غزہ جنگ، مغرب دوہرے معیار اور منافقت کا مرتکب ہے: ہیومن رائٹس واچ

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے پیر کو ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ مغرب "اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی پر خاموش ہے، جبکہ وہ یوکرین کے خلاف روسی جنگ میں روسی خلاف ورزیوں کی مذمت کرنے سے نہیں ہچکچاتا۔"

فاران: انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے اسرائیلی قابض ریاست کے حوالے سے مغرب کی خاموشی کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی، منافقت، سفاکانہ لاپرواہی اور صریح دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں کے حوالے سے مغربی پالیسی کی شدید مذمت کی ہے۔

 

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے پیر کو ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ مغرب “اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی پر خاموش ہے، جبکہ وہ یوکرین کے خلاف روسی جنگ میں روسی خلاف ورزیوں کی مذمت کرنے سے نہیں ہچکچاتا۔”

 

تنظیم نے مزید کہا کہ “شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون کے مطالبات ہر ایک پر لاگو ہوتے ہیں۔

 

” اناطولیہ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ “جنگ کے قوانین میں موروثی عدم باہمی تعاون کا اصول تمام تنازعات پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ “ایک فریق کی طرف سے ان قوانین کی خلاف ورزی دوسرے فریق کی طرف سے خلاف ورزیوں کا جواز نہیں بنتی”

 

انہوں نے نشاندہی کی کہ “امریکا اور یورپی حکومتیں یوکرین کے خلاف جنگ کے دوران روس کی صریح خلاف ورزیوں کی مذمت کرتی ہیں، اور متاثرین کے لیے انصاف کے حصول کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتی ہیں”۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ “جبکہ امریکا اور یورپی ممالک نے اسرائیل کے خلاف حماس کی قیادت میں حملوں کی مذمت کی اور ذمہ داروں کا احتساب کرنے اور یرغمالیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن 7 اکتوبر سے غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں پر ان کا ردعمل خاموشی پر پرمبنی تھا۔

 

تنظیم نے استفسار کیا کہ “غزہ پر 16 سال سے مسلط محاصرے کو سخت کرنے کی واضح مذمت کہاں ہے جو کہ اجتماعی سزا کے مترادف اور یہ ایک جنگی جرم ہے؟”

 

انہوں نے مزید کہا کہ “اسرائیلی سیاسی رہ نماؤں کے بیانات پر غصہ کہاں ہے جو غزہ میں شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان ضروری فرق نہیں کرتے۔ حالانکہ وہ اس گنجان آباد علاقے پر مزید شدید بمباری کا حکم دیتے ہیں، جس سے شہر کو ملبے میں تبدیل ہو جاتا ہے؟”

 

تنظیم نے مزید کہاکہ “اسرائیل کو غزہ پر حملے میں بین الاقوامی معیارات کا احترام کرنے کی واضح اور دو ٹوک اپیلیں کہاں ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ “یوکرین کی صورتحال کے برعکس، جہاں کیف کے لیے بین الاقوامی حمایت کو متحرک کرنے اور روس کو الگ تھلگ کرنے کی کوششیں کی گئیں، دنیا اب اسرائیلی ناکہ بندی اور غزہ پر حملے سے شہریوں کو پہنچنے والے تباہ کن نقصان پر خاموش ردعمل دیکھ رہی ہے۔”

 

تنظیم نےکہا کہ “مغربی ممالک کی منافقت اور دوہرے معیارات صریح اور واضح ہیں۔ وہ دنیا بھر میں تنازعات میں پھنسے شہریوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے معیارات کو مضبوط اور متحد کرنے میں ناکام ہیں‘‘۔