زہد اور خدا شناسی امام جعفر صادق علیہ السلام کے سکون قلب کے  لئے دو اہم نسخے  

شک نیں کہ جتنا جتنا انسان دنیا کی طرف راغب ہوگا اتنا ہی اسے غم و اندوہ کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ دنیا کبھی انسان کو سکون نہیں دے سکتی جتنا وسائل حیات کی بھرمار ہوگی اتنا ہی انسان کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جائے گا

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: آج کی دنیا میں جسے دیکھو وہ پریشان گھوم رہا ہے جس کے پاس سرمایہ نہیں ہے وہ سرمایہ کے حصول میں سرگرم عمل ہے جس کے پاس سرمایہ ہے اسکو اس بات کاٹینشن ہے کہ اسے محفوظ کیسے کیا جائے؟ بڑھایا کیسے جائے؟ جس کے پاس کوئی جاب نہیں ہے وہ جاب کی تلاش میں جدو جہد کر رہا ہے جس کے پاس جاب ہے وہ اسے زندگی بھر اختیار کرنے کے طریقوں کے ساتھ ترقی کی راہوں کو تلاش کر رہا ہے، آج کل کی جدید دنیا نے حیات بشر کو یکسر تبدیل کر دیا ہے ،زندگی کے مختلف شعبوں میں جو صنعتی ترقی ہوئی ہے  اور اسی کے ساتھ تاریک راہیں جس طرح روشن ہوئی ہیں انہوں نے انسان کے لئے کمال کی راہوں کو طے کرنے کا ایک وسیع میدان فراہم کر دیا ہے لیکن انسان حیران و پریشان ہے کہ کس طرف جائے کون سے موڑ پر ٹہرے کدھر مڑے کے منزل اس سے دور نہ ہو ، آج کی جتنی بھی ترقی ہے اسکا محور مادہ ہے انسان کی تمام علمی  ترقیاں انسان کے تمام افکار کا محور مادی مسائل ہیں یہی وجہ ہے کہ معنوی قدریں کمزور پڑتی جا رہی ہیں  اور اسی کی وجہ سے لایعنیت کا بازارگرم ہے ،معاشرے میں ایک بے چینی و اضطراب کا ماحول ہے  بے یقینی و بے چینی کے دیو کے سامنے انسانی سکون و اطمینان نے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں ،مسلسل معنویت  کا نشیمن مادیت کی چنگاریوں سے جلتا جا رہا ہے اور مسلسل ہی انسان کے بے چینی و پریشانی میں اضافہ ہوتا چلا رہا ہے ،آج دنیا میں اپنی ظاہری کامیابی کے حصول کی وہ ہوڑ لگی ہے کہ نہ پوچھو اس ہوڑ میں اخلاق پامال ہوتا ہو تو ہو جائے اقدار جلتے ہوں تو جل جائیں  انصاف کا قتل ہوتا ہو تو ہو جائے  انسان بس یہ چاہتا ہے ظاہری طور پر اسے کہا جائے کہ یہ کامیاب ہے چاہے اس کامیاب انسان کے  قدموں میں کتنے ہی لوگوں کی کامیابیوں کو کچلا ہی کیوں نہ گیا ہو ، یہی ساری وہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے ظاہری ترقی کے باوجود انسان  کی روح بے چین و پریشان  نظر آتی ہے اور انسان سب کچھ حاصل کرنے لینے کے بعد بھی سکون کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے  اب سوال یہ ہے  ہم اس سکون کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں  جو عنقا ہو چکا ہے؟

یوں تو سکون قلب و اطمینان کا موضوع ایک مستقل عنوان ہے جس پر بہت سے لوگوں نے تفصیل سے گفتگو بھی کی ہے اور اپنی تحقیق کے نچوڑ کو بھی پیش کیا ہے لیکن ہم یہاں پر امام جعفر صادق علیہ السلام کی دو احادیث کی روشنی میں ایک ایسے نسخے کو پیش کریں گے جس پر عمل ہماری پریشانیوں کو کم کر سکتا ہے ۔ ۲۵ شوال بروایتے امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت سے منسوب ہے ، امام صادق علیہ السلام کی بے لوث خدمات ہی کی وجہ سے آج ہماری شناخت  ہے آپ نے اگر  سخت ترین و دشوار ترین حالات میں معارف قرآن  و اہلبیت  علیھم السلام و سیرت پیغمبر ص کے مختلف گوشوں کو اپنی علمی درسگاہ و شاگردوں کی تربیت کے ذریعہ ہم تک نہ پہنچایا ہوتا تو آج ہمارے پاس اتنا بڑ معنوی سرمایہ نہ ہوتا جس پر ہم ناز کرتے ہیں   امام علیہ السلام کی حیات طیبہ یوں تو ہمارے لئے مختلف ایسے دروازے کھول رہی ہے  جن سے ہمیں زندگی کے نئے افق کا پتہ چلتا ہے لیکن یہاں پر ہم آپ کی محض دو حدیثوں کو آپ کی خدمت میں پیش کریں گے جن سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی کی پریشانیوں سے نجات کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔

