یمن نے کی اسرائیلی معیشت کیسے تباہ

ویسے بھی یمنی عوام نے صیہونی حکومت کی معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ صہیونی فوج کے اقتصادی نتائج جب اپنا رنگ دکھائیں گے تو اس کے پاس پسپائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

فاران: مقبوضہ فلسطین کی طرف جانے والے تجارتی بحری جہاز آبنائے باب المندب سے ہوتے ہوئے بحیرہ احمر میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں سے انہیں مصر کی نہر سویز کی بندرگاہ اور پھر اشدود یا حیفہ کی بندرگاہ پر منتقل کیا جاتا ہے۔ لیکن آج غزہ کی جنگ اور صیہونی حکومت کے خلاف یمن کی بحری وارننگ کی وجہ سے جس میں انصاراللہ نے خبردار کیا ہے کہ جب تک غزہ کی ناکہ بندی ختم نہیں ہو جاتی اور خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات اس علاقے تک نہیں پہنچ جاتیں، ایسا کوئی بھی بحری جہاز اس علاقے سے نہیں گزر سکتا، جس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق اسرائیل سے ہوگا۔ یمن کے مجاہدین نے کہا ہے کہ باب المندب کے راستے مقبوضہ علاقوں تک آنے جانے کی اجازت دی نہیں دی جائے گی۔

یمنی دھمکی کے بعد آبنائے باب المندب سے بڑی تعداد میں بحری جہازوں کا راستہ تبدیل

واضح رہے کہ صیہونی حکومت کی بندرگاہوں تک پہنچنے کے لیے بدلے گئے راستے کی وجہ سے 17 سے 22 دن کا سفر بڑھ جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ جس کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات اور سامان کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور یہاں تک کہ اسرائیلی حکومت نے کچھ کاروباری لین دین اور تجارتی تبادلے کو اسرائیل میں ملتوی یا منسوخ کرنا ضروری سمجھا ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ ایلات کی بندرگاہ جو فلسطینی مزاحمتی گروہوں سے دوری کی وجہ سے صیہونی حکومت کے لیے محفوظ سرحد سمجھی جاتی تھی، اب بحری جہازوں اور تجارتی سرگرمیوں سے خالی ہے۔ مصری نیٹ ورک “القرہ الاخباریہ” نے پہلی بار ایلات کی بندرگاہ کی تصویر شائع کی ہے اور کہا ہے کہ یمنی دھمکیوں کے نتیجے میں یہ بندرگاہ بحری جہازوں سے خالی ہے۔

غزہ جنگ سے پہلے، اعداد و شمار کے مطابق 2022ء میں ایشیائی ممالک کو اسرائیل کی برآمدات 16.5 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ تک پہنچ گئی تھیں۔ Statista [statista] کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کے مقابلے میں یہ اضافہ متوازن تھا۔دوسری جانب اسرائیل اور ایشیائی ممالک کے درمیان وسیع سیاحتی تعلقات ہیں۔سیاح کئی ایشیائی ممالک خصوصاً جنوبی کوریا اور جاپان سے اسرائیل آتے ہیں۔ 2020ء میں اسرائیل میں جنوبی کوریا سے آنے والے سیاحوں کی تعداد 17 ہزار سے زائد تھی۔

غزہ جنگ کے بعد تل ابیب کی معیشت کو شدید دھچکا لگا اور اسی مناسبت سے واشنگٹن پوسٹ نے جنگ سے اسرائیلی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا: ’’اسرائیل کی معیشت کو بہت زیادہ دھچکا لگا ہے اور اس کے اثرات غزہ پر پڑے ہیں۔ جدید آئی ٹیک سیکٹر کی صورت حال تشویشناک ہے۔اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں اسرائیل کے لیے غزہ جنگ کی لاگت کا تخمینہ 18 بلین ڈالر یا تقریباً 220 ملین ڈالر لگایا گیا ہ
حال ہی میں صیہونی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس حکومت کی فوج 5 جنگی بریگیڈز کو فارغ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ عبرانی ویب سائٹ “والا” نے اعلان کیا کہ غزہ میں میدان میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق، توقع ہے کہ جن اضافی فوجیوں کو خدمات کے لیے بلایا گیا تھا، انہیں اگلے ہفتے کے اندر فوج سے باہر کر دیا جائے گا۔ لیکن “ٹائمز آف اسرائیل” اخبار نے لکھا ہے کہ غزہ سے نکلنے والی بریگیڈز کو “اسرائیلی معیشت کی تعمیر نو” میں مدد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ویسے بھی یمنی عوام نے صیہونی حکومت کی معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ صہیونی فوج کے اقتصادی نتائج جب اپنا رنگ دکھائیں گے تو اس کے پاس پسپائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