غزہ پر پابندیاں اٹھانے سے متعلق اقوام متحدہ کے مطالبے کا خیر مقدم
فاران: اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” نے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے جس میں غزہ کی پٹی پر پندرہ سال سے زائد عرصے سے مسلط کیے گئے ناجائز محاصرے کے جرم کو اجاگر کرتے ہوئے اسے فوری طور پر اٹھانے کا […]
فاران: اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” نے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے جس میں غزہ کی پٹی پر پندرہ سال سے زائد عرصے سے مسلط کیے گئے ناجائز محاصرے کے جرم کو اجاگر کرتے ہوئے اسے فوری طور پر اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جمعے کی شام حماس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی ایک نئی دستاویز ہے، جو قابض صہیونی ریاست کے جرائم اور خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے دستاویزات کے سلسلے میں شامل کی گئی ہے۔
بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، قابض ریاست اور اس کے جرائم کے خاتمے کے لیے کام کرے اور جارحیت کو روکنے اور غزہ پر جاری محاصرہ کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی پراسرائیلی محاصرے کو فوری طور پر ہٹانے، پٹی میں فلسطینی معیشت کو نقصان پہنچانے والی تمام پابندیاں اٹھانے اور اسرائیلی جنگوں کے دوران تباہ ہونے والی فیکٹریوں کو دوبارہ کھولنے اور تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے 15 سال قبل غزہ کی پٹی پر مسلط محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق’اوچا‘ نے کہا کہ غزہ کی پٹی کی صورت حال کو 15 سال تک قابض ریاست کی طرف سے ناکہ بندی کے بعد تباہ کن قرار دیا جا سکتا ہے۔ غزہ کی زمینی، سمندری اور فضائی ناکہ بندی کے نتیجے میں غربت اور بے روزگاری کی شرح کو دنیا میں سب سے زیادہ بلند کیا اور معیشت کو تباہ کر دیا۔













تبصرہ کریں