کیا جنگ علاقائی سطح پر پھیلنے والی ہے؟
فاران: امریکہ نے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی حمایت اور دفاع کیلئے برطانیہ سے مل کر یمن کے خلاف بھرپور جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکی حکمرانوں نے دعوی کیا ہے کہ یمن پر فضائی حملوں کا مقصد غزہ جنگ کو خطے کی سطح تک پھیل جانے سے روکنا ہے لیکن ان […]
فاران: امریکہ نے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی حمایت اور دفاع کیلئے برطانیہ سے مل کر یمن کے خلاف بھرپور جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکی حکمرانوں نے دعوی کیا ہے کہ یمن پر فضائی حملوں کا مقصد غزہ جنگ کو خطے کی سطح تک پھیل جانے سے روکنا ہے لیکن ان کے اس دعوے اور عمل میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ وہ یمن کے خلاف بھرپور جنگ شروع کر کے نہ صرف غزہ جنگ کو خطے کی حد تک پھیلنے سے روک نہیں پائیں گے بلکہ خود اس جنگ کو علاقائی سطح پر پھیل جانے کا مقدمہ فراہم کر رہے ہیں۔ اسی طرح امریکہ نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ یمن پر حملوں کا مقصد انصاراللہ یمن کو بحیرہ احمر میں اسرائیلی کشتیوں پر حملوں سے باز رکھنا ہے۔ واشنگٹن جو اپنے مفادات کے خلاف اقدامات کے مزید پھیل جانے سے خوفزدہ ہے، نے یمن پر جارحیت کیلئے لندن کو بھی اپنے ساتھ ملا رکھا ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے یمن پر فضائی حملوں کی وضاحت کیلئے جو بیانیہ جاری کیا ہے اس میں برطانیہ کے علاوہ کئی دیگر ممالک جیسے کینیڈا، آسٹریلیا، ہالینڈ اور بحرین کو بھی اپنا حامی ظاہر کیا گیا ہے۔ یمن پر فضائی حملوں کے بعدا جاری ہونے والے اس بیانئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک تو امریکہ انتہائی تشویش کے عالم میں اپنے اقدامات کو عالمی برادری سے منسوب کرنے کیلئے کوشاں ہے تاکہ اسلامی مزاحمت کی ممکنہ جوابی کاروائی صرف امریکہ کی حد تک محدود نہ رہے، اور دوسرا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمن کے خلاف منظور کی گئی قرارداد نمبر 2272 کے کچھ ہی گھنٹے بعد یہ فضائی حملے انجام دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں اپنے ظالمانہ ہتھکنڈے بروئے کار لائے گا اور وہ “اتحاد سازی کی طاقت” سے بھی برخوردار ہے۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یمن پر فضائی حملوں کی اس انداز میں اعلانیہ اطلاع رسانی انجام پائی کہ گویا امریکہ ایک کنٹرول شدہ جارحیت کا منصوبہ رکھتا ہے۔ انہوں نے اصل میں یوں یہ وارننگ جاری کی ہے کہ انصاراللہ فورسز اپنے ٹھکانوں اور فوجی سازوسامان سے دور ہو جائیں تاکہ ان کا زیادہ جانی نقصان نہ ہو۔ صنعاء میں دیلمی ایئربیس، صعدہ میں کہلان بیس، مختلف فوجی تنصیبات جو حدیدہ کے پرانے اڈے ہیں وغیرہ امریکی اتحاد کے فضائی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ یہ وہ روایتی اہداف ہیں جو 2015ء میں یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت کے بعد دسیوں بلکہ سینکڑوں بار فضائی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ممکن ہے نقشے پر وہ بہت ہی اہم اور قیمتی اہداف محسوس ہوتے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ متروکہ ہیں اور انصاراللہ یمن نے پہاڑوں کے اندر سرنگیں کھود کر ایسے اڈے بنا رکھے ہیں جو حتی ایٹم بم کے مقابلے میں بھی مضبوط ہیں۔
امریکہ اور برطانیہ ان روایتی ٹھکانوں پر حملہ کر کے اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ امریکہ کمزور نہیں ہوا ورنہ یمنی فورسز ہر گز دوبارہ ایسے ٹھکانوں میں واپس نہ جاتے جو فضائی دفاع کی کمزوری کے باعث نشانہ بن چکے تھے۔ مزید برآں، امریکہ کی جانب سے بحیرہ احمر میں انصاراللہ کی تین کشتیوں پر حملہ کر کے دس حوثی مجاہدین کو شہید کرنے اور انصاراللہ کی جانب سے جوابی کاروائی کے طور پر میزائل اور ڈرون حملوں کے درمیان دس دن کا فاصلہ دیکھا گیا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ یمن فوج کی جانب سے اپنے اہم ٹھکانوں کو نئی جگہ منتقل کرنا تھا۔ یعنی حملہ کا فیصلہ پہلے دن سے ہی کیا جا چکا تھا اور صنعاء میں سب جانتے تھے کہ اس جوابی کاروائی کے بعد تناو مزید بڑھ جائے گا۔
جمعہ کی صبح بھی امریکہ اور برطانیہ کے فضائی حملوں کے جواب میں انصاراللہ یمن نے میزائل اور ڈرون طیاروں کے ذریعے امریکہ کے طیارہ بردار جہاز آئزن ہاور اور جنگی کشتیوں گراولی، میسن اور لیبن کو حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ یمنی فوج کے بارے میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی صورت میں بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ لہذا توقع ہے کہ مستقبل میں مقبوضہ فلسطین کی جانب آمدورفت کرنے والی تجارتی کشتیوں نیز امریکہ اور برطانیہ کی جنگ کشتیوں پر حوثی مجاہدین کے حملے جاری رہیں گے۔ یوں جنگ کے اگلے مراحل کے بارے میں تجزیہ بہت دشوار ہو جاتا ہے اور جنگ کی نوعیت بہت حد تک مغربی ممالک کی جانب سے یمن سے براہ راست جنگ کو جاری رکھنے کے فیصلے پر منحصر ہے۔ اگر امریکہ انصاراللہ یمن کی فوجی کاروائیوں کا جواب دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ ہمیں اس کا حق حاصل ہے تو ایسی صورت میں وسیع جنگ کا آغاز ہو جائے گا۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اب تک انصاراللہ کے خلاف امریکی حملوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور یمن نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ گذشتہ چند ماہ میں رونما ہونے والے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن مغربی ممالک کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ جب سے یمن نے اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے مغربی حکمران سمجھ گئے ہیں کہ اسلامی مزاحمت کی مختلف محاذوں میں اتحاد کی حکمت عملی محض نظریے تک محدود نہیں رہی بلکہ عمل کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ لہذا امریکہ اور اس کے اتحادی بخوبی آگاہ ہیں کہ امریکہ اور یمن میں جنگ کا تسلسل خطے کو بے قابو کر سکتا ہے۔ غزہ میں صیہونی رژیم کی ذلت آمیز شکست کے بعد یمن پر جارحیت نے جو بائیڈن کے سیاہ کارناموں میں اضافہ کر دیا ہے اور خطے کی اقوام میں امریکہ اور برطانیہ کے خلاف نفرت مزید بڑھ گئی ہے۔ اب یمن بحیرہ احمر میں امریکہ اور برطانیہ کی تجارتی کشتیوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔ کیا امریکہ اس سے ہونے والے اقتصادی نقصان کیلئے تیار ہے؟













تبصرہ کریں