نیتن یاہو اور جوبائیڈن کے درمیان کشیدگی عروج پر
فاران: ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ شدید تصادم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں فریق کے درمیان تعلقات تقریباً ناقابل واپسی کے مرحلے میں پہنچ گئے ہیں۔
فارس نیوز کے مطابق اسرائیل کے چینل 12 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو امریکی انٹیلیجنس رپورٹ پر ناراض ہیں کہ وہ اقتدار سے محروم ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ روز عبرانی اخبار یدیعوت آحارنوت نے لکھا کہ سی آئی اے کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وزیر اعظم نتن یاہو اور ان کے مذہبی اور انتہائی دائیں بازو کے اتحاد کی صورت حال بہت ہی خطرے میں ہے۔
امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا اندازہ یہ تھا کہ نیتن یاہو کی حکومت کرنے کی صلاحیت پر اعتماد کی کمی اسرائیلیوں میں گہری ہو گئی ہے اور ان کے استعفے کے لیے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے جانے کی توقع ہے۔
اسرائیلی کان نیٹ ورک نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی حالیہ رپورٹ پر تبصرہ کرنے والے ایک اہلکار کے حوالے سے یہ بھی اطلاع دی کہ اسرائیل اب امریکی حفاظت میں نہیں ہے۔













تبصرہ کریں