فلسطین، غلیل سے راکٹ تک کا سفر

اسرائیل کے ساتھ حماس نے پہلی بار پنجہ آزمائی نہیں کی۔ برس ہا برس سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ 2021ء میں دونوں کے درمیان گیارہ دنوں تک مسلسل خوں ریز جنگ ہوئی، جو بالآخر صلح کے بعد ختم ہوگئی تھی۔ اس جنگ میں بھی اسرائیل کو ہر محاذ پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ اس بار حالات مختلف ہیں۔

فاران: حماس اور اسرائیل کے درمیان بھیانک جنگ جاری ہے۔ اس جنگ کے نقصانات کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ نقصان تو دونوں طرف ہو رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسرائیل کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں، لاکھوں تربیت یافتہ فوجی ہیں، دفاعی نظام ہے اور عالمی طاقتوں کی پشت پناہی ہے۔ دوسری طرف تنہاء حماس ہے، جس کے فوجیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ نئی ٹیکنالوجی نہیں۔جدید ہتھیار نہیں، کوئی دفاعی نظام نہیں۔ اگر فلسطین کے لوگوں کے پاس کچھ ہے تو وہ جذبۂ مزاحمت و شہادت ہے۔ عالمی رائے تو ہمیشہ فلسطین کے حق میں منافقانہ رہی ہے۔ اکثر ملکوں کا یہ کہنا ہے کہ مسئلۂ فلسطین کا حل آزاد اور خود مختار ریاست کا قیام ہے، مگر اس کے لئے کبھی مخلصانہ کوشش نہیں ہوئی۔ اس کا خمیازہ آج بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگر مسئلۂ فلسطین کے حل کے لئے عالمی طاقتوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے سنجیدہ جدوجہد کی ہوتی تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔

مگر امریکہ اور اس کے حلیف ممالک نے اسرائیل کی پشت پناہی جاری رکھی اور فلسطین کے حقوق کی پامالی کا تماشا دیکھتے رہے۔ سابق امریکی صدر نے تو “صدی معاہدہ” کے ذریعے فلسطین کے بنیادی حقوق کو ختم کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ اسی عہد میں یروشلم کو اسرائیل کا پایۂ تخت تسلیم کر لیا گیا، جس نے دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے راستے پر دھکیل دیا تھا۔ انہی یک طرفہ فیصلوں کی بنا پر آج حماس اور اسرائیل کے درمیان خوں ریز جنگ شروع ہوچکی ہے، جس کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جنگ شروع کرنا بہت آسان ہے، لیکن اس کو کسی منطقی نتیجے تک پہنچانا آسان نہیں۔

7 اکتوبر کو حماس کے جنگجو آپریٹیڈ گلائیڈرز کے ذریعے اسرائیلی سرحدوں میں داخل ہوئے۔ بیس منٹ کے دورانیہ میں پانچ ہزار راکٹ اسرائیل پر داغے گئے، جس نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو ناکارہ بنا دیا۔ اس کے بعد پوری دنیا میں حماس کو دہشت گرد کہا جانے لگا۔ کیا دنیا نے یہ نظارہ پہلی بار دیکھا کہ جب کسی ملک کی فوج نے دوسرے ملک میں گھس کر انتقامی کارروائی کی ہو؟ ہر بار ایسا ہوتا ہے اور ہر طاقتور ملک اپنے دفاع اور انتقام کے لئے دوسرے ملک کی سرحدوں میں گھس کر کارروائی کرتا آیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں تو اس میں مہارت رکھتی ہیں۔ اس وقت دہشت گردی کا الزام کیوں عائد نہیں کیا جاتا؟ آج امن کی دہائی دینے والے اس وقت کیوں گونگے بن جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب اسرائیلی فوج نہتّے اور بے گناہ فلسطینیوں کا قتل کر رہی تھی، اس وقت یہ نام نہاد امن پسند دنیا کہاں تھی؟ کیا فلسطینی بچوں اور جوانوں کو ہمیشہ بندوقوں کے نشانے پر نہیں رکھا گیا۔ کیا عورتوں کے ساتھ بدسلوکی عام نہیں تھی؟ جس غزہ کو آج تباہ کیا جا رہا ہے، اس کے لوگوں کی زندگیوں کا انحصار اسرائیل پر تھا، کیا اسرائیل نے ان کی حق تلفی نہیں کی۔؟ بجلی، پانی، دوائیں اور دوسری ضروری اشیاء کی فراہمی اسرائیل کے سپرد ہے، مگر غزہ کو صرف چار گھنٹے بجلی سپلائی دی جاتی تھی۔ کھانے پینے کی اشیاء کی سپلائی بھی بہت محدود تھی، جس پر حقوق انسانی کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار بھی کیا۔ غزہ کے اسپتالوں میں ہمیشہ دوائوں کی قلت رہی۔

