صہیونی منصوبے کے خاتمے کی الٹی گنتی

ایلان بابیح، جو انگلینڈ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور یورپی مرکز برائے فلسطین اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں، صیہونیت کے خاتمے کے آغاز کی 5 نشانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں

فاران:  اسرائیلی پروفیسر اور مورخ ایلان بابیح کا ایک مضمون شائع ہوا ہے، جس کا عنوان ہے “صہیونی منصوبے کے خاتمے کی الٹی گنتی۔” ایلان بابیح اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک مورخ اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ انگلستان کی آگسٹا یونیورسٹی میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے پروفیسر اور اسی یونیورسٹی کے یورپی سینٹر فار فلسطین اسٹڈیز کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ اگسٹا سینٹر فار ایتھنو پولیٹیکل اسٹڈیز کے سابق سربراہ بھی ہیں۔ مقبوضہ فلسطین کے شہر حیفہ میں ہفتے کے روز منعقدہ ایک سیمینار میں ایلان بابیح نے کہا ہے کہ صیہونی منصوبے کے خاتمے اور ناکامی کے آثار ظاہر ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا، “بدقسمتی سے اس منصوبے کے خاتمے میں کافی وقت لگے گا اور مستقبل قریب میں ایسا نہیں ہوگا، تاہم ہمیں خود کو تیار کرنا چاہیئے۔” اس اسرائیلی مورخ نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا “ہم اس مرحلے پر ہیں، جہاں صہیونی منصوبے کے خاتمے کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔” انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ناکامی کا عمل طویل ہے اور کہا: “ہمیں اس وقت کو مختصر کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں۔”

ایلان بابیح، جو انگلینڈ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور یورپی مرکز برائے فلسطین اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں، صیہونیت کے خاتمے کے آغاز کی 5 نشانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں: پہلی نشانی یہودی خانہ جنگی جو اسرائیل میں سیکولر اور مذہبی یہودیوں کے درمیان 7 اکتوبر سے پہلے شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: سیکولر معاشرہ، جن میں سے زیادہ تر یورپی یہودی ہیں، ایک آزاد اور خود مختار زندگی کی تلاش میں ہیں، وہ فلسطینیوں پر دباو جاری رکھنے پر آمادہ ہیں، چاہے اس کا مطلب مغربی کنارے اور غزہ کی مقبوضہ زمینوں کے کچھ حصوں کو کھونا ہی کیوں نہ ہو۔

اس کے برعکس مذہبی لوگ ہیں جن کی تنظیم کا نام “یہودا اسٹیٹ” ہے۔ یہ تنظیم مغربی کنارے میں بنی صیہونی بستیوں میں شروع ہوئی ہے اور “اسرائیل” کو مذہبی، یہودی اور نسل پرست حکومت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں یہ دونوں دھڑے آپس میں ٹکرائیں گے۔ ان دونوں میں صرف ایک چیز مشترک ہے، وہ سکیورٹی رسک ہے، جو بظاہر اب اہم نہیں رہا اور سب کی نظروں میں غیر اہم ہو رہا ہے۔”

دوسری علامت دنیا بھر میں مسئلہ فلسطین کے لیے بے مثال حمایت اور نسلی امتیاز کے خلاف لڑنے کے ماڈل کی تیاری ہے۔ ایسا ماڈل جس نے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے نظام کو اکھاڑ پھینکنے میں مدد کی تھی۔ اس اقدام کا ایک حصہ اسرائیل کا بائیکاٹ کرنا اور وہاں سے سرمایہ نکالنا ہے۔ یہ اقدام بہت اہم ہے۔ آج اس حکومت کو غیر سرکاری تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ وغیرہ نے نسل پرست حکومت کا درجہ بندی دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم حکومتوں پر معاشرے کے دباؤ کے ایک نئے مرحلے میں ہیں۔

تیسری علامت کا تعلق معیشت سے ہے۔ ایلان بابیح کا خیال ہے کہ صیہونی ریاست میں مالک اور کرایہ دار کے درمیان کافی فرق آچکا ہے۔۔۔۔ ہر کوئی آسانی سے گھر کا مالک نہیں بن سکتا اور ہر سال غربت کے خطرے سے دوچار ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: “7 اکتوبر کے بعد امریکی امداد کے باوجود جنگ پر اٹھنے والے بھاری اخراجات اور بھاری قیمت نے صیہونی حکومت کے معاشی مستقبل کو تاریک کر دیا ہے۔”

اس مورخ کے مطابق چوتھی نشانی صیہونی فوج کی جانب سے جنوب اور شمال میں یہودی برادری کی حمایت کرنے میں ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کے بعد “ایک لاکھ بیس ہزار لوگ شمال سے فرار ہوگئے ہیں، یہ سب گیلیل کے یہودی ہیں اور ان میں ایک بھی فلسطینی پناہ گزین نہیں ہے۔۔۔۔ اسرائیلی کابینہ ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کے اہل خانہ کی مدد نہیں کرسکی ہے۔

آخری نشانی یہودیوں کی نئی نسل بالخصوص امریکی یہودیوں کی سوچ ہے۔ وہ پرانی نسل کے ان خیالات کے خلاف ہیں، جو یہ سمجھتے تھے کہ “اسرائیل” انہیں ایک اور نسل کشی یا یہود دشمنی کی دوسری لہر سے محفوظ رکھے گا۔ اس اسرائیلی پروفیسر کا کہنا ہے کہ آج یہودیوں کی نئی نسل میں ماضی کے انتہاء پسندوں جیسا عقیدہ نہیں رہا اور ان کی اچھی خاصی تعداد فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کی تحریک میں شامل ہوچکی ہے۔