عراق میں صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا قانونی جرم بن گیا

عراقی پارلیمنٹ نے آج (جمعرات) کو متفقہ طور پر ایک قانون منظور کیا ہے جس میں صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

فاران: فارس نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی ڈیسک کے مطابق، عراقی پارلیمنٹ نے آج (جمعرات، 26 مئی) صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر پابندی کے ایک مسودہ پر ووٹ دے کر اسے قانونی شکل دے دی۔ اس قانون کی ایک اہم ترین شق صیہونی حکومت کے ساتھ کسی بھی سیاسی، سیکورٹی، اقتصادی، تکنیکی، ثقافتی، کھیل اور سائنسی تعاون کو کسی بھی عنوان سے جرم قرار دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ میں 275 اراکین کی موجودگی اور صیہونی مخالف قانون کی متفقہ منظوری
عراقی پارلیمنٹ کا آج کا اجلاس محمد الحلبوسی کی صدارت میں شروع ہوا اور اس میں 275 عراقی نمائندوں نے شرکت کی۔
عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (WAA) کے مطابق اس قانون پر حتمی رائے شماری سے قبل عراقی نمائندوں نے سب سے پہلے قانون کے عنوان میں ترمیم کی اور اسے “صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے جرم کا قانون” کے عنوان سے ووٹ دیا۔

عراقی پارلیمنٹ میں صیہونیت مخالف نعرے گونج اٹھے
عراقی قانون سازوں نے قانون کی منظوری کے بعد صیہونی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

ووٹ ڈالنے سے پہلے مقتدیٰ الصدر کا پیغام پڑھا گیا
مسودہ قانون پر ووٹنگ سے قبل صدر پارٹی کے سربراہ مقتدا الصدر کا ایک پیغام عراقی نمائندوں کو پڑھ کر سنایا گیا۔
اس پیغام میں انہوں نے تمام پارلیمنٹ اراکین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے جرم کے قانون پر ووٹ دیں۔
صدر پارٹی کے رہنما نے ان تمام لوگوں کی بھی تعریف کی جنہوں نے اس کام کے لیے کوشش کی۔