اسرائیلی فوج نے جگہ جگہ فلسطین میں “چیک پوسٹ” بنا رکھے ہیں، جہاں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین پر حقارت آمیز تلاشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔فلسطین میں روزگار کے مواقع بھی نہیں ہیں۔ انہیں کام کرنے کے لئے اسرائیل سے اجازہ (پرمٹ) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اجازہ کی منسوخی کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی، اس بنا پر جو لوگ اسرائیل میں رہ جاتے ہیں، انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ ان کی زمین پر مسلسل قبضے کی کوشش ہے اور فلسطین سکڑتا جا رہا ہے۔ ان تمام مسائل پر کبھی عالمی میڈیا اور استعماری طاقتوں نے بات نہیں کی، کیونکہ اسرائیل استعمار کا پروردہ اور عالمی میڈیا اس کا “طوطا” ہے۔

اسرائیل اس وقت عالمی سطح پر خود کو مظلوم ظاہر کر رہا ہے۔ میڈیا چونکہ اس کے زیر اثر ہے، اس لئے مظلومیت کی تشہیر میں بھرپور معاونت کی جا رہی ہے۔ غزہ پر ممنوعہ بموں کا استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن دنیا خاموش ہے۔غزہ کی طرف سے اگر پتھر بھی پھینک دیا جاتا ہے تو اسے اس طرح پیش کیا جا رہا ہے، جیسے ایٹم بم مار دیا ہو۔ یہ وہ فلسطینی ہیں، جنہوں نے غلیل سے راکٹ تک کا سفر طے کیا ہے۔ اسی بنا پر آج وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اسرائیل کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ جب فلسطینی پتھروں، اینٹوں، غلیلوں اور اپنی جان کی بازی لگا کر جدید ترین ہتھیاروں کا مقابلہ کر رہے تھے، اس وقت بھی دنیا اسرائیل کو دہشت گرد کہنے کی جرأت نہیں کر پا رہی تھی، آج تو پھر بھی حالات بہت مختلف ہیں۔ اس ذہنیت کے پیچھے اسلامو فوبیا بھی کار فرما ہے۔ دنیا میں دہشت گردی کا فروغ اسی دُہری اور منافقانہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ جس دن دنیا ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت میں کھڑی ہو جائے گی، دہشت گردی ختم ہو جائے گی۔

حماس کے جنگجو اسرائیل میں داخل ہوچکے ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ بے گناہ شہریوں کا قتل کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی عوام کی طرف سے جاری ویڈیوز اور وہائٹ ہائوس کے بیان میں بھی اس کی تردید کی گئی ہے۔حماس نے بھی کہا ہے کہ وہ کبھی عورتوں اور بچوں کو نہیں مارتے۔ اس کے باوجود میڈیا میں مشتہر کیا جا رہا ہے کہ حماس “داعش” کے دہشت گردوں کی طرز پر عورتوں اور بچوں کا قتل کر رہی ہے۔ اس کے برعکس غزہ پر ہونے والے حملوں، بے گناہ شہریوں کی اموات، بچوں کے بہیمانہ قتل اور ضروری سہولیات پر عائد پابندی پر نام نہاد امن پسندوں کی زبانیں گنگ ہیں۔ اسرائیل نے چوبیس گھنٹے میں غزہ کے شمالی علاقے کو خالی کرنے کا انتباہ دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے گیارہ لاکھ فلسطینیوں کے انخلا کو ناممکن عمل قرار دیا۔ اس پر عالمی طاقتوں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ یہ گیارہ لاکھ لوگ شمالی غزہ کو چھوڑ کر کہاں جائیں گے، اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

