غزہ میں زمینی کاروائی کے حوالے سے چلنے والی گھسی پٹی تشہیری مہم صہیونی ناکامیاں چھپانے کے لئے چلائی جا رہی ہے
فاران: حماس کے ایک مرکزی راہنما غازی حمد نے العالم نیوز چینل کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: غزہ میں زمینی کاروائی کے حوالےسے چلنے والی گھسی پٹی اور شکست خوردہ تشہیری مہم صہیونی ناکامیاں چھپانے کے لئے چلائی جا رہی ہے؛ صہیونی اب تک کوئی اہم فوجی یا سیاسی کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں، اور اپنا غصہ نہتے عوام اور بچوں پر اتار رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: وہ غزہ کے خلاف زمینی کاروائیوں میں کچھ کامیابیوں کے جھوٹے دعوے کرکے صہیونیوں کو جتانا چاہتے ہیں کہ جنگ میں صہیونی فوج کو شکست نہیں ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا: مقاومت غزہ میں طاقتور اور متحد ہے اور صہیونیوں کو ناکام بنانے کی کامیاب کوشش کر رہی ہے، ابھی تک ہم نے صہیونیوں کو اچھا خاصا نقصان پہنچایا ہے اور ان کے کئی ٹینکوں کو تباہ اور کئی غاصب فوجیوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ ہم پہلے کی طرح ثابت قدم، طاقتور اور جارحیت کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انھوں نے کہا: صہیونیوں نے اب تک صرف نہتے غیر فوجی عوام کو قتل کیا ہے۔ اگر وہ سچ بول رہے ہیں کہ حماس کے فوجیوں سے لڑرہے ہیں تو ہمارے شہداء کی فہرست جاری کرے۔ اور مستند انداز سے ثابت کریں کہ انہوں نے ہماری فوجی طاقت تک رسائی حاصل کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صہیونی دھوکے بازی، جھوٹی اور گمراہ کن جھوٹی تشہیری مہم چلا کر اسرائیلیوں کے ہارے ہوئے حوصلوں کو بحال کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ہمیں یقین ہے کہ میدان جنگ غاصب فوج کا میدان میں مقابلہ کرنا ہے۔ صہیونیوں نے صرف نہتے عوام کو ہی انتہائی بہیمانہ انداز سے قتل کیا ہے، اور بدترین المیوں کو رقم کیا ہے، جو دشمن کے لئے کسی طور بھی کامیابی قرار دہی دی جا سکتی۔
انھوں نے کہا: صہیونیوں نے حال ہی فلسطین سے باہر مقیم حماس کے راہنماؤں پر قاتلانہ حملوں کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، لیکن انہیں جاننا چاہئے کہ حماس صرف ایک تحریک یا تنظیم ہی نہیں ہے بلکہ ملت فلسطین کا ایک حصہ ہے اور اسرائیل آج حماس کے خلاف نہیں بلکہ ملت فلسطین کے خلاف بر سرپیکار ہے۔
انھوں نے کہا: مقاومت (مزاحمت) خواہ غزہ میں ہو، خواہ مغربی کنارے اور قدس شریف میں ہو خواہ فلسطین سے باہر ہو، آج ہماری ثقافت وتہذیب کا حصہ ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ پوری ملت فلسطین غاصب ریاست کے خلاف جدوجہد پر بالکل متفق ہیں۔
حمد نے کہا: عرب ممالک “مصر اور قطر”، نیز کچھ یورپی ممالک سمیت بین الاقوامی فریقوں کی طرف سے، کچھ ثالثوں کے ذریعے سے، جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں کچھ رابطے موجود ہیں؛ لیکن اس وقت ہماری اولین ترجیح غزہ پر صہیونی حملے روکنا ہے، کیونکہ اس وقت صہیونی غزہ میں اجتماعی قتل کا ارتکاب کر رہے ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ ملت فلسطین کے خلاف ہونے والے جرائم کا سارستہ روک لیں، اور غزہ کے عوام کو امدادی سامان پہنچا دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔













تبصرہ کریں