دنیا کی رغبت غم و رنج کا سبب اور ترک دنیا سبب راحت و سکون :

امام جعفر صادق علیہ السلام اپنی ایک حدیث میں فرماتے ہیں :

دنیا کی  رغبت انسان کے رنج و غم میں اضافے کا سبب ہے اور ترک دنیا و زہد  انسان کے دل اور اسکے بدن کی راحت کا سبب ہے  [1]

شک نیں کہ جتنا جتنا انسان دنیا کی طرف راغب ہوگا اتنا ہی اسے غم و اندوہ کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ دنیا کبھی انسان کو سکون نہیں دے سکتی جتنا وسائل حیات کی بھرمار ہوگی اتنا ہی انسان کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جائے گا  کیونکہ یہ ساری چیزیں وہ ہیں جو دنیا سے انسان کے لگاو اور تعلق کو بڑھانے کا سبب ہیں  جتنی توجہ انسان دنیا پر دے گا دنیا اتنا ہی اسکے غم و اندوہ میں اضافہ  پیدا کرے گی فرض کریں ایک انسان کے پاس بہت سرمایہ ہے تو جتنا سرمایہ بڑھے اس کے اندر مزید سرمایہ کے حصول کی بات پیدا ہوگی اور جتنا وہ سرمایے  کے اضافے کے لئے بھاگے گا اتنا ہی اسکی فکر مندی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا  جب کہ کوئی چیز بھی دنیا میں پائدار نہیں ہے  جتنا جتنا انسان غیر پائدار اور فانی چیزوں کی طرف بھاگے گا اتنا ہی ا سکے ہم و غم میں اضافہ ہوگا  اسکے بر خلاف  اگر دنیا سے تعلق خاطر ہی نہ ہو انسان زاہدانہ زندگی گزارے تو اسکے سر پر کوئی بوجھ نہیں ہوگا اسکا دل بھی سکون سے ہوگا اسکا  بدن بھی سکون سے ہوگا ۔

خداشناسی اور خوف خدا دنیا سے تعلق کا ختم ہونا :

امام جعفر صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں :

جس نے خدا کو پہچان لیا اور اسکا خوف دل میں رکھا  اس نے اپنے نفس کو دنیا سے موڑ دیا  [2]۔

خدا کی شناخت اور خوف خدا یہ وہ عظیم نعمت ہے جسے حاصل ہو گئی وہ کبھی راہ سے نہیں بھٹکتا، انسان گمراہ ہی اس لئے ہوتا ہے کہ خدا کو اس نے پہچانا نہیں ہے وہ نہیں جانتا کہ اسکا پروردگار رب العالمین ہے کائنات کا مالک ہے وہی ہے جو رازق ہے وہی ہے جو ہر مشکل میں انسان کے کام آنے والا ہے  نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا کو نہ پہچاننے کی وجہ سے نہ تو اس کے وجود میں خدا کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی وہ دنیا کے دلدل میں پھنسنے سے خود کو روک پاتا ہے لیکن جس  نے معرفت کی راہوں میں قدم رکھ دیا ہو  خدا کی شناخت بقدر ظر ف حاصل کر لی ہو  اسکا وجود خوف خدا سے کانپتا ہے وہ ہر کام نہیں کرتا ہر جگہ نہیں جاتا ہر بات نہیں سنتا ہر چیز نہیں دیکھتا بلکہ یہ دیکھتا ہے اسکے مالک سے ا س سے کیا چاہا ہے اس طرح اسکا نفس مرضی رب  کا طالب ہوتا ہے دنیا سے اسے رغبت نہیں رہتی ۔ اب جہاں جہاں ہمیں یہ دکھتا ہے کہ لوگ حکمرانوں کے دروازوں پر جھکے کھڑے ہیں سیاسی رہنماروں کے دروازوں پر جبہہ سائی کر رہے ہیں رب کے سامنے انہیں جھکنے میں اب مزہ نہیں آتا بلکہ وہ درباروں میں حاکموں کے سامنے جھکتے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ نہ تو انہیں رب کی معرفت ہے  اور نہ انکے دل میں خوف خدا ہے  یہی وجہ ہے کہ خدا کے علاوہ وہ ہر ایک سے ڈرتے نظر آتے ہیں ۔

[1]  ۔ الـرغبة فـى الـدنیـا تـورث الغم و الحزن والزهـد فـى الدنیا راحة القلب و البـدن. (تحف العقول، ص ۳۵۸)

[2]  ۔ مَن عَرَفَ اللهَ خافَ اللهَ و مَن خافَ اللهَ سَخَت نَفسَهُ عَنِ الدُّنیا.(جهاد النفس، ص ۸۳)