شکست کا ازالہ کرنے کی مایوسانہ اور مجرمانہ کوشش
فاران: غزہ میں اسلامی مزاحمت نے 7 اکتوبر 2023ء کے دن سے غاصب صیہونی رژیم کے خلاف طوفان الاقصی فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اسلامی مزاحمت نے پہلے دن سے ہی اس قدر برق آسا اور اعلی درجہ کی منصوبہ بندی سے فوجی حملے انجام دیے کہ اگلے 48 گھنٹے کے اندر اندر غزہ کے اردگرد موجود تمام صیہونی بستیوں اور وہاں موجود غاصب صیہونی رژیم کے فوجی اور انٹیلی جنس ٹھکانوں پر فلسطینی مجاہدین کا مکمل قبضہ ہو گیا۔ اس عمل نے غاصب صیہونی رژیم کو شدید نقصان اور صدمے سے دوچار کر ڈالا۔ طوفان الاقصی فوجی آپریشن کے آغاز سے ہی اسلامی مزاحمت نے اہم صیہونی شہروں اشدود اور عسقلان اور اس کے بعد تل ابیب، جنوبی بیت المقدس اور حتی بن گورین انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو شدید راکٹ اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس کا نتیجہ صیہونی شہریوں پر شدید خوف و ہراس طاری ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا۔
اسلامی مزاحمت کے اس اچانک حملے نے صیہونی رژیم کے فوجی اور انٹیلی جنس مراکز کو بھی شدید دھچکہ پہنچایا اور غاصب صیہونی رژیم ابتدا سے ہی شکست کا احساس کرنے لگی۔ اسرائیل اور اس کے اتحادی ممالک خاص طور پر امریکہ اس قدر شدید حیرت اور صدمے کا شکار تھے کہ طوفان الاقصی آپریشن شروع ہونے کے تین دن بعد تک ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہ آیا۔ تین دن کے بعد صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے وائٹ ہاوس اور مغربی اتحادی ممالک سے امداد حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پاوں مارنا شروع کئے۔ نیتن یاہو کی بوکھلاہٹ کا اندازہ لگانے کیلئے صرف یہی بات کافی ہے کہ جو بائیڈن حکومت سے سرد تعلقات کے باوجود وہ اسلامی مزاحمت کے خلاف مدد کیلئے روزانہ چار مرتبہ وائٹ ہاوس فون کرتے تھے اور سیاسی، فوجی اور انٹیلی جنس امداد فراہم کرنے کی درخواست کرتے تھے۔
امریکی حکومت نے ملک میں موجود صیہونی لابی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے بھرپور انداز میں غاصب صیہونی رژیم کی حمایت کا اعلان کیا اور عملی طور پر جنگ کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی۔ اس کی ایک بڑی وجہ صیہونی فوج کے حوصلے بری طرح پست ہو جانا تھی۔ صیہونی رژیم، فوج اور آبادکار ابتدا ہی میں اسلامی مزاحمت کے شدید وار سے سخت مایوسی کا شکار تھے جس کی وجہ سے امریکہ کے فوجی کمانڈرز نے براہ راست جنگ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ پہلے قدم پر شکست خوردہ صیہونی رژیم اور اس کے حامیوں خاص طور پر امریکہ نے وسیع پیمانے پر غزہ میں عام شہریوں کو شدید ترین فضائی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام میں امریکہ اور اس کے فوجی کمانڈرز براہ راست ملوث ہیں۔ اسی طرح صیہونی فوج نے غزہ کے اردگرد کچھ علاقوں کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش شروع کر دی۔
غزہ میں عام شہریوں کا قتل عام جاری رکھنے کے ساتھ امریکہ اور برطانیہ نے غاصب صیہونی رژیم کی ذلت آمیز شکست کا ازالہ کرنے کیلئے ایک شرمناک اور مجرمانہ منصوبہ پیش کر دیا۔ یہ منصوبہ غزہ میں مقیم فلسطینی شہریوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کر دینے پر مشتمل تھا۔ یہ خطرناک منصوبہ درحقیقت اسرائیل پر حکمفرما دائیں بازو کی شدت پسند صیہونی کابینہ کے دل کی آواز تھی اور وہ اس کا اظہار ماضی میں بھی کر چکے تھے۔ صیہونی حکمران غزہ میں مقیم فلسطینی شہریوں کو وہاں سے نکال کر مصر کے علاقے صحرائے سینا میں بسانے کا ناپاک منصوبہ بنا رہے تھے۔ امریکہ اور برطانیہ نے موجودہ جنگی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس منصوبے کو جامہ عمل پہنانے کا ارادہ کر لیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس منصوبے کا مقصد فلسطینی عوام کو مسلح جہادی گروہوں سے علیحدہ کر کے ان کی حفاظت کرنا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد غزہ سے عام شہریوں کو زبردستی باہر نکال کر اسلامی مزاحمتی گروہوں کو کچلنے کیلئے فوجی طاقت کا کھلا استعمال تھا۔ امریکہ اور اسرائیل کے اس منصوبے کو ان عرب حکمرانوں نے بھی مسترد کر دیا ہے جو غاصب صیہونی رژیم سے سازباز اور مذاکرات کے حامی ہیں۔ جب یہ منصوبہ ناکام ہو گیا تو صیہونی رژیم نے غزہ کے شمال میں بسنے والے فلسطینی شہریوں کو 24 گھنٹے کے اندر اندر اپنا گھر بار چھوڑ کر جنوبی غزہ چلے جانے کا الٹی میٹم دے دیا۔ ایسے میں صیہونی رژیم نے غزہ پر فضائی بمباری جاری رکھی تاکہ زمینی حملے کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ دوسری طرف غزہ کا پانی، بجلی، کھانے پینے کی اشیاء کی ترسیل اور انٹرنیٹ بھی کاٹ دیا گیا تاکہ فلسطینی عوام مجبور ہو کر صیہونی حکمرانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔
امریکی وزیر خارجہ اینتھونی بلینکن کے خطے کے ممالک کے دورہ جات بھی بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں جبکہ غزہ میں مقیم فلسطینی شہری بھی بھرپور استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ لہذا اب یوں دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ اور صیہونی رژیم غزہ پر زمینی حملہ انجام دینے سے باز آ جائیں گے۔ لیکن اس کے باوجود فضائی بمباری کے ذریعے فلسطینی شہریوں پر اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کرنے کیلئے دباو ڈالا جا رہا ہے۔ اس دباو کا مقصد اسلامی مزاحمتی گروہوں کو اپنی مطلوبہ شرائط کے تحت جنگ بندی پر مجبور کرنا ہے۔ لیکن فلسطینی شہریوں اور اسلامی مزاحمتی گروہوں کی بے مثال استقامت اور مزاحمت نے ان تمام شیطانی منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ فلسطینی قوم پوری طرح فلسطینی مجاہدین کا ساتھ دے رہی ہے جس کا نتیجہ غاصب صیہونی رژیم اور امریکہ کی ذلت آمیز شکست کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔













تبصرہ کریں