فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد کی تحقیقات کرائی جائیں: اقوام متحدہ

یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہی۔

فاران: اقوام متحدہ نے اسرائیلی فوج کے زیرانتظام بدنام زمانہ حراستی کیمپ “سدے تیمان” میں اسرائیلی قابض فوجیوں کے ہاتھوں ایک فلسطینی قیدی پر جنسی حملے کے مناظر کی کیمرے کی ریکارڈنگ سامنے آنے کے بعد اس واقعے کی انکوائری اور جنسی تشدد میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہی۔

اقوام متحدہ کے اہلکار نے کہا کہ ’’ہم نے خود فلسطینی اسیران کی صورت حال کے حوالے سے اپنے خدشات کے بارے میں خصوصی رپورٹیں شائع کی ہیں‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ “اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کے شعبے میں کام کرنے والے ہمارے ساتھی ان تمام الزامات پر نظررکھیں گے “۔

انہوں نے مزید کہا کہ “ہم سمجھتے ہیں کہ بنیادی انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزیوں سے متعلق ان تمام الزامات کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے اور احتساب کو یقینی بنایا جانا چاہیے”۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں اسرائیلی فوجی اہلکاروں کو ’سدی تیمان‘ عقوبت خانےمیں جنسی تشدد کا نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا تھا۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا اور فلسطینی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی تھی۔