کیا ”انتقام سخت“ کا وقت قریب ہے؟
فاران: شہید عماد مغنیہ اور شہید قاسم سلیمانی کی شہادت اسراٸیل کے خلاف مقاومتی محاذ کے لیے یقیناً ناقابل برداشت تھی۔ اہل مقاومت نے ان شہداء کے انتقام کا شعلہ ابھی تک اپنے سینوں میں پال رکھا ہے۔ یہ شعلہ جوالا بننے کے لیے کسی مناسب وقت کے انتظار میں ہے۔ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ان کے فوری انتقام کا نعرہ بلند ہوا، لیکن اسلامی جمہوری ایران کی بابصیرت قیادت اس انتقام کو عملی صورت دینے کے کے لیے کسی مناسب موقعے کی منتظر تھی۔ مقاومت کے محاذ پر پیدا ہونے والی نئی گرمی نے صورت حال کو اہل مقاومت کے حق میں یکسر بدل دیا ہے۔ اس وقت اسراٸیل کے خلاف ”حماس“ نے جو اچانک کاررواٸی کی ہے، اس نے سطح زمین کے نیچے اور اس کے اوپر کئی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے۔ ان تبدیلیوں نے اسراٸیل کے کھوکھلے وجود کو مزید آشکار کر دیا ہے۔
اس سے پہلے 2006ء میں سید مقاومت سید حسن نصراللہ نے اسرٸیل کو ”تار عنکبوت“ ثابت کر دیا تھا۔ اسراٸیل اور اہل فلسطین کے مابین موجودہ معرکے میں اب سب کی نظریں اس جنگ کے اگلے مرحلے پر لگی ہوٸی ہیں۔ وہ مرحلہ جب اسراٸیل کی زمینی افواج زمین پر قدم رکھیں گی اور ان کا سامنا زمینی حقیقتوں سے ہوگا۔ ابھی تو وہ نہتے لوگوں کے خون سے اپنی کامیابی کے ایسے افسانے لکھ رہی ہیں، جو درحقیقت ان کی شکست کی داستان ہے۔موجودہ جنگی فضا میں اس وقت تمام لوگوں کی نظریں ”حزب اللہ“ پر اٹکی ہوٸی ہیں اور وہ ایران کے اشاروں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ حزب اللہ زیادہ انتظار نہیں کرے گی اور جنوبی لبنان کی سرحد کی جانب سے مکمل طور پر اسراٸیل کے خلاف میدان جنگ میں کود پڑے گی۔
جبکہ بعض ذراٸع کے مطابق ایران نہیں چاہتا کہ 2006ء کی طرح اس جنگ کا بھی تمام بوجھ حزب اللہ کے شانوں پر رکھ دیا جائے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اسراٸیل کو اب کی بار ایک نئے محاذ کا مزہ چکھایا جاٸے اور وہ محاذ ہے ”جولان“ کا محاذ۔ جولان وہ علاقہ ہے، جو اسراٸیل نے شام سے چھینا تھا۔ ذراٸع کے مطابق اس محاذ کو گرم کرنے کے لیے کئی مقاومتی گروہ اپنے سینکڑوں اراکین کے ساتھ اس علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔ جن میں ایران، شام، عراق اور دوسرے علاقوں کے مجاہدین شامل ہیں۔ حزب اللہ کے اراکین پہلے سے ہی اس علاقے میں موجود ہیں۔
شام کی حکومت کی اگرچہ پہلے یہ پالیسی تھی کہ اسراٸیل کے کسی فضاٸی حملے کا جواب نہ دیا جاٸے بلکہ محض دفاعی کاررواٸی پر ہی اکتفا کیا جائے۔ لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے جس طرح اسراٸیل شام کے ایئر پورٹس اور اس کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہا ہے، شام کی حکومت بھی یہ سمجھتی ہے کہ اب وہ وقت آگیا کہ اسراٸیل کو ان کاررواٸیوں کا جواب دیا جائے۔ لہٰذا اس بات کا قوی امکان پایا جاتا ہے کہ ایران اور باقی مقاومتی گروہ دنیا کو پہلے سے بڑا کوٸی سرپراٸز دیں۔













تبصرہ کریں