہ اب جبکہ ایک مسلم قوم کو دشمنوں کی طرف سے تباہ کن جارحیت کا سامنا ہے اور پورا عالم کفر فلسطینیوں کی بربادی اور جبری نقل مکانی پر متحد ہو چکا ہے، اپنی افادیت کو ثابت کرے اور عملی اقدامات عمل میں لا کر امت کے لئے باعث فخر بنے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