عالمی طاقتوں نے برتری کے جنون اور تیل کے ذخائر پر قبضے کی ہوس میں عراق کو تباہ کر دیا۔ “داعش” کو جنم دے کر شام پر مسلط ہونے کی کوشش کی۔ یمن کو بھکمری کے دہانے پر پہنچا دیا۔ “طالبان” کو وجود بخشا اور پھر افغانستان کو طالبانی دہشت گردی کا بہانہ بنا کر برباد کر دیا۔ اس پر ستم یہ کہ آناً فاناً میں افغانستان سے فوجی انخلاء کا اعلان کرکے اقتدار طالبان کو سونپ دیا۔ عراق پر صدام حسین کے زمانے میں فرضی الزامات کے تحت حملہ کیا گیا، جبکہ عالمی تحقیقی ایجنسیوں کی رپورٹ میں بارہا یہ کہا گیا کہ عراق پر جن الزامات کے تحت حملہ کیا گیا تھا، وہ درست نہیں پائے گئے، اس کے باوجود کسی نے امریکہ کو دہشت گرد کہنے کی جرأت نہیں کی۔ آخر دہشت گردی پر یہ دُہرا رویہ کب ختم ہوگا؟ یہی صورت حال فلسطین کے ساتھ کارفرما ہے۔ اس کی مزاحمتی تنظیموں کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے، تاکہ فلسطین پر حملے کو جائز ٹھہرایا جاسکے۔

معلوم ہونا چاہیئے کہ اس وقت دنیا دو رائے ہوچکی ہے۔ اگر یہ جنگ جلد ہی بند نہیں کرائی گئی تو دنیا تیسری جنگ عظیم میں مبتلا ہوسکتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عرب ملکوں کی غیرت اب بھی بیدار نہیں ہوئی۔ یہ وقت مذمتی بیان جاری کرنے کا نہیں، عملی اقدام کا تھا۔ اسرائیل جو عربوں سے شدید نفرت کرتا ہے، اس کے ساتھ عربوں کو معاہدہ کرکے کیا حاصل ہوگا؟ یہ جنگ اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی بن گوئیر کے عزائم کا نتیجہ ہے۔ بن گوئیر نے جب فلسطین کے پرچم لہرانے کو دہشت گردی کی حمایت قرار دیا تھا، اس وقت عرب ملکوں کو سختی کے ساتھ مخالفت کرنا چاہیئے تھی۔ بن گوئیر وہ شخص ہے، جو عربوں سے سخت نفرت کرتا ہے اور فلسطین کے دو ریاستی حل کے حق میں نہیں ہے۔ نتین یاہو کی کابینہ میں ایسے شخص کے ہونے کو فال بد قرار دیا گیا تھا، جو میر کہانے کا شاگرد ہے، جسے امریکہ نے دہشت گرد کہا تھا، اس کا خمیازہ آج اسرائیل سمیت پوری دنیا کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ حماس نے پہلی بار پنجہ آزمائی نہیں کی۔ برس ہا برس سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ 2021ء میں دونوں کے درمیان گیارہ دنوں تک مسلسل خوں ریز جنگ ہوئی، جو بالآخر صلح کے بعد ختم ہوگئی تھی۔ اس جنگ میں بھی اسرائیل کو ہر محاذ پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ اس بار حالات مختلف ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کے رہائشی علاقوں پر ممنوعہ ہتھیاروں سے حملہ کر دیا ہے۔ حالات بہت تشویش ناک ہیں۔ البتہ حماس نے جس مقصد کے تحت حملہ کیا تھا، وہ پہلے ہی دن پورا ہوگیا تھا۔ اس نے دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ اسرائیلی سرحدوں میں نفوذ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے دفاعی نظام “آئرن ڈوم” کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ اس کی انٹلیجنس کو چکمہ دینا ناممکن نہیں ہے۔ گویا اسرائیل ناقابل تسخیر نہیں ہے، جیسا کہ مشہور کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کو اس مسئلے میں پیش رفت کرنی چاہیئے۔ اس مسئلے کا واحد حل فلسطینیوں کو ان کے حقوق کی بازیابی ہے۔ اس کے بغیر جنگ کا یہ سلسلہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔ اگر آج کسی کی مداخلت سے فریقین جنگ بندی پر رضامند ہو بھی گئے ، تب بھی آئندہ جنگ کے شعلوں کو بھڑکنے سے روکا نہیں جاسکے گا۔