غزہ میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں: بیلجیم
فاران: بیلجیئم کے وزیر اعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا ہے کہ “غزہ میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ عالمی برادری کو غزہ میں جنگ سے متاثرہ لوگوں تک امداد کی فراہمی میں تیزی لانے کی کوشش کرنی چاہیے”۔ ڈی کرو نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر زور دیا […]
فاران: بیلجیئم کے وزیر اعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا ہے کہ “غزہ میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ عالمی برادری کو غزہ میں جنگ سے متاثرہ لوگوں تک امداد کی فراہمی میں تیزی لانے کی کوشش کرنی چاہیے”۔
ڈی کرو نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر زور دیا کہ بیلجیئم “دونوں فریقوں (قابض اسرائیل اور حماس) کو فوری طور پر جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرنے پر زور دیتا ہے”۔
انہوں نے غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت اور قیدیوں کی رہائی میں قطر کے کردار کو سراہا۔
قبل ازیں ہفتے کے روز امیر قطر نے بیلجیئم کے وزیر اعظم کے ساتھ غزہ کی پٹی میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
یہ بات دوحہ کے لوسیل پیلس میں ایک انٹرویو کے دوران سامنے آئی۔
امیر قطر نے کہا کہ “اسرائیل غزہ میں امداد کے داخلے پر پابندی لگاتا ہے۔ اس کی وجہ سے خوراک، ادویات اور ایندھن کی فراہمی کی قلت پیدا ہوئی اور ایک قحط پیدا ہوا جس نے غزہ کی پٹی میں بچوں اور بوڑھوں کی جانیں لینا شروع کر دیں‘‘۔
فلسطینی اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل غزہ پر تباہ کن جنگ مسلط کیے ہوئے ہے جس میں دسیوں ہزار شہری شہید ، زخمی، لاپتا اور جبری آغوا کیے جا چکے ہیں۔













تبصرہ کریں