فلسطینی اراضی ہتھیانے کا نیا صہیونی حربہ

فلسطینیوں کی وراثت کو محدود کرنے کا فیصلہ فلسطینی شرعی عدالت سے حاصل کرنا ہوگا جو آباد کاروں کی نظر میں زمین کی فروخت کے سودے میں رکاوٹ ہے۔

فاران: قابض اسرائیلی فوج میں نام نہاد “سینٹرل ریجن کمانڈر” یہودا فاکس نے ایک “فوجی حکم” جاری کیا ہے جس میں یہودی آباد کاروں کو مغربی کنارے کی زمینوں کی فروخت میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ حکم “فلسطینیوں” کو جو اپنی زمین آباد کاروں کو فروخت کرنا چاہتے ہیں، فلسطینی آئینی عدالت کے بجائے اسرائیلی “عدالت” سے “وراثت کی فہرست” کا فیصلہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

“فاکس” نے دعوی کیا کہ یہ اقدام “فلسطینی فروخت کنندگان کی حفاظت کرتا ہے۔

اخبار اسرائیل ہیوم نے منگل کوایک رپورٹ میں اشارہ کیا کہ “آباد کاروں نے قابض فوج سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یہ فوجی حکم نامہ جاری کرے وراثت کو زمین کی فروخت کے سودوں تک محدود کرنے کے فیصلے کی ضرورت کے بعد زمین کی ملکیت ثابت کریں۔

فلسطینیوں کی وراثت کو محدود کرنے کا فیصلہ فلسطینی شرعی عدالت سے حاصل کرنا ہوگا جو آباد کاروں کی نظر میں زمین کی فروخت کے سودے میں رکاوٹ ہے۔

اخبار نے مزید کہا کہ فلسطینی جماعتیں مغربی کنارے میں آباد کاروں کو اراضی کی منتقلی اور انہیں فروخت کرنے کے خلاف کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کی “پریوینٹیو سکیورٹی سروس” ان جماعتوں میں سے ایک ہے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ فلسطینیوں پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ آباد کاروں کو اپنی زمینیں فروخت کرنے سےباز رہیں۔ فلسطینیوں کو اپنی اراضی یہودیوں کو فروخت کرنے پر سزائیں دیتی ہے۔

اخبار نے مزید کہا کہ مغربی کنارے کے قوانین میں قانونی ماہر اور Begin Institute for Law and Zionism کے سربراہ ہاگائی وینٹز 2019 میں اسرائیلی فوج اور سول انتظامیہ کے حکام کے پاس گئے اور تجویز پیش کی کہ ان فلسطینیوں کو جو اپنی ارضی یہودیوں کو فروخت کرنا چاہتے ہیں انہیں سہولت فراہم کی جائے۔

اس نے مزید کہا  کہ اس کا  مقصد فلسطینیوں کو اجازت دینا تھا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی اور پریوینٹیو سکیورٹی کے اراکین کی مداخلت اور پیروی کے بغیر وراثت کو محدود کرنے کا فیصلہ حاصل کر سکیں۔