’مکانات کی مسماری اور تعمیرات پر پابندی فلسطینی وجود کے خلاف جنگ ہے

حمادہ نے جمعرات کو ایک پریس بیان میں مزید کہا کہ قابض فوج کی جانب سے گذشتہ دو دنوں کے دوران مقبوضہ بیت المقدس میں مکانات، عمارتوں اور تنصیبات کی تعمیر پر پابندی اور مسماری کے درجنوں احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

فاران: مقبوضہ بیت المقدس میں حماس تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان محمد حمادہ نے کہا ہے کہ القدس میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے احکامات اور ان پر تعمیرات پر پابندی “یہودائزیشن” کی پالیسی اور فلسطینیوں کی موجودگی کے خلاف جنگ ہے۔ اس جنگ کا مقصد القدس میں فلسطینی آبادی کو اقلیت میں بدلنے اور القدس کی تاریخی خصوصیات کو مٹانا ہے مگر صہیونی دشمن کی یہ جنگ کامیاب نہیں ہوگی۔

حمادہ نے جمعرات کو ایک پریس بیان میں مزید کہا کہ قابض فوج کی جانب سے گذشتہ دو دنوں کے دوران مقبوضہ بیت المقدس میں مکانات، عمارتوں اور تنصیبات کی تعمیر پر پابندی اور مسماری کے درجنوں احکامات جاری کیے گئے ہیں۔اس مہم کو مزید وسعت دینے کا ارادہ ہے۔ آنے والے دنوں میں صہیونی ریاست مقدس شہر میں فلسطینیوں کی موجودگی کے خلاف مزید اقدامات کا ارادہ رکھتی ہے جو کہ فلسطینی وجود کے خلاف کھلی جنگ ہے۔ وہ القدس میں خیانت مسلط کرنے یا اس کی تاریخی خصوصیات کو مٹانے میں کامیاب نہیں ہو گا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ القدس ایک خالص فلسطینی سرزمین ہے اور اس پرفلسطینیوں کے سوا کسی کی حاکمیت نہیں۔ ہمارے ثابت قدم، مجاھدین اور مزاحمتی فورسزاپنی سرزمین پر ثابت قدم رہیں گے، اپنی دستیاب صلاحیتوں کے ساتھ اس بھیانک جنگ کا مقابلہ کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ فلسطینی قوم کو نہ صرف صہیونی ریاست کی جنگ کا سامنا ہے بلکہ امریکی بھی فلسطینی قوم کے حقوق دبانے میں قابض دشمن کے ساتھ کھڑے ہیں۔

حمادہ نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں مزاحمت کوآزاد کرنے، ہماری تمام مقبوضہ سرزمین پر ہر قسم کی جدوجہد کو تیز کرنے اور قابض دشمن کی پیش رفت کو روکنے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